قومی اسمبلی، بی آئی ایس پی سے نکالے گئے لاکھوں غیر مستحقین کی تفصیلات طلب

قومی اسمبلی، بی آئی ایس پی سے نکالے گئے لاکھوں غیر مستحقین کی تفصیلات طلب

  



اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی نے بینظیر انکم سپورٹ فنڈ سے نکالے جانیوالے8لاکھ 42ہزار غیر مستحقین کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں ماحولیاتی الودگی کے خاتمے کیلئے بھتہ خشت کوزگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کیلئے حکومت فنڈز فراہم کرے گی۔ اجلاس کے دوران ملک میں پرائمری تعلیم کو لازمی کرنے کسانوں کو بلا سود قرضے فراہم کرنے، اقلیتی طلباء کیلئے تعلیمی کوٹہ مختص کرنے، علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے اور شراب پینے سے متعلق سزاؤں میں اضافے سمیت متعدد بل پیش کر دیئے گئے۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی عبدالاکبر چترالی نے ضمنی سوال کیا کہ پاکستان بیت المال سے مریضوں کے علاج کیلئے فنڈز چترال کو کیوں کم دیئے گئے ہیں، سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ چترال کو ان کی آبادی کے مطابق فنڈز دیئے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ بیت المال کے تمام فنڈز خرچ کئے جا چکے ہیں، رکن اسمبلی آغا رفع اللہ کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ اگر کوئی بھی سرکاری ادارہ یا آفیسر مونوٹائیزیشن پالیسی کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔رکن اسمبلی منورہ بی بی کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ حکومت نے20ماہ میں ایک لاکھ70ہزار نوجوانوں کو تربیت دینے کا پروگرام بنا رہی ہے اور اس میں بلوچستان کے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو شامل کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ملک میں تعلیم کے معیار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں حکومت نئی یونیورسٹیوں کے قیام کے ساتھ ساتھ مستقبل کے ضروریات سے نبردآزما ہونے کیلئے نئے پروگرام شروع کر ہی ہے، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پروگرام کے تحت 50ہزار طلباء کو سکالرشپس دیئے جائیں گے۔ رکن اسمبلی ڈاکٹر درشن کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے بتایا کہ وزارت اطلاعات نے ڈائریکٹ ٹو ہوم سروسز کا منصوبہ ختم کر دیا ہے۔رکن اسمبلی ناز بلوچ نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر گزشتہ 16ماہ میں صرف16ہزار نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کی گئی ہیں، ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کام ملک میں محض روزگار کی فراہمی نہیں بلکہ آئی ٹی کے شعبے میں نوجوانوں کی صلاحتیں بڑھانا ہے، رکن اسمبلی شمیم پہنوار کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر ماحولیات زرتاج گل نے کہا کہ اسلام آباد میں بھٹہ خشت کی وجہ سے سموگ نے مسائل درپیش ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 72سالوں سے بھٹوں کو ریگولیٹ نہیں کیا گیا ہے وزارت نے ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے ملک بھر میں بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کیلئے ہدایات جاری کی ہیں مگر ان کے پاس نئی ٹیکنالوجی کیلئے کوئی رقم نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کیلئے گرانٹ فراہم کرے گی۔ رکن اسمبلی سعد وسیم کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ حکومت موجودہ امتحانی نظام کو تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت جماعت ہشتم کا امتحان دوبارہ شروع کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ سال2020ء کیلئے امتحانی نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی شیر اکبر خان کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزارت مذہبی امور کے پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ حج اور عمرے کیلئے بائیو میٹرک ایک پرائیویٹ کمپنی کے زیر انتظام ہے جس کو سعودی سفارت خانہ کی جانب سے مقرر کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمپنی نے حج کے موقع پر ملک بھر کے مختلف اضلاع میں مقرر کردہ سنٹر سمیت موبائل سنٹرز بھی بنائے تھے پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ چترال میں بائیو میٹرک سسٹم لگانے کیلئے متعلقہ اداروں سے بات کی جائے گی، رکن اسمبلی نفیسہ خٹک نے بل کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تعلیم کو لازمی کرنا بے حد ضروری ہے،3سے 5سال کے بچوں کے تعلیم کو اہمیت دینا بہت ضروری ہے اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری نے بل کی حمایت کی ایوان نے کثرت رائے سے بل پیش کرنے کی منظوری دیدی۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی سید جاوید حسین نے آئین کے آرٹیکل31میں مزید ترمیم کا بل پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس ترمیم کا مقصد ملک بھر کے کسانوں کو بلہ سود قرضے فراہم کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ سود کے خاتمے کے بعد میں قائم ہو سکے گی، پارلیمانی امور کے وزیر مملکت بل کی حمایت کی جس پر بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ اقلیتی رکن اسمبلی جیمز اقبال نے اقلیتی تعلیمی بل 2020پیش کرتے ہوئے کہا کہ بل کا مقصد تعلیمی اداروں میں اقلیتی طلباء کیلئے کوٹہ مختص ہونا چاہیے پارلیمانی سیکرٹری نے بل کی حمایت کی جس پر بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ 

قومی اسمبلی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سہ ماہی وظیفہ لینے والے غیر مستحق افراد میں گریڈ 17 سے 21 تک کے افسران کے شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے، درجنوں نے اپنی بیگمات کے نام رجسٹرا کروا رکھے تھے۔مجموعی طور پر 2 ہزار 543 افسران کو بی آئی ایس پی کی فہرست سے نکالا گیا ہے۔ سب سے زیادہ بلوچستان اور سندھ کے افسران نے بی آئی ایس پی کے ذریعے رقوم وصول کیں، گریڈ 21 کے 3، گریڈ 20 کے 59 افسران سہہ ماہی وظیفہ وصول کرتے رہے جبکہ گریڈ 19 کے 429 افسران بھی مستفید ہونے والوں میں شامل تھے۔سندھ میں گریڈ 18 کے 342 افسران نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھایا، بی آئی ایس پی کے 6 افسران بھی سکیم سے مستفید ہوئے۔ گریڈ 17 کے ایک ہزار 240 افسران نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ غیر مستحق افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالنے کا عمل جاری ہے۔

بی آئی ایس پی

مزید : صفحہ اول