جنرل قاسم سلیمانی کا معاملہ، لیکن وہ سوالات جن کا جواب فوری ایران کو ڈھونڈنا پڑے گا

جنرل قاسم سلیمانی کا معاملہ، لیکن وہ سوالات جن کا جواب فوری ایران کو ڈھونڈنا ...
جنرل قاسم سلیمانی کا معاملہ، لیکن وہ سوالات جن کا جواب فوری ایران کو ڈھونڈنا پڑے گا

  



لاہور(کالم:لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان)ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت مشرق وسطیٰ کا ایک ایسا سانحہ ہے جسے مدتوں تک بھلایا نہیں جا سکے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی بہت سے سوال بھی ذہن میں پیدا ہو رہے ہیں۔مثلاً:

1۔ کیا کسی ملک کے ٹاپ جنرل کی آمد و رفت کا شیڈول خفیہ نہیں رکھا جاتا؟…… اگر سوال اثبات میں ہے تو یہ کیسا اخفا اور کیسی پوشیدگی تھی کہ دشمن کے لئے جنرل کی گاڑی کو ٹارگٹ کرنا آسان ہو گیا؟

2۔کیا ایران کی انٹیلی جنس ایجنسیوں میں ایسے ایجنٹ موجود تھے جو دشمن کے ساتھ خفیہ رابطوں میں تھے…… ایران (اور عراق) میں حال ہی میں جو بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور ان میں سینکڑوں جانیں ضائع ہو گئیں اور سینکڑوں لوگ ابھی تک حوالہ ء زنداں ہیں ان میں کئی ایسے اشخاص بھی تو ہوں گے جو ایرانی حکومت کے نمبر ٹُو طاقتور ترین فرد کو ٹھکانے لگانے کے لئے امریکی ایجنسیوں سے ملے ہوئے ہوں گے۔ جنرل سلیمانی سے زیادہ باخبر شخصیت پورے ایران میں کوئی دوسری نہ تھی تو اب ایرانی حکومت کو اس سوال پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ان ملک دشمن عناصر کی خبر لے۔

عراق پر 2003ء سے لے کر اب تک امریکی اثرات ظاہر و باہر رہے ہیں۔ بغداد کے نواح میں ’بلاد‘ نامی فوجی چھاؤنی جس میں امریکی سفارت خانہ واقع ہے وہاں تو چپے چپے میں CIA کے جاسوس موجود ہیں اور اگر جنرل سلیمانی کی گاڑی کو ہیلی کاپٹروں یا ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تو اس کی پلاننگ کوئی ہنگامی بنیادوں پر تو نہیں کی گئی ہو گی۔ ڈرون حملے کے لئے آسمان کی وسعتوں میں محوِ پرواز ڈرون کو زمین پر سے ٹارگٹ کی نشاندہی از بس ناگزیر ہوتی ہے۔ ایران کو تسلیم کرنا چاہیے کہ اس کی انٹیلی جنس ایجنسی میں نقب لگائی جا چکی ہے۔

القدس کے نئے کمانڈر کو اس سلسلے میں تحقیق و تفتیش کا دائرہ وسیع کرنا ہو گا۔ وی وی آئی پی (VVIP) شخصیات کی آمد و رفت کے لئے جو ’سرخ کتاب‘ ہر ملک کی انٹیلی جنس شائع کرتی ہے اس کی من و عن پیروی کرنے میں اگر کسی تساہل کا ارتکاب کیا گیا ہے تو ایران کو اس پر نہایت سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آج اگر امریکہ ایران کی دوسری پاور فل شخصیت کو نشانہ بنا سکتا ہے تو کل کلاں پہلی پاور فل شخصیت بھی اس کی زد پر ہو سکتی ہے۔ بلکہ ایران ہی پر کیا منصر، کسی بھی ملک کی کوئی بھی شخضیت کسی بھی وقت امریکی ڈرونوں کا ہدف بن سکتی ہے۔

