ایران، امر یکہ کشیدگی اور پاکستان

ایران، امر یکہ کشیدگی اور پاکستان
ایران، امر یکہ کشیدگی اور پاکستان

  



پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہو نے والی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔یہ کشیدگی بغداد میں ایک امریکی حملے میں ایرانی کمانڈو فورس القدس کے کمانڈر اینڈ چیف جنرل قاسم سلیمانی کے شہید ہونے کے بعد پیدا ہوئی، جبکہ حال ہی میں اس کے جواب میں بغداد پر امریکی فو جی اڈوں پر راکٹوں سے شدید حملہ ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ حملہ ایران نے کیا ہے،مگر ایران نے ابھی تک حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر گہرے دُکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے اس قتل کا بدلہ لینے کا عندیہ دیا ہے،جو ایرانی قوم کے مطابق ایک بہت ہی دلیرانہ اور جرأت مندانہ قدم ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے کسی بھی ناگہانی صورتِ حال میں اسرائیل پر بھی حملہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

نہ صرف یہ،بلکہ ایران نے جوہری معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے اور یورینیم کی افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کردیا ہے۔ ایران میں اس وقت امریکہ کے خلاف شدید مظاہرے ہو رہے ہیں اور ایرانی عوام حکومت سے افغانستان میں موجود امریکی اڈوں پر حملہ کرنے کا مطا لبہ کر رہے ہیں، حالات کو مزید کشیدگی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں پہلے تو امریکہ نے ایران سے امریکی اڈوں پر حملہ نہ کرنے کی درخواست کی تھی،پھر تازہ ترین صورتِ حال میں امریکہ نے ایرانی حملے کی دھمکی کے جواب میں ایران کے 52 مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ درحقیقت امریکہ کو اس حماقت سے باز رہنا چاہئے تھا۔اس پاور گیم کے نشے میں امر یکہ دُنیا کو آگ میں جھونک رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ ایک اور جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا،مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس معذرت خواہانہ بیان کے سوا اقوام متحدہ سے کچھ اور امید کی بھی نہیں جا سکتی۔

خدانخواستہ اگر یہ جنگ شروع ہو گئی تو اس کے اثرات پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے اور ممکن ہے کہ یہ ورلڈ وار تھری کا پیش خیمہ ثابت ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران کوئی عراق کی طرح بکھرا ہو مُلک نہیں ہے،اگر اس کی تاریخ کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ پرشین امپائر نے بہت عرصے تک ناصرف دُنیا پر حکمرانی کی ہے،بلکہ اس قوم کو آج تک کسی بھی دوسری قوم نے غلام نہیں بنایا۔ اس کے علاوہ ایران کی تاریخ چار ہزار سال سے بھی پرانی ہے۔ کہا جا تا ہے کہ ایرانی قوم جنگ کے ایسے داؤ پیچ جانتی ہے کہ دشمن کا ان کو شکست دینا تقریباً ناممکن ہے۔اگر موجودہ از بکستان، تاجکستان، اور ترکمانستان تینوں کے محل و قوع کا جائزہ لیں تو یہ ممالک ایک وقت تک پرشین امپائر کا حصہ تھے، پھر ایران، عراق وار میں ایران کا دس سال تک استقامت سے ڈ ٹ کر صدام کی آمریت کا مقابلہ کرنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ امریکہ کا ایران کی سالمیت پر یہ کوئی پہلا حملہ نہیں، ایران، عراق جنگ بھی اسی کا شاخسانہ تھا۔

اس جنگ کو اگر امریکن وار کہا جائے تو ہر گز غلط نہ ہو گا۔بہرحال موجودہ صورتِ حال کو دیکھا جائے، تو روس، چین اور ایران ایک نکتے پر ہیں اور امریکہ اور اسرائیل دوسرے پر۔اس صورتِ حال میں او آئی سی اور اقوام متحدہ کو سنجیدگی سے اس ہولناک تباہی سے دُنیا کو بچانے میں اپنا کردار ادا کر نا ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی روائتی بیانات سے آگے بڑھ کر خطے کے امن کے لئے اپنی کوشش کرنا چاہئے۔ پاکستان کو اس خطرناک صورتِ حال میں تمام مسلم ممالک کو اکٹھا کر کے امریکہ کو اس کے مذموم مقاصد سے روکنا اور خطے کو جنگ کی خوفناک تباہی سے بچانا چاہئے۔ درحقیقت خطے کا امن اور سلامتی علاقائی سالمیت کے لئے بہت اہم ہے۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو فوری طور پر عملی ا قدامات کر نا ہوں گے اور کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

خدا نے پاکستان کو ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بہتری لانے کا ایک اہم مو قع فراہم کیا ہے۔اس وقت پاکستان کو عملی اقدامات اٹھا کر ایران کی اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھنی چاہئے اور ایران کو اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑنا چاہئے۔ قوی امکان ہے کہ صورتِ حال اب روز بروز مزید خراب اور سنگین ہو گی، بالخصوص ایران کی جانب سے ممکنہ طور پر امریکہ کے خلاف سخت ردعمل کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان پر بُرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،بلکہ پوری دُنیا بھی ان اثرات کی لپیٹ میں آ سکتی ہے،جس کی متعدد وجوہات ہیں،کہ ایرانی تیل کی بندش سب سے اہم معاملہ ہے۔ اس وقت انڈ یا، روس اور چین ایران کے تیل کی سب سے بڑی مارکیٹ ہیں۔ ایران پوری دُنیا میں تیل پیدا کرنے والا اہم ترین ملک ہے، اس لئے اگر ایران کسی بھی مشکل سے دوچار ہوا تو پوری دُنیا اس کا خمیازہ بھگتے گی۔ عالمی منڈی پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے تو پاکستان میں ہر شے اس قدر مہنگی ہو جائے گی کہ عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہو گی۔ا بھی تک عالمی طاقتوں کی طرف سے مجرمانہ خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے۔ بہرکیف پاکستان کو اپنی اندرونی اور بیرونی صورتِ حال پر نظر رکھنا ہو گی۔ اس صورتِ حال سے ملک دشمن عناصر فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور ملک کو کسی بھی فرقہ وارانہ فساد میں دھکیل سکتے ہیں۔ پاکستانی حکومت کو بڑی حکمت اور دانائی سے کام لینا ہو گا۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

مزید : رائے /کالم


loading...