اکادمی ادبیات کا ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی یاد میں مذکراہ 

اکادمی ادبیات کا ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی یاد میں مذکراہ 

  



 کراچی(اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام سندھی زبان کے نامور محقق، ادیب دانشور، ماہر تعلیم ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ کی یاد میں مذاکرہ  اور”محفل مشاعرہ“ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت معروف دانشور، شاعر، ڈاکٹر جمال نقوی نے کی مہماناں خاص فیرو ز ناطق خسرو، افضال بیلا اور یوکے پرتگال سے آئے ہوئے محمد یامین عراقی تھے۔اس موقع پر ڈاکٹر جمال نقوی نے اپنی صدارتی خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر نبی خان بلوچ گوٹھ جعفرخان لغاری ضلع سانگھڑ میں ۱۶دسمبر ۱۹۱۷ ؁ء  پیداہوئے۔ انکے والد کا نام علی محمد خان تھا۔ ڈاکٹر بلوچ صاحب کی ابتدائی زندگی اور ابتدائی تعلیم دونوں ہی بہت کٹھن اور مشکل حالات سے گزری ہیں۔ انکی ابتدائی زندگی کی مشکلات کا اندازہ لگانے کے لیے صرف یہ جاننا کافی ہے کہ ابھی بلوچ صاحب کی عمر محض چھ ماہ تھی کہ انکے والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ سندھ کے رسم و رواج کے مطابق جب کسی انسان کا وقتِ آخر قریب ہوتا دکھائی دے تو اس سے اس کی آخری خواہش عینی وصیت پوچھی جاتی ہے۔ کہا گیا میرے بچے کو پڑھانا یہ عمل ان کے چچانے پورا کیا۔بلوچ صاحب نے میٹرک ۱۹۳۶؁ء میں، بی اے (آنرز) ۱۹۴۱؁ء میں، ایل ایل بی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایم اے (عربی) ۱۹۴۳؁میں اور پی ایچ ڈی ۱۹۴۹؁ء میں کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک سے کی۔ بلو چ صاحب نے اپنے اساتذہ سے بھرپور طریقے سے کسبِ فیض کیا۔ خاص طور پر وہ علامہ عبدالعزیزمیمن صاحب سے خصوصی محبت رکھتے تھے۔ علامہ عبدالعزیز میمن مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں شعبہ عربی کے صدر تھے۔ اس وقت بلوچ صاحب کابحیثیت استاد ان سے تعلق قائم ہوا۔بلو چ صاحب ان سے بہت محبت کرتے اور ان کی گفتگو سے فیض حاصل کرتے تھے۔ بلوچ صاحب کو اُ ن سے قلبی وابستگی ہوگئی تھی اور ان کے افکار کوا پنے پاس ڈائری کی صورت میں نوٹ کرتے تھے۔ فیروز ناطق خسرو نے کہا کہ بلوچ صاحب کے چندعلمی کارنامے درجہ ذیل ہیں:۱)سندھی زبانکی سب سے بڑی لغت یعنی ”جامع سندھی لغات“ کی پانچ ضخیم جلدوں میں تکمیل۔ بعدازاں بلوچ صاحب نے اس کی مکمل نظر ثانی اور اضافے بھی کیے۔ (۲) سندھی لوک ادب کی زبانی روایتوں کی مدد سے جمع آوری۔ اس سلسلے کی ۴۳ جلدین شائع ہوچکی ہیں اور بقیہ زیر طبع ہیں۔ (۳) سندھی کے عظیم صوفی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے مجموعہ کلام یعنی ”شاہ جو رسالو“ کا مستند متن اور تشریح ۱۰ ضخیم جلدوں میں ممل کی۔ اس کا م کی خاطر بلوچ صاحب نے ۵۰ قلمی نسخوں اور تمام مطبوعہ نسخوں سے استفادہ کیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...