ایران امریکہ کشیدگی کم کرانے کیلئے پاکستان متحرک، عمران خان نے وزیر خارجہ اور آرمی چیف کو سعودی عرب امریکہ، ایران سے رابطوں اور ملاقاتوں کی ہدایت کر دی

    ایران امریکہ کشیدگی کم کرانے کیلئے پاکستان متحرک، عمران خان نے وزیر ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں،ایران اور سعودی عرب کے تنازعات ختم کرنے کیلئے بھی کوششیں کیں، پاکستان ہمیشہ امن کا پارٹنر بنے گا،عالمی برادری کو صورتحال سے نمٹنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔بدھ کو وزیراعظم عمران خان سے اومان کے وزیرمذہبی امور عبداللہ بن محمد بن عبداللہ السلمی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری بھی موجود تھے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمرن خان اور عمانی وزیر امور امور کی ملاقات میں مشرق وسطی کی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اظہار تشویش کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں تنازعہ سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا ہے، ایران امریکہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، ایران اور سعودی عرب کے تنازعات ختم کرنے کیلئے بھی کوششیں کیں، پاکستان ہمیشہ امن کا پارٹنر بنے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور تنازعات کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے عمانی سلطان قابوس بن سعید ال سعید کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور عمان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان امن کیلئے کردار ادا کرنے کوتیار ہے، پاکستان کسی بھی دوسری جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا،وزیر اعظم عمران خان نے شاہ محمود قریشی کو ایران، سعودی عرب اور امریکا کا دورہ کرنے اور متعلقہ ملکوں کے وزراء خارجہ کے ساتھ ملاقاتیں کرنے کا ہدایات کردی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی ایران، سعودی عرب اور امریکا کے فوجی رہنماؤں سے رابطے کرنے اور پاکستان کا واضح پیغام پہنچانے کی ہدایات دی۔ بدھ کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں شاہ محمود قریشی کو ایران، سعودی عرب اور امریکا کا دورہ کرنے اور انہیں متعلقہ ملکوں کے وزراء خارجہ کے ساتھ ملاقاتیں کرنے کا ہدایت کردی۔ وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی ایران، سعودی عرب اور امریکا کے فوجی رہنماؤں سے رابطے کرنے اور پاکستان کا واضح پیغام پہنچانے کی ہدایات دی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان امن کے لئے کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ پاکستان کسی بھی دوسری جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔ کے تحت 50 ہزار نوجوانوں کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس،روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ سیکھایا جائے گا،۔تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہنر مند جوان پروگرام کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار اور سینئر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر معاون خصوصی عثمان ڈار نے شرکاء کو نوجوانوں کیلئے شروع کئے جانے والے مختلف پروگراموں بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کو آسانشرائط پر قرضوں کی فراہمی اور ہند مند بنانے کیلئے پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی پراگرام کا حصہ ہے ۔