عسکری سروسز ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری میں میم میخ نکالنا بیمار ذہنیت کی عکاسی

عسکری سروسز ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری میں میم میخ نکالنا بیمار ذہنیت کی عکاسی

  



لاہور(کامران مغل)عسکری سروسز ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے ممتاز آئینی و قانونی ماہرین کا کہناہے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیارحاصل ہے،ترمیمی ایکٹ بھاری اکثریت سے منظور ہواہے،بظاہر یہ ایکٹ آئین سے متصادم نہیں، اس حوالے سے روزنامہ پاکستا ن کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ بارکے سابق سیکرٹری آفتاب باجواہ نے کہاپارلیمنٹ کو کسی قانون میں موجود سقم دور کرنے،نیا قا نو ن بنانے اورکسی قانون میں ترمیم کا مکمل اختیار حاصل ہے،کوئی قانون آئین سے متصادم نہیں ہوسکتا،ایسی صورت میں اس کا عدالتی جائزہ لیاجاسکتاہے،سروسز ایکٹ میں ترمیم ایک ضروری تقاضا تھا جس کی نشاندہی سپریم کورٹ نے کی تھی،پارلیمنٹ نے یہ ترمیم منظور کی ہے تمام بڑی جماعتیں ایک پیج پرتھیں،ایسی صورت میں اس قانون پر تنقید وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگی،ممبر پنجاب بارکونسل سید فرہاد علی شاہ نے اس حوالے سے کہا اب تو یہ ترمیم ہوگئی ہے،پارلیمنٹ آئین سے متصادم معاملے کے سوا ہرقسم کی قانون سازی کیلئے بااختیارہے، اب جب قومی اسمبلی وسینیٹ کے ارکان نے واضح اور بڑی اکثریت کیساتھ اسے منظورکرلیاہے تو اس پر تنقید کرکے متنازع بنانے کی کوشش جمہو ر یت کی کوئی خدمت نہیں،سینئرقانون دان اظہرصدیق کاکہناہے اب تو کوئی بات ہی ایسی نہیں رہی جسے موضوع بحث بنایاجاسکے،اگرکوئی سقم ہوگا تواس کا عدالتی جائزہ لیا جاسکے گا،یہ ایک حساس قانون سازی ہے جس پر بلاسوچے سمجھے تبصرے کرنا مناسب نہیں،اب صدر مملکت  دستخط کریں گے تویہ قانون نافذ ہوجائیگا،ممتاز وکیل نعیم چودھری نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کیا پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ نہیں جانتے وہ کیا ترمیم کررہے ہیں،بل پر تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت نے الگ سے بھی غورکیا،قانون سازی جن لوگوں کا کام ہے وہ اپنا کام کررہے ہیں،انہیں ان کا کام کرنے دیاجائے،ہم کہتے ہیں اداروں کو اپنا کام کرنے دیاجائے یہی مثبت سوچ ہے، بلاوجہ کی میم میخ نکالنا بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔

آئینی و قانونی ماہرین

مزید : صفحہ آخر