آرمی سروسز ایکٹ ترمیمی بل سینیٹ سے بھی منظور

    آرمی سروسز ایکٹ ترمیمی بل سینیٹ سے بھی منظور

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان ایئرفورس ایکٹ اور پاکستان نیوی آرڈیننس میں ترامیم کے بل کثرت رائے سے منظور کر لئے،جماعت اسلامی، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر بلوں کی مخالفت اور احتجاج کیا جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹرز نے ایوان سے واک آؤ ٹ کیا،جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد احتجاجا  ڈائس کے سامنے بیٹھ گئے۔انہوں نے کہا کہ میں ایوان اور قائمہ کمیٹی کارکن ہوں لیکن مجھے کمیٹی میں بلایا ہی نہیں گیا، رولز کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے جبکہ سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے ایجنڈے کی کاپیاں اچھال کر پھینک دیں،پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ی کے بعد صدر مملکت کے دستخطوں سے تینوں بل باقاعدہ قانون کا حصہ بن جائیں گے،بلوں کی منظوری کے بعدچیئرمین سینیٹ نے اجلا س کی کارروائی جمعہ تک ملتوی کر دی،چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے سینیٹ سے پاس کردہ آرمی، نیوی اور ائر فورس کے ایکٹس سے متعلق ترمیمی بلز پر دستخط کر دیئے،بل توثیق کے لئے صدر مملکت کو بھیج دیا۔ سینیٹ کا اجلاس گزشتہ روز چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا،اجلاس کے دوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین ولید اقبا ل نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کے بل پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2020، پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953 میں ترمیم کا بل پاکستان ایئرفورس (ترمیمی) بل2020 اور پاکستان  نیوی آرڈیننس1961میں ترمیم کے بل پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020 پر قائمہ کمیٹی برائے دفاع کی الگ الگ رپورٹس پیش کیں۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے بات کرنے کی اجازت مانگی تاہم چیئرمین سینیٹ نے اجازت نہ دی جس پر انہوں نے بغیر مائیک کے ہی کہا کہ میں قائمہ کمیٹی کارکن ہوں لیکن مجھے کمیٹی میں بلایا ہی نہیں گیا، اس موقع پر کمیٹی کی رپورٹس پیش ہونے کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاکستان آرمی (ترمیمی)بل2020، پاکستان ایئرفورس(ترمیمی)بل 2020 اور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020  الگ الگ منظوری کیلئے ایوان میں پیش کئے، جن پر چیئرمین سینیٹ نے شق وار ایوان سے منظوری کیلئے رائے شماری کرائی،جمعیت علمائے اسلام(ف)،جماعت اسلامی، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی  کے ارکان نے کھڑے ہو کر بلوں کی مخالفت کی، چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تشریف رکھیں ایوان کا مذاق نہ بنائیں، بات کرنے کا موقع نہ ملنے سینیٹر مشتاق احمد چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے جا کر بیٹھ گئے، جس کے بعد سینیٹر میر حاصل بزنجو، طاہر بزنجو، سینیٹر اکرم، میر کبیر، عثمان خان کاکڑ اور سینیٹر گل بشری نے بھی چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے جا کر احتجاج کیا جبکہ جے یو آئی (ف) کے سینیٹر ز نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا، احتجاج کرنے والے سینیٹرز '' نو'' نو'' کی آوازیں لگاتے رہے، جبکہ عثمان خان کاکڑ نے ایجنڈے کی کاپیاں اچھا ل کر پھینک دیں، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ رولز کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ رولز مجھے نہ سکھائیں تشریف رکھیں، اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے بھی بات کرنے کی اجازت مانگی تاہم  چیئرمین سینیٹ نے ان کو بات کرنے کی اجازت نہ دی، سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ضیا ء الحق کی باقیات اب بھی پارلیمنٹ میں ہے، اس موقع پر تینوں ترامیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لئے گئے۔ بلوں کی منظوری کے بعدچیئرمین سینیٹ نے اجلا س کی کارروائی جمعہ تک ملتوی کر دی۔

آرمی ایکٹ منظور

مزید : صفحہ اول