عثمان ڈار نے کہا کہ آئندہ 4 سال کے لئے 30 ارب روپے محیط ہنر مند نوجوان پروگرام کا اجراء جمعرات کو کیاجائے گا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اجلاس میں بتایا کہ ہنر مند نوجوان پروگرام کا پہلا مرحلہ20 ماہ پر مشتمل ہو گا اور پہلے مرحلے میں 10 ارب روپے لاگت آئے گی جبکہ پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو جدید ہنر سے آراستہ کرنا ہے اور روز گار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ پروگرام کے پہلے مرحلے میں ایک لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کو ہنر سیکھایا جائے گا۔ 50 ہزار نوجوانوں کوجدید علوم آرٹیفیشل انٹیلی جنس روبوٹکس، کلا ؤڈ کمپیوٹنگ سیکھائی جائیں گی۔ 50 ہزار نوجوانوں کو رسمی شعبوں میں آٹو مکینک، پلمبر کی تربیت دی جائے گی۔ جبکہ 20 ہزار نوجوانوں کی انٹرن شپ فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا، کمپنی 10 بینکوں کے اشتراک سے قائم ہوگی۔وزیراعظم عمران خان کے اس اقدام کا مقصد خسارے کا شکار یونٹس کی بحالی سے روزگار پیدا کرنا ہے، اقدام سے معاشی شرح نمو میں اضافہ ہو گا۔ادھر وزیراعظم نے سکل ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں وزیراعظم نے ہنر مند پاکستان منصوبے کی منظوری دے دی، منصوبے کیلئے 30 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، وزیراعظم کل ہنر مند پاکستان پروگرام کا افتتاح کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب میں مجرموں کیخلاف زیرو ٹالرینس کا نیا کلچر سامنے آیا ہے۔ اس عمل سے پنجاب پولیس کا مثبت تاثر ابھرا ہے، آئی جی پنجاب اس کارکردگی پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پر آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب پولیس جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کامیابی سے کام کر رہی ہے اور مجرموں کے خلاف عدم رعایت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔وزیراعظم کا ا?ئی جی پنجاب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہنا تھا کہ پولیس کے اس طرزعمل سے مثبت پیغام ابھر کر سامنے آیا۔ وزیراعظم عمران خان کا یوٹیلٹی سٹورز کے دورے کے موقع پر کہنا تھا کہ مہنگائی کے دور میں عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں۔ عوام کو مشکل وقت میں سستی اشیا دیں گے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور دیگر حکام کے ہمراہ اسلام آباد میں یوٹیلٹی سٹورز کا دورہ کیا اور وہاں موجود اشیائے خورونوش کی فراہمی اور ان کی قیمتوں کا جائزہ لیا۔اس موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے خوشی ہے آٹا 800 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، کوشش کریں گے کہ اس کی موجودہ قیمت کو نیچے لائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو مشکل وقت میں یوٹیلٹی سٹورز پر سستی اشیا دیں گے جبکہ آنے والے دنوں میں غریب لوگوں کو راشن کارڈ بھی جاری کیے جائیں گے۔ غریب آدمی کو راشن کارڈ کے ذریعے تین ہزار کی مفت اشیا ملیں گی۔ کوشش ہے کہ دالیں ہمیں امپورٹ نہ کرنی پڑیں۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے دور میں عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں۔ سستی اور معیاری اشیا کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ 2020ء میں گروتھ ریٹ کو بڑھائیں گے اور لوگوں کو روزگار دیں گے۔

