ایران کا جوابی وار، عراق میں 2امریکی اڈوں پر میزائل حملے، 80فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ

ایران کا جوابی وار، عراق میں 2امریکی اڈوں پر میزائل حملے، 80فوجی ہلاک کرنے کا ...

  



تہران،بغداد واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ایران نے امریکی حملے میں قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی شہادت کے جواب میں عراق میں 2 امریکی فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائل حملے کئے ہیں جن میں تقریباً 80 امریکی فوجیوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق یہ حملے ایران کی ریوولوشن گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کئے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق  امریکہ کے سیکرٹری آف ڈیفنس فار پبلک افیئرز کے اسسٹنٹ  جوناتھن ہوف مین نے بتایا کہ ایران نے گزشتہ روز  عراقی علاقوں اربیل اور عین الاسد میں امریکی فوج اور اتحادی فورسز کے اڈوں کوتین درجن بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا جس میں ہونے والے نقصان کا تعین کیا جارہا ہے تاہم اس دوران فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے خدشے اور کشیدگی میں اضافہ کے بعد فوجی اڈوں پر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون نے عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بیسز کو نشانہ بنانے کے لئے میزائل ایران سے فائر کئے گئے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حملے کے بعد اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے، عراق میں دو امریکی فوجی بیسز پر ایران سے میزائل فائر کئے گئے ہیں۔جانی و مالی نقصان کا اندازہ لگایاجا رہا ہے، ہمارے پاس دنیا کی طاقتور ترین اور بہترین اسلحہ سے لیس فوج ہے،۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنے دفاع میں مناسب اقدام کرتے ہوئے عراق میں امریکی  فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جہاں سے ہمارے شہریوں اور سینئر حکام کے خلاف بزدلانہ حملہ کیا گیا اور یہ جوابی کارروائی مکمل کر لی۔ ہم کشیدگی میں اضافہ یا جنگ نہیں جاہتے لیکن کسی بھی جارحیت کے جواب میں اپنا دفاع کریں گے۔ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کے جواب میں عراقی علاقے عین الاسد میں قائم فوجی بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی کی طرف سے مزید کسی بھی کارروائی کا اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا اور اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی ممالک کو نشانہ بنایا جائے گا۔بیان میں امریکہ  سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو مزید جانی نقصان سے بچانے کے لئے انہیں عراق سے واپس بلوائے۔وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی اقدام سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور قومی سلامتی ٹیم کے ارکان سے مشاورت کر رہے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ایرانی قوم دنیا کے غنڈوں کے خلاف متحد ہوگئی ہے، جوابی کارروائی امریکا کے منہ پر طمانچہ ہے۔ سلیمانی کی مدد سے عراق، شام اور لبنان میں امریکی منصوبے ناکام بنائے گئے۔ ایران اس سے بڑا حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، امریکی ایئربیس پر حملہ کامیاب رہا۔ ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکا کی موجودگی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی ایران کا بہادر سپوت تھا۔ وہ صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی جرات کا مظاہرہ کرتے تھے۔آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ سلیمانی نے مغربی ایشیا میں امریکی منصوبوں کو ناکام بنایا تھا۔ انھوں نے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی مدد کی۔ سلیمانی کی مدد سے عراق، شام اور لبنان میں امریکی منصوبے ناکام بنائے گئے۔ سلیمانی کی شہادت نے دنیا بھر میں انقلاب برپا کیا ہے۔