اتھارٹی کے قیام اور بھرتیوں کے عمل میں شفافیت اور میرٹ اولین ترجیح ہے، محمودخان  

  اتھارٹی کے قیام اور بھرتیوں کے عمل میں شفافیت اور میرٹ اولین ترجیح ہے، ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے خیبرپختونخوا اربن موبیلیٹی اتھارٹی (KPUMA) کے قیام کے لئے اقدامات تیز کرنے اور مجموعی لائحہ عمل بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اتھارٹی کے سروس اور ریگولیشن رولز کو محکمہ قانون سے جانچ پرک کرانے کے بعد متعلقہ فورم میں پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ اتھارٹی کے قیام اور اس میں بھرتیوں کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائیگا۔ انہوں نے اتھارٹی کے امور کو بہتر طریقے سے چلانے کے لئے مستقل بنیادوں پر منیجنگ ڈائیریکٹر کی آسامی پر بھرتی کے لئے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں خیبرپختونخوا اربن موبیلیٹی اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے آٹھویں بورڈ کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، رکن صوبائی اسمبلی فیصل زمان، آصف خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر خان، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، ڈی آئی جی ٹریفک، سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ پشاور، پروفیسر اربن اینڈ ریجنل پلاننگ یونیورسٹی آف پشاور ڈاکٹر اختر علی شاہ ودیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کو اتھارٹی کے قیام، پیش رفت اور ٹرانس پشاور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو اتھارٹی کے بورڈ اور کمیٹی کے قیام کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی میں محکمہ خزانہ، لوکل گورنمنٹ، ٹرانسپورٹ، پی اینڈ ڈی، ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ودیگر شامل ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضلع پشاور ایک تاریخی شہر ہے اس کی خوبصورتی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ پشاور کے شہریوں کو تمام تر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی۔ خیبرپختونخوا اربن موبیلیٹی اتھارٹی کے قیام کوقوائد و ضوابط کے مطابق عملی جامہ پہنانے کے لئے ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے قبائلی ضلع خیبرمیں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے تحصیل باڑہ سے مستک روڈ براستہ شین کمر 43کلومیٹر سڑک کی تعمیر نو کا افتتاح کیا ہے۔ منصوبہ 1.6ارب روپے کی لاگت سے دو سالوں میں مکمل کیا جائیگا، جس سے سفر کا دورانیہ چار گھنٹوں سے کم ہو کر دو گھنٹوں تک ہو جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ میں ایمرجنسی ریسکیو1122 کے عمارت پر تعمیراتی کام کا افتتاح کیا ہے۔ منصوبے کی تخمینہ لاگت 45ملین روپے ہے، جبکہ یہ منصوبہ اٹھارہ مہینوں میں مکمل کیا جائیگا۔ اسی طرح تحصیل جمرود میں بھی 14.172ملین روپے کی لاگت سے ریسکیو1122کے لئے بلڈنگ پر تعمیراتی کام کا افتتاح کیا ہے، جس کی تکمیل دو سالوں میں ممکن بنائی جائیگی۔ اس دوران وزیراعلیٰ نے تحصیل باڑہ میں عوامی سہولت مرکزکے عمارت کا بھی افتتاح کر دیا ہے، مرکز19.700ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے قبائلی ضلع خیبر کا مصروف ترین دورہ کیا، جہاں پر انہوں نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔دورے کے دوران ایم این اے اقبال آفریدی، ممبر صوبائی اسمبلی شفیق آفریدی، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ، ڈپٹی کمشنر قبائلی ضلع خیبرو دیگر بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ دورہ خیبر کے موقع پر وزیراعلیٰ نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے معصوم بچے حاضر خان ولد فرہاد خان کیساتھ ملاقات کرکے ان کو نقد پچاس ہزار روپے بطور مالی امداد دیا، اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ نے ڈی سی خیبر اور پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ کو مذکورہ بچے کے والدہ صاحبہ کا علاج، ماہانہ وظیفہ اور بچے کی تمام تر تعلیمی اخراجات صوبائی حکومت کی طرف سے برداشت کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے تحصیل باڑہ میں باڑہ پریس کلب کے نو منتخب کابینہ سے حلف بھی لیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی اضلاع کی مجموعی ترقی کے لئے دس سالہ منصوبہ بندی کی گئی ہے، جبکہ قبائلی اضلاع کے لئے 83ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ تمام تر ترقیاتی کام عوام اورضم شدہ قبائلی اضلاع سے منتخب صوبائی اسمبلی اراکین کے خواہشات اور ترجیحات کیمطابق کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی فراہم کردہ 12ارب روپے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل پر خرچ کئے گئے ہے، جبکہ کم از کم پچاس ارب روپے مزید اس سال قبائلی اضلاع کی ترقی پر خرچ کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاصہ دار اور لیویز فورس کیساتھ صوبائی حکومت کا کیا گیا وعدہ مکمل کیا گیا ہے، اب یہ صوبائی پولیس کا حصہ ہے اور پولیس کی طرز پر ان کو تمام تر مراعات ملے گی۔ جمرود ہسپتال میں بے ضابطگیوں پر ایک صحافی کے سوال پر وزیراعلیٰ نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں انکوائری کی جائیگی، جس کے بعد متعلقہ حکام کے خلاف قانون کیمطابق کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم صحافت کے شعبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہے، اور صحافیوں سے امید رکھتے ہے کہ معاشرے سے برائی ختم کرنے میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔

مزید : صفحہ اول


loading...