اسلام آباد،راولپنڈی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سیکرٹری دفاع ڈاکٹر مارک اسپر نے پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ٹیلی فون کرکے مشرق وسطیٰ کی حالیہ سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ا?صف غفور کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سیکرٹری دفاع مارک اسپر نے آرمی چیف سے کہا کہ امریکا لڑائی نہیں چاہتا لیکن ضرورت پڑی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حالات مزید کشیدہ نہ ہوں۔ خطے میں امن کیلئے ہر قسم کی کاوش کی حمایت کریں گے۔ا?رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی سیکرٹری دفاع ڈاکٹر مارک اسپر پر زور دیا کہ فریقین بیان بازی سے گریز کریں اور سفارتی حل کی طرف ا?ئیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ہم نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کر کے خطے میں امن کیلئیاقدامات کیے۔ پاکستان افغان امن عمل میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایران اور چین کے سفیروں نے الگ اگ اہم ملاقات کی ہے۔پا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پاک فوج کے ترجمان نے لکھا کہ پاکستان میں چین کے سفیر مسٹر یاؤ جنگ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اارمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں ایرانی سفیر مسٹر مہدی ہنر دوست نے بھی اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران بھی امریکا، ایران سمیت مشرق وسطی کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کشیدگی کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا چائیے، ایران امریکہ کشیدگی کے بعد خطے کی بدلتی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، دونوں ممالک کو دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کرنا چائیے،بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا بھارت نے کمیونیکیشن بلیک آٹ، انٹرنیٹ پر پابندی اور میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کر کے اسے دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا، آر ایس ایس کے غنڈوں نے پہلے جامعہ ملیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اب جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں جس طرح ان غنڈوں نے طلبا کو تشدد کا نشانہ بنایا اس کے خلاف پورے ہندوستان میں طلبا سراپا احتجاج ہیں مگر بھارت سرکار ابھی تک طاقت کے ذریعے معاملے کودبانے کی پالیسی پر گامزن ہے امریکہ ایران حالیہ کشیدگی اور بھارت کی صورتحال کے تناظر میں جاری کردہ بیان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کی جانب سے کشیدگی میں کمی کی خواہش کا بیان خوش آئند ہے ان کے بیان میں ایک سنجیدگی اور ٹھہرا تھا اور یہ بیان دانشمندی کا مظہر تھا امریکہ کو بھی محتاط رہنا چاہیے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں خطے کے مختلف وزرائے خارجہ سے روابطے ہوئے ہیں، قطر کے وزیر خارجہ سے بھی تفصیلی بات چیت ہوئی انہوں نے 3 جنوری کے واقعے کے بعد تہران کا دورہ بھی کیا ہم سب کی کوشش ہے کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ نہ ہو صورتحال میں ٹھہرا پیدا ہو کیونکہ یہ خطہ کشیدگی اور جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اس کے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہونگے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صورتحال ابھی غیر یقینی ہے اس لئے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گاامریکہ میں بھی ایک بہت بڑا طبقہ جنگ کا حامی نہیں ہے اور امریکی افواج کو ایک نئی جنگ میں جھونکنے کا خواہشمند نہیں ہے سو دونوں آرا اس وقت موجود ہیں پاکستان کی خواہش یہی ہے کہ حالات نہ بگڑیں اور یہ خطہ جنگ کی دلدل میں نہ پھنسے پاکستان امن کا خواہاں اور معاملات کو گفت وشنید کے ذریعے حل کرنے کا خواہشمند ہے انہوں نے کہا کہ صورتحال کو سدھارنے کیلئے اقوام متحدہ،سیکورٹی کونسل اور عالمی برادری کو فی الفور اپنا کردار ادا کرنا چاہیے بھارت کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں مودی سرکار کو عوامی ردعمل کی اس شدت کا اندازہ نہیں تھابھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا اسے کمیونیکیشن بلیک آٹ، انٹرنیٹ پر پابندی اور میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کر کے اسے دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھالیکن جب بھارت نے ترمیمی شہریت ایکٹ اور این آر سی کے متنازعہ قوانین کو مسلط کرنے کی کوشش کی تو پورا ہندوستان اٹھ کھڑا ہوا آر ایس ایس کے غنڈوں نے پہلے جامعہ ملیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اب جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں جس طرح ان غنڈوں نے طلبا کو تشدد کا نشانہ بنایا اس کے خلاف پورے ہندوستان میں طلبا سراپا احتجاج ہے مگر بھارت سرکار ابھی تک طاقت کے ذریعے معاملے کودبانے کی پالیسی پر گامزن ہے اس داخلی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈے آزما رہا ہے پاکستان نے امریکا، ایران حالیہ کشیدگی کی صورتحال کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے معاملات کو سلجھانے کے لیے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے شروع کردیے۔امریکا کی جانب سے عراق میں میزائل حملے میں ایرانی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر بدلے کے طور پر میزائل حملوں کے بعد خطے میں صورتحال کشیدہ ہے۔اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ عرصہ دراز سے کشیدگی کا شکار ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ خطہ مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ 3 جنوری کے واقعات (امریکی حملے میں قاسم سلیمانی کا قتل) اور پھر 8 جنوری کو علی الصبح ایران کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل نے کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ یہ کشیدگی نہ صرف ہمارے بلکہ پورے خطے کے مفاد میں نہیں ہے اور پاکستان کی کوشش رہی ہے اور کوشش ہے کہ ہم معاملات کو سلجھائیں۔وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس ساری صورتحال کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی روابط کے فروغ کا فیصلہ کیا اور میری خطے کے مختلف وزرائے خارجہ سے گفت وشنید ہوئی، ان سب کی یہی رائے ہے کہ ہم مل جل کر خطے کے امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے مجھے خصوصی ہدایت کی ہے کہ میں امن کی پاکستانی خواہش کو آگے بڑھانے کے لیے اور معاملات کو سلجھانے کے لیے ایران،سعودی عرب اور امریکا کا دورہ کروں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے روابط شروع کر دیے ہیں تاکہ خطے کو جنگ سے بچانے کے لیے اور قیام امن کے لیے پاکستان جو کردار ادا کر سکتا ہے وہ کیا جائے۔

شاہ محمود

مزید : صفحہ اول


loading...