دوسری طرفعراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر حملے سے پہلے عراق کو آگاہ کردیا تھا۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق اپنے ایک بیان میں عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے کہا کہ انہیں آدھی رات کو ایران کی طرف سے زبانی  آگاہ کیا گیا کہ قاسم سلیمانی کے قتل پر جوابی کارروائی کا آغاز کردیا ہے اور حملہ جلد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران کی طرف سے کسی حتمی مقام کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی بلکہ صرف امریکی فوجیوں پر حملے سے آگاہ کیا گیا تھا۔ امریکی ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے ایران سے تشدد ترک کرنے کا مطالبہ کر دیا۔سپیکر امریکی ایوان نمایندگان نے ٹویٹ کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد کا سلسلہ روک دے، امریکا اور دنیا جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔نینسی پلوسی نے ٹرمپ کی جنگ پر مبنی پالیسی پر بھی تنقید کی، انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی غیر ضروری اشتعال انگیزی کا خاتمہ یقینی بنانا ہوگا، ہمیں امریکی اہل کاروں کی حفاظت کو بھی یقینی بنانا ہے۔اسپیکر کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی فوجیوں کو ہدف بنا کر بم باری کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، ایسے میں اپنے اہل کاروں کا تحفظ ضروری ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ بے مقصد اشتعال انگیزی کر رہی ہے، جسے روکنا بھی ضروری ہے۔    امریکی وزیر دفاع نے کشیدگی کم کرنے کی خواہش ظاہر کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایرانی حملوں کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کرنا چاہتے، امریکا ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کا خواہاں ہے۔وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ اگر جنگ کی گئی تو امریکا اسے ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔ریکا نے ایران کیخلاف آپریشن کیلئے چھ بمبار طیارے تعینات کردیے۔امریکی عہدیدار کے مطابق پینٹاگون نے بحر ہند میں برطانوی علاقے ڈیاگو گارشیا میں بی ففٹی ٹو بمبار طیاروں کو تعینات کیا ہے۔ ڈیاگو گارشیا ایران سے تین ہزار میل دور ہے۔یرانی پاسداران انقلاب نے سخت الفاظ میں امریکا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی اقدام یا جارحیت کے مزید تکلیف دہ اور بھرپور ردعمل دیے جائیں گے۔امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آئی آر جی سی ایئرواسپیس فورس کے بہادر سپاہیوں نے جنرل قاسم سلیمانی کے نام پر کامیاب آپریشن میں امریکی فوج کے زیرِ قبضہ عین الاسد فوجی اڈے پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغے۔پاسدارانِ انقلاب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم امریکا کے تمام اتحادیوں کو خبردار کرتے ہیں جو امریکی فوج کو اپنے فوجی اڈے دیتے ہیں کہ اگر کوئی بھی علاقہ کسی بھی طریقے سے ایران کے خلاف جارحانہ اقدام کے آغاز کا مقام بنا تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔بیان میں کہا گیا کہ ہم کسی بھی طریقے سے صیہونی حکومت (اسرائیل) کو امریکی حکومت کے ان جرائم سے الگ نہیں سمجھتے۔پاسدارانِ انقلاب نے امریکی عوام کو زیادہ نقصان سے بچنے کے لیے خطے سے امریکی فورسز کے انخلا اور واشنگٹن حکومت کو امریکی فوجیوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کرنے پر زور دیا۔ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد حسین باقری نے کہا کہ پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کے ذریعے امریکی حکام کو خبردار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عراق میں امریکی فورسز پر کیے گئے حملوں سے ایرانی مسلح افواج کی صلاحیتوں کا ایک چھوٹا سا حصہ سامنے آیا ہے اور وہ حملے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں کیے گئے۔

