خانصاحب …… کیا ہوا تیرا وعدہ

خانصاحب …… کیا ہوا تیرا وعدہ
 خانصاحب …… کیا ہوا تیرا وعدہ

  



خواجہ جمشید امام (جمشید بٹ) کو میں جانتا ہی نہیں پہچانتا بھی ہوں کہ ہماری زندگیوں میں بہت کم لوگ ہماری شناخت میں آتے ہیں۔ جمشید سے دوستی ایک نجی میڈیا ہاوس میں ہوئی۔ میں نے اْسے پہلی بار دیکھا تو ڈیل ڈول سے وہ مجھے کوئی پہلوان دکھائی دیا۔ میرے پہلی رائے یہ تھی کہ کشمیری ہے اورکھانے پینے کے علاوہ کوئی شغل ہو نہیں سکتا اور پھر میڈیا مالک بھی کشمیری تھے، سو تعیناتی کی وجہ کو میں نے اپنے تئیں سمجھ لیا۔ سمے کا پنچھی اڑتا رہا اور آہستہ آہستہ مجھے خواجہ جمشید امام کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کرنا پڑی وہ بلا کا ذہین صاحب مطالعہ بہترین نثر نگار قابلِ سماعت مقرر اور بہترین نثر نگار تھا اور اِن سب کے ساتھ جڑی تھی اس کی بدقسمتی کے وہ عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا اور اس کا مزید ادراک مجھے اس وقت ہوا جب پاکستان کے تمام میڈیا پر عمران خان نے بتایا کہ”گزشتہ بائیس سال سے جمشید نے پارٹی کارکنوں کی تربیت کی وہ تحریک کا دانشوار ہے اور یہ وہ ہیرو ہیں کہ جب میرے ساتھ کوئی نہیں تھا اس وقت جمشید بٹ تھا“ لیکن آج میں دیکھتا ہوں ساری دنیا عمران خان کے ساتھ ہے لیکن جمشید بٹ نہیں ہے۔

اقتدار اور اقتدار تک رسائی کی سیاست دو مختلف متضاد بلکہ متصادم عمل ہیں۔ تحریک انصاف کی فرد واحد کے لکھے آئین کو بھی میں نے غور سے پڑھا ہے جو جمہوری ہونے کا دعوی کرتا دکھائی دیتا ہے لیکن تحریک انصاف کی تنظیم سازی کا اختیار اس فرد واحد کو دے دیا گیا ہے جس پر کل تک ثابت شدہ الزام تھا کہ اس نے پارٹی کے موجودہ اہم عہدیدار کے ساتھ مل کر ایک کڑور نوے لکھ پارٹی فنڈ سے ذاتی اکاونٹ میں منتقل کئے ہیں۔ اب عامر کیانی کو کرپشن کی بنیاد پر وفاقی وزارت سے ہٹا کر پارٹی کا مرکزی سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا اور سیف اللہ نیازی کو چیف آرگنائزر۔ اب ایک دلچسپ قصہ سنیں، پاکستان بھر میں تحصیلوں نے ٹاؤن کی نامزدگیاں کرنی تھیں لیکن لاہور کی نامزد تنظیم نے جب شو آف ہینڈ سے جمشید بٹ کو سٹی تحصیل کا صدر منتخب کرلیا تو ڈاکٹر یاسمین راشد نے صدر پنجاب کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اعجاز چوہدری پرانے سیاسی ورکر ہونے کے باوجود ڈاکٹر یاسمین راشد سے لڑائی نہیں کرنا چاہتے۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے یہ وہ خوب جانتے ہیں، لیکن جمشید بٹ سے اختلاف کی ایک ہی وجہ ہے کہ وہ کرپٹ آدمی کے ساتھ چل نہیں سکتا، سو وہ کرپٹ آدمیوں کو قابل قبول بھی نہیں ہو سکتا اور پھر وہی ہوا جس کا یقین تھا۔ پنجاب کی تنظیم کے حکم پر لاہور کی تنظیم نے اپنے منتخب تحصیل صدر کو تو ہٹایا ہی، بلکہ لاہور کی پانچ تحصیلوں کو ہی ختم کر کے ڈائریکٹ ٹاؤن بنا دیئے جو مزید غیر آئینی عمل تھا یہاں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ لاہور کی اس نامزد تنظیم کی کیا اوقات رہ جاتی ہے جو اپنے آئینی اختیار پر عمل درآمد نہیں کروا سکی۔ میری رہائش این۔

