بھارت: تاریخی ہڑتال، 25کروڑ ملازم دفاتر سے غیر حاضر، معیشت ٹھپ

  بھارت: تاریخی ہڑتال، 25کروڑ ملازم دفاتر سے غیر حاضر، معیشت ٹھپ

  



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) مودی سرکار کی معاشی پالیسیوں کیخلاف بھارت کی سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز(سی آئی ٹی یو)کی کال پر  بھارت بھر میں 25 کروڑ ملازمین نے ہڑتال کی۔اس ہڑتال میں کسان یونین بھی شامل تھی، کسانوں نے زمین پر لیٹ کر بھوک افلاس کیخلاف احتجاج کیا جبکہ بینکنگ سیکٹر سمیت ٹرانسپورٹرز اور دیگر اداروں میں کام کرنے والے ملازمین نے بھی ہڑتال میں حصہ لیا۔کاروباری امور ٹھپ ہو کر رہ گئے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کیمطابق کروڑوں شہریوں کو ہڑتال کے باعث خفت اٹھانا پڑی،معیشت کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔بتایا گیا ہے کہ یہ بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال ہے ۔اس ہڑتال کو بھارت بند ھ کا نام دیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق  بھارت کی دس بڑی مزدور تنظیموں اور یونینوں نے مودی سرکار کی نجکاری کی پالیسی، سرمایہ کاری میں عدم دلچسپی اور مزدور دشمن اقدامات کے کے نتیجے میں بدھ کو ہڑتال کی۔ سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز نے اگست 2015 میں اپنے مطالبات کے لیے مرکزی حکومت کو 12 نکات پیش کئے تھے کہ عوامی مفاد کے قدرتی ذرائع بھی فروخت کئے جارہے ہیں۔تمام تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ کا تعین کرکے اس پر عملدرآمد کرایا جائے، دوم تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، مزدور پیشہ طبقے کو سوشل سیکیورٹی اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہفتے میں کام کے صرف پانچ دن رکھے جائیں۔ اس کے علاوہ دیگر چھوٹے مطالبات بھی 12 نکاتی چارٹر کا حصہ ہیں۔دوسری جانب نئی دہلی نے تمام مزدور تنظیموں کو اس ہڑتال سے باز رکھنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہوئے انہیں بھارت بند ہڑتال کے نتیجے میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

تاریخی ہڑتال

دہلی(آئی این پی) سرکردہ عالمی سیاسی رسک کنسلٹنسی کمپنی  یوریشیا گروپ نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت میں بھارت 2020کا پانچواں سب سے بڑا جغرافیائی وسیاسی خطرہ ہے۔ہر سال ادارے کی طرف سے جاری کی جانے والی سال کے 10سب سے بڑے خطرات کی فہرست کو عالمی سرمایہ کار، ملٹی نیشنل فرمز اورمختلف مالی اور کاروباری ادارے انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔ رپورٹ کیمطابق مودی سرکار نے دوسری ٹرم کا بیشتر حصہ متنازعہ سماجی پالیسیوں کو فروغ دینے میں صرف کیا ہے جس کی قیمت معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔ بھارت کی سیکولر شناخت کھو نے کے خدشے کے پیش نظر پورے ملک میں احتجاج پھیل رہا ہے،مودی کے پاس اصلاحات کرنے کی گنجائش کم سے کم تر ہو رہی ہے۔ نریندر مودی کی حکومت میں ہندوستان 2020 کا پانچواں سب سے بڑا جغرافیائی وسیاسی خطرہ ہے۔یوریشیا گروپ نے ایک رپورٹ میں کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی دوسری ٹرم کا بیشتر حصہ متنازعہ سماجی پالیسیوں کو فروغ دینے میں صرف کیا ہے جس کی قیمت معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔ یوریشیا گروپ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے اثرات 2020 میں شدت پسندانہ اور فرقہ وارانہ عدم استحکام کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی اور معاشی نقصانات کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ 

یوریشیا گروپ

مزید : صفحہ اول


loading...