امریکا اور ایران میں بڑھتی کشیدگی کے باعث نیٹو سمیت کینیڈا، جرمنی اور رومانیا نے اپنے اہلکاروں کو عراق سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد نیٹو نے عراق سے اپنے اہلکاروں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیٹو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا اور ایران کشیدگی کے باعث اپنے چند اہلکاروں کو وقتی طور پر عراق سے کہیں اور بھیجا جارہا ہے۔ترجمان نیٹو کے مطابق چند اہلکاروں کو ان کی حفاظت کے پیش نظر عراقی دارالحکومت سے ملک کے اندر یا پھر دیگر ممالک بھیجا جائے گا تاہم نیٹو کی عراق میں موجودگی رہے گی اور حالات کے مطابق عراقی فوجیوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رہے گا جب کہ ٹریننگ آپریشن کو وقتی طور پر معطل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر جرمنی نے بھی عراق سے اپنے اہلکاروں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے، جرمن حکومت کے ترجمان کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ عراق میں موجود 130 میں سے 30 اہلکاروں کو دیگر ممالک میں بھیجا جارہا ہے۔ادھر رومانیا نے بھی اپنے تمام 14 اہلکاروں کو عراق سے نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان اہلکاروں کو دیگر ممالک میں تعینات کیا جائے گا۔کینیڈین حکومت کی جانب سے عراق میں فوجی مشن کو روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر نیٹو میں شامل اپنے چند فوجی اہلکاروں کو عراق سے کویت بھیجا جارہا ہے۔ ایران اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ کہ دونوں ممالک خطے میں امن و سلامتی کیلئے برداشت اورتحمل کا مظاہر ہ کریں، خطہ کسی بھی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا،برطانوی وزیر خارجہ ڈومینیک ریب نے ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عراقی فوجی اڈوں پر بیلسٹنگ میزائل حملوں میں ہلاکتوں کی رپورٹس پر شدید تحفظات ہیں، ہم ایران پر زور دیتے ہیں وہ ایسے غیرذمے دارانہ اور خطرناک حملے دوبارہ نہ کرے اور اس کے بجائے کشیدگی میں کمی کی کوشش کرے۔جرمنی نے عراق میں امریکا کے زیر استعمال فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایران کو انتباہ دیا ہے کہ وہ مزید کسی قسم کی کارروائی سے گریز کرے۔جرمنی کے وزیر دفاع اینگریت کریمپ کیرن بور نے کہا کہ ہم اس جارحیت کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور اب ایران کو چاہیے کہ وہ مزید اشتعال انگیزی سے گریز کرے۔ادھر روسی رکن پارلیمنٹ نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ تنازع سے جوہری جنگ چھڑ سکتی ہے۔روس کے ایوان بالا کے رکن ولادمیر زیباروو نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں سے خطے میں باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے اور اگر امریکا کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہے ہیں تو جوہری جنگ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کیا۔چین نے بھی ایرانی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطی میں تنا کسی کے مفاد میں نہیں اور فریقین کو مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔چین نے کہا کہ وہ ایران امریکا تنازع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں اور مشرق وسطی کی صورتحال انتہائی حساس اور پیچیدہ ہے۔متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور گرگش نے کہا کہ خطے کو موجودہ کشیدہ صورتحال سے نکالنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی میں کمی عقلمندی اور انتہائی ضروری ہے اور استحکام کے حصول کے لیے سیاسی راستہ اختیار کیا جائے۔ادھر ایران کے حملے کے بعد جاپان نے عالمی طاقتوں سے خطے میں کشیدہ صورتحال میں کمی پر زور دیا ہے اور موجودہ صورتحال میں جاپانی وزیر اعظم کی جانب سے سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات کا دورہ منسوخ کیے جانے کا امکان ہے۔جاپانی کابینہ کے ترجمان یوسی ہائید سوگا نے کہا کہ جاپان تمام متعلقہ ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ جاپان خطے میں موجود اپنی ویسلز اور ئل ٹینکرز کی مدد کے لیے ایک وارشپ خلیجی ممالک کی جانب روانہ کر رہا ہے۔پولینڈ نے تصدیق کی ہے کہ عراق پر ایرانی فضائی حملے میں پولش فوج کا کوئی بھی اہلکار ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔دریں اثناامریکا نے 3 دن کے اندر کویت سے فوج نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔کویتی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ عریفجان کیمپ کے امریکی کمانڈرکا خط ملا ہے جس میں 3 دن میں انخلا کا بتایا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم امریکی محکمہ دفاع سے رابطہ کر رہے ہیں۔امریکا اور ایران میں بڑھتی کشیدگی کے باعث نیٹو اور رکن ممالک کینیڈا، جرمنی ہنگری اور رومانیہ سمیت کئی ممالک نے اپنے فوجی اہلکاروں کو عراق سے نکالنے کا فیصلہ کیا تھا. عراق میں نیٹو کے تحت کینیڈا کے 500ہنگری کے200رومانیہ کے 14جرمنی کے120اورکروشیا کے 14اہلکار موجود تھے جنہیں ایرانی حملوں کے فوری بعد اردن اور کویت میں محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔عراق کی جنگ میں نیٹو کے رکن ممالک میں سے برطانیہآسٹریلیاڈنمارکناروے پرتگال سپین بلغاریہ فرانس اور اٹلی جیسے اہم ممالک پہلے ہی طویل جنگ کی وجہ سے اپنے دستے عراق سے نکال چکے ہیں اور اب امریکا کے ساتھ نیٹو اتحادیوں میں چند ممالک ہی باقی بچے تھے تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر انہوں نے بھی اپنے دستے نکال لیے ہیں. ایک اہم امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے سے پہلے اپنے نیٹو اتحادیوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیاجس کی وجہ سے وہ اسے امریکا ایران جنگ سمجھ کر اپنے فوجی نکال رہے ہیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عراق میں امن وامان کی خراب ہوتی صورتحال کی وجہ سے اب عراقی تیل تک نیٹو اتحادیوں کی رسائی آسان نہیں رہی تو دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کا نیٹواتحادیوں کے ساتھ ہتک آمیزرویہ ہے صدر ٹرمپ کئی بار باور کرواچکے ہیں کہ امریکا کو نیٹو میں زیادہ حصہ دینا پڑتا ہے جبکہ یورپی اتحادی نیٹوکے فنڈزکے لیے بہت تھوڑی مالی معاونت فراہم کرتے ہیں.،

جوابی وار

مزید : صفحہ اول