آئس منشیات فروشوں کو کڑی سزائیں دلوائی جائیں گی، مکیش کمار چالہ

آئس منشیات فروشوں کو کڑی سزائیں دلوائی جائیں گی، مکیش کمار چالہ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات اور پارلیمانی امور مکیش کمار چالہ نے کہا ہے کہ محکمہ ایکسائز نے بل سندھ کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ 2019 کا مسودہ تیار کرلیا ہے جو آئس منشیات کی فروخت میں ملوث پائے جانے والے افراد کو سخت سے سخت سزا دلوانے پر مشتمل ہے۔ کیونکہ یہ ایک مہلک نشہ ہے اور اس نے بہت سے جوانوں کی جان لے لی ہے اور بہت سارے خاندانوں کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ یہ بات انہوں نے آج اپنے دفتر میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول عبدالحلیم شیخ، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات شعیب احمد صدیقی، ڈائریکٹر ایکسائز کراچی اقبال لغاری اور دیگر افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے مزید کہا، 'مجوزہ بل جلد ہی منظوری کے لئے سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور اس کی منظوری کے بعد اسے پوری شدت سے نافذ کیا جائے گا'۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل شعیب احمد صدیقی نے بتایا کہ مجوزہ مسودہ بل میں 100 گرام سے کم آئس منشیات رکھنے پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور سات سال کی سخت قید کی سزا تجویز کی گئی تھی۔ 100 گرام سے زیادہ آئس (میتھمیتھمائن) رکھنے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور 10 سال سخت قید کی سزا تجویز کی گئی ہے. ایک کلو گرام سے زائد آئس رکھنے پر 15 لاکھ جرمانہ اور 14 سال کی سخت قید اور 100 کلو گرام آئس رکھنے والوں کے لئے 25 لاکھ جرمانہ اور سزائے موت تجویز کی گئی ہے۔ صوبائی وزیر مکیش کمار چالہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح کی سخت سزاں سے آئس (میتھامیتھمائن) کی فروخت کی یقینی طور پر حوصلہ شکنی ہوگی، اور والدین اور اساتذہ اور معاشرے کے دیگر اسٹیک ہولڈرز سے بھی صوبائی وزیر نے درخواست کی کہ وہ نوجوان نسل کو منشیات کے استعمال سے بچانے کے لئے مل کر کام کریں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کچھ دن قبل ایک منشیات فروش اسد اللہ کو گورنمنٹ ڈگری سائنس کالج لیاقت آباد کے قریب گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے قبضے سے ایک کلو اور پانچ گرام آئس منشیات برآمد ہوئی تھی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس آئس کی مالیت کا تخمینہ ایک کروڑ روپے بتایا جاتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر