پولیس افسر اور ماتحت کا ایک دوسرے سے انسانی سطح پر رابطہ ضروری ہے: ڈی آئی جی آپریشنز لاہور 

  پولیس افسر اور ماتحت کا ایک دوسرے سے انسانی سطح پر رابطہ ضروری ہے: ڈی آئی جی ...

  



لاہور(انٹرویو؛ یو نس باٹھ) ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رائے بابر سعید نے روز نامہ پاکستان کو دئیے خصوصی انٹرویو میں کہاکہ شہر سے بھتہ خوری،قبضہ گروپوں سمیت دیگر مافیاکا خاتمہ کر نا ان کی اولین تر جیحات میں شامل ہے اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے کئی بااثر ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزموں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ آئی جی پولیس پنجاب کے وژن کے مطابق فورس کو غیر سیاسی،شہر سے غنڈہ گردی اور فورس سے پولیس گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ پولیس ڈپارٹمنٹ کو بہتر اور موثر طریقے سے چلانے کیلئے جدت پسند خیال کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آئی جی سے لیکر کانسٹیبل تک تمام پولیس افسران واہلکاروں کو محکمہ کی عزت و وقار کوہروقت ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے،افسروں اور ماتحتوں میں اعتماد کی فضاء ہونی چاہیے۔ اہلکاروں کو چاہیے کہ اپنے مسائل اپنے افسروں کو بیان کریں بجائے ادھر اْدھرکی سفارشات ڈھونڈنے کی بجائے اپنے مسائل براہ راست اپنے افسران کو بتائیں اور افسران کو بھی چاہیے کے اپنے ماتحتوں کے مسائل ہر ممکن حد تک حل کریں۔ ایک ایسی فضاء ہونی چاہیے کہ پولیس ملازمین کوئی بھی غلط کام کرتے وقت یہ سوچیں کہ میرے اس عمل سے محکمہ اور میر ے افسران کی عزت پر حرف آئے گا اور ایسے کاموں سے باز رہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب دونوں کا انسانی سطح پر ایک دوسرے سے رابطہ ہواورافسران اپنے ماتحتوں کے ساتھ وقت گزاریں۔انہوں نے بتایا کہ وہ ناصر درانی اور احمد رضاطاہر کی قیادت میں سپیشل برانچ میں بھی ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ فیلڈ میں تعیناتی کے دوران انھوں نے ریکارڈ کامیابیاں حاصل کی ہیں اورکئی خطرناک مجرمان گروہوں کا جہاں قلعہ قمع کیا وہاں ان سے اربوں روپے لوٹی گئی رقم اور دیگر سامان بھی برآمد کر کے شہر کو امن کا گہوارہ بنایا جس پر اس وقت کے آئی جی پو لیس نے ان کی کارکر دگی سراہتے ہوئے انھیں خصوصی انعام سے نوازا۔انہوں نے کہاکہ شہریوں کے مسائل حل کرنے کیلئے ان کے دفتر کے دروازے ہر وقت کھْلے رہیں گے۔کوئی بھی شخص یاشہری کسی بھی کریمنل کے بارے میں کوئی بھی انفارمیشن دیناچاہیں تووہ انکے نمبر پر مسیج یاواٹس ایپ کر سکتے ہیں اطلاع فراہم کرنیوالے کانام راز میں رکھاجائے گا۔اطلاع درست ہونے پر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید : صفحہ آخر