مقبوضہ وادی میں اقتدار کیلئے جوڑ توڑ

مقبوضہ وادی میں اقتدار کیلئے جوڑ توڑ
 مقبوضہ وادی میں اقتدار کیلئے جوڑ توڑ

  



مقبوضہ وادی کشمیر میں پی ڈی پی کے متعدد سابق سیاستدانوں نے اقتدار میں آنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیئے ہیں۔ کچھ سیاستدان بی جے پی، انتہا پسند آر ایس ایس کے ہندو توا کے نظریئے کو قبول کرتے ہوئے ان کے ساتھ مل کر ایک نیا سیاسی اتحاد بنا رہے ہیں، مقصد صرف اقتدار ہے۔ یوں خیال کیا جا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی نئی حکومت میں مختلف پارٹیوں اور مختلف نقطہ نظر کے لوگ اکٹھے ہو سکتے ہیں، جن میں سیاستدان، تجزیہ نگار اور صحافی بھی شامل ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی حقیقی سیاسی قیادت تو پابند سلاسل ہے اسی لئے موسی پرندے اقتدار میں آنے کیلئے پر تول رہے ہیں۔

درحقیقت اقتدار کی کھچڑی سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو اقتدار سے علیحدہ کرنے اور وادی کے سیاسی منظر نامے سے نکالنے کیلئے پکائی جا رہی ہے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کوئی حکومت نہیں، سیاست غیر فعال ہے۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی بڑی پارٹیاں بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہیں۔ مگر ان سیاستدانوں کو تو صرف اقتدار چاہئے۔ ویسے بھی پارٹیاں بدلنا ان سیاستدانوں کا پرانا وطیرہ ہے، لہذا مرکزی حکومتی پارٹی بی جے پی اور انتہا پسند آر ایس ایس سے ہاتھ ملایا جا رہا ہے۔ سب مل کر ایک نئی پارٹی تشکیل دینا چاہتے ہیں، لہذا مقبوضہ کشمیر میں حکومت سازی کیلئے 72 سیاستدان سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی بھی حمایت حاصل کی جا رہی ہے۔

بھارتی سیاستدان ایک طرف تومقبوضہ کشمیر میں بی جے پی حکومت کے اقدام کی حمایت کرتے ہیں تو دوسری طرف وہ اس پر تنقید کرنا بھی اپنا حق سمجھتے ہیں۔ بھارت کے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے کشمیر کے حالات ٹھیک کرنے کے دعوے ہوا ہو گئے۔ یہ محسوس ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ پورا بھارت ہی کشمیر بن گیا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد ایسی سخت گیر پولیسی کو اپنایا گیا تاکہ کوئی آواز نہ اٹھا سکیں۔ مودی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ ہی یہ دعوی کیا تھا کہ کشمیر کے حالات ٹھیک ہونگے اور جموں کشمیر بھی دیگر ریاستوں کی طرح خوشحال ہو گی۔ لیکن حالات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ سنہا نے انکشاف کیا کہ وہ چار سال قبل جموں کشمیر کے دورے پر تھے اور انہوں نے حالات کو بہتر بنانے کے لئے ایک رپورٹ بھی تیار کی تھی، لیکن مذکورہ رپورٹ جب ریاست کے ایک اعلی افسر کو سونپی گئی تو انہوں نے کہا حکومت کی پولیسی ہے کہ وہ کسی سے بات چیت نہیں کرے گی بلکہ جو بھی شخص حکومت کے خلاف آواز اٹھائے گا اس کو سختی سے کچل دیا جائے گا۔