اے 125 کی ہے سو میں جانتا ہو کہ ڈاکٹر یاسمین راشد قیامت سے پہلے ہونے والے الیکشن تک عوامی ووٹ کی بنیاد پر نہیں جیت سکتیں۔ کارکنوں سے اس کا رویہ آئے روز علاقے کے ورکروں سے معلوم پڑ جاتا ہے۔ پنجاب کے تمام ہسپتالوں کی حالت آپ کے اور میرے سامنے ہے۔ بہتری کے بجائے یہ خراب سے خراب ہوتے جارہے ہیں۔ ادویات کی قیمتیں سونے کے ساتھ ساتھ بڑھتی ضرور ہیں، لیکن کم نہیں ہوتیں لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر یاسمین راشد کسی فاتح جرنیل کی طرح تحریک انصاف کے فیصلوں پر یوں اثر انداز ہوتی ہیں جیسے عمران خان اور تحریک انصاف ان اکیلی کی کاوش کا نتیجہ ہے۔ آئین میں پنجاب کا ذکر ہے، لیکن پنجاب کی تقسیم کا ذکر کہیں نہیں لیکن نجانے کیوں پنجاب کو چار حصوں میں تقسیم کردیا۔ لاہور کا صدر کشمیر کا ایم۔ ایل۔اے ہے جب کے آئین مقامی لوگوں کو عہدہ دار بنانے کی بات کرتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے محترمہ نصرت بھٹو سے اپنی آخری ملاقات میں پوچھا ”کیا لوگ میرے لئے نکلیں گے؟“ تو نصرت بھٹو نے جواب دیا ”جو 1970ء میں آپ کے ساتھی تھے انہیں آپ نے خود دلائی کیمپوں میں پہنچا دیا اور جن کو آپ نے اپنا ساتھی بنایا وہ تو ضیاء کے کو سے پہلے ہی ضیاء الحق کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے“۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر جمشید بٹ جیسے دانشور جنگجو سیاسی ورکر کے ساتھ ریاست مدینہ کا یہ سلوک ہے تو پھر عام آدمی پاکستان میں کیسے زندہ ہو گا۔ عمران خان اگر اپنے جانثار ساتھیوں کو تحریک انصاف پر حملہ آور ہونے والے اجنبی لشکر سے نہیں بچا پایا تو دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ اْس کی وعدہ خلافی کو حیرت سے دیکھ رہا ہے۔ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے پرانے کارکنوں کو کبھی نہیں بھولیں گے، لیکن اپنے 22 سال پرانے ساتھیوں کے ساتھ یہ ذلت آمیز رویہ بہت سے سوالوں کو جنم دے رہا ہے۔ میں نے 2013ء کے انتخابات میں بھی ایک کالم میں جمشید بٹ کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ تحریک انصاف اْسے ٹکٹ نہیں دے گی اور پھر ایسا ہی ہوا۔ کاش! جمشید بٹ کا بھی لندن میں ذاتی کاروبار یا اس کا اپنا بڑا گینگ ہوتا یا پھر وہ ماضی میں اپنی چھوٹی چھوٹی ہاوسنگ سوسائٹیوں کی فائلیں لئے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے پیچھے پیچھے نظر آتا تو آج وہ تحریک انصاف کا اہم حصہ ہوتا۔

چیئرمین تحریک انصاف کو انتہائی ذمہ داری سے بتا رہا ہوں کہ پنجاب اور وفاق میں جمشید بٹ جیسا ایک بھی وفادار جانثار اور باصلاحیت لیڈر اْس کی جماعت میں موجود نہیں۔ آپ اسے نظر انداز کرسکتے ہیں لیکن فراموش نہیں کہ جتنا کام اْس نے تحریک انصاف کیلئے کر دیا ہے اس کا موقع اب اس زندگی میں عمران خان کے سنگ کسی کو نہیں ملے گا۔ عمران خان تحریک انصاف میں ہونے والے نامزدگیوں پر غور فرمائیں کہ یہ سیاسی عمل معاشی رشتوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آپ کے ساتھیوں کا سیاسی قتل کرکے انہیں نئی تنظیم کی بنیادوں میں دفن کردیا گیا ہے اور بنیاد کی اینٹیں کبھی نظر نہیں آتیں گو کہ ہر عالیشان عمارت اسی پر کھڑی ہوتی ہے۔ اس وقت سے ڈریں اگر ان اینٹوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی تو اس ٹوپی ڈرامہ سیاسی محل کا کیا بنے گا؟؟؟

مزید : رائے /کالم