جہاں تک مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے ظلم و ستم کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے واضح کیا ہے کہ وادی میں بھارتی اقدام کے بعد عسکری تنظیموں کیلئے حمایت اور بھرتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ سب کچھ بھارتی حکومت کے مکروہ حربوں اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے جو اس نے کشمیریوں کو دبانے اور تحریک آزادی روکنے کیلئے استعمال کئے۔ بھارتی فوج کے بڑھتے ہوئے مظالم مزاحمت کو ہوا دے رہے ہیں۔ مسلح فورسزاسپیشل پاور ایکٹ بھارتی اہلکاروں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کسی بھی قانونی کارروائی سے استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔ انسانی استحصال کا طویل سلسلہ ہے جسے جموں و کشمیر کے عوام برداشت کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت ان کے مسائل پر ذرہ برابر بھی توجہ نہیں دیتی۔ سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئے بغاوت کے الزامات اور ہتک عزت کے مجرمانہ قوانین استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس بات کی بھی نشاندہی ہوئی ہے کہ کشمیریوں کے خلاف بھاری فورس کا استعمال کیا گیا ہے۔ بھارتی فورسز کشمیریوں کے احتجاج کے جواب میں ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرتی ہے جس میں پیلٹ گنز اور ہجوم کو کنٹرول کرنے والے ہتھیار شامل ہیں۔ ان ہتھیاروں کی وجہ سے متعدد کشمیری شہید اور آنکھوں سے معذور ہوئے ہیں۔

جب سے مقبوضہ کشمیر میں اسپیشل پاور ایکٹ لاگو ہوا ہے گویا بھارتی فورسز کو اپنے خلاف کارروائی سے استثنیٰ مل گیا ہے۔ بھارتی اہلکاروں کے خلاف کوئی مقدمہ سویلین کورٹ میں نہیں چل سکتا۔ جب تک بھارتی حکومت اپنی زیادتیوں کو تسلیم کر کے اس بات پر توجہ نہیں دے گی کہ یہ بدسلوکیاں کشمیر کی صورتحال پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہیں، کشمیر میں مسائل موجود رہیں گے۔ حالات و واقعات نے ایک ملک کا اصل کردار بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے جو خود کو جمہوریت، وفاقی اور سکیولرازم کا گڑھ بتانے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو کرہ ارض کے سب سے بڑے قید خانے میں تبدیل کردیا ہے جہاں بنیادی اشیائے ضروریات اور ذرائع مواصلات تک رسائی ممکن نہیں، دکانوں پرسامان فراہم نہ ہونے سے اشیا کی قلت ہوچکی ہے۔ ہسپتالوں میں جان بچانے والی ادویات کی قلت ہے۔ بھارتی قابض افواج کے بلاامتیاز اور براہ راست بہیمانہ طاقت کے استعمال کی وجہ سے زخمیوں کو ہنگامی طبی امداد تک رسائی میسر نہیں۔

آج بھارت مکمل طور پر 2 نظریئے پر تقسیم کھڑا ہے، جس میں ایک وہ جو سیکیولر بھارت کی حمایت کررہے ہیں جبکہ ایک بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہندوتوا ایجنڈا کے حامی ہیں۔ اب یہ لڑائی کسی ایک مذہب، نسل یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پورے بھارت میں پھیل چکی ہے۔ عوام دنیا کے دوہرے معیار کے بارے میں بات کر رہے ہیں لیکن ہمیں بھارت میں انسانیت کی مشکلات پر بات کرنی چاہئے۔ ایک منظم انداز سے مقبوضہ خطے کے عوام کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ دہائیوں سے بھارتی جبرو استبداد کا پہلے سے ہی شکار 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو ایک غیرقانونی آپریشن کے ذریعے عملی طور پر قید کردیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ متعدد عالمی انسانی حقوق سے متعلق قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہے جس پر بھارت نے بھی دستخط کررکھے ہیں۔

بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دنیا کی خاموشی توڑنے کے لیے پاکستان کی حکومت نئی سفارتی کوششوں کے ساتھ میڈیا مہم شروع کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ جس میں مقبوضہ کشمیر میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران، لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی شدید خلاف ورزی اور بھارت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت تمام بڑے فورمز پردکھایا جائیگا۔ بین الاقوامی میڈیا کی کوریج دنیا کو کشمیریوں کو درپیش مشکلات کی جانب توجہ دینے کی دعوت دے رہی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...