3۔ ایران نے جو یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے جنرل کی شہادت کا انتقام لے گا تو کیا ایسا اعلان کرنا ضروری تھا؟…… اس اعلان کے جواب میں ٹرمپ نے اپنا جوابی پروگرام سب پر واضح کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے ایران کے 52مقامات کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔ اگر ایران نے کسی امریکی ہدف پر وار کیا یا کسی امریکی شخصیت کو نشانہ بنایا تو 52ایرانی اہداف کے خلاف ”شدید“ (Hard) کارروائی کی جائے گی۔اس کے جواب میں ایران نے بھی 35امریکی اہداف کی تعداد ’فاش‘ کر دی ہے۔

4۔ کیا ٹرمپ نے جو یہ الزام لگایا ہے کہ جنرل سلیمانی کسی امریکی شخصیت یا مفاد پر حملے کی پلاننگ کر رہے تھے تو ایرانی انٹیلی جنس کو یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ اگر ٹرمپ کی یہ بات درست ہے تو اس کا اپنا انٹیلی جنس نیٹ ورک سارے کا سارا اوورہالنگ چاہتا ہے۔

5۔ ایران نے جس انتقامی کارروائی کا اعلان کیا ہے کیا وہ قابلِ عمل بھی ہے یا صرف دھمکی ہے؟…… اور اگر قابلِ عمل ہے تو اس کے ممکنہ ٹارگٹ کیا ہو سکتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اسرائیل اور امریکی سنٹرل کمانڈ کے وہ عناصر اس انتقامی ایکشن کا نشانہ بنائے جا سکتے ہیں جو مشرق وسطیٰ کے اس خطے میں ایران کے سامنے موجود ہیں۔ ان عناصر کے ٹھکانے عرب ریاستوں میں ہوں یا آس پاس کے ممالک میں ہوں، ان پر امریکی سیکیورٹی سخت کی جا چکی ہو گی۔ امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور ہے۔ ایران اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

گزشتہ برسوں سے امریکہ نے ایران پر جو پابندیاں لگا رکھی ہیں ان کی وجہ سے ایران کی اقتصادی کمر بڑی حد تک زخمی ہوچکی ہے اور ہمارا خیال نہیں کہ ایران، امریکہ کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کر سکتا ہے۔ تادمِ تحریر روس اور چین کی طرف سے بھی ایران کے حق میں کوئی ایسا بیان نہیں آیا کہ اس کو امریکہ کے مقابل ایک نیا اتحادی بلاک سمجھا جا سکے۔ فرض کریں اگر ایران کسی امریکی مقام / مفاد/ شخصیت کو نشانہ بناتا ہے اور امریکہ اس کے جواب میں ایران پر جوابی وار کرتا ہے تو اس سے آنے والے کئی برسوں میں ایران کی قوت وحیثیت شدید طورپر گہنا جائے گی۔

ایران کے شمال میں افغانستان میں امریکہ موجود ہے اور جنوب میں عرب اور خلیجی ریاستوں میں بھی امریکی مفادات کے محافظ دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسرائیل ان سب پر مستزاد ہے۔ امریکہ نے اس خطے میں جو ساڑھے تین ہزار مزید فوجی بھیج دیئے ہیں اس کا مطلب شائد یہ بھی ہے کہ امریکہ، ایرانی سرزمین پر اپنے سپاہ کے بوٹ دیکھنا چاہتا ہے۔ ایران کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ آج کا ایران، دوسری جنگ عظیم کے جاپان سے زیادہ طاقتور نہیں۔ لیکن جب امریکہ نے اگست 1945ء میں جاپان پر جوہری حملے کئے تھے اور جاپان کے شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے سرنڈر کر دیا تھا تو جنرل میکارتھر نے جاپان میں امریکی فوج داخل کرکے جو کچھ کیا تھا، ایران کو اس سے سبق لینا چاہیے۔

یہ درست ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال اگرچہ چند برس پہلے والی نہیں رہی اور رشین نیوی اور ائر، شام کی بندرگاہوں اور فضائی مستقروں میں موجود ہے لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ روس یا چین، ایرانی حمائت میں اتنا آگے نہیں بڑھیں گے کہ اپنے کور مفادات کو داؤ پر لگا دیں۔

اور جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ اعلان کر چکا ہے کہ اس کی سرزمین، ایران پر کسی حملے کے لئے امریکہ کو آفر نہیں کی جائے گی۔ اور ویسے بھی دیکھا جائے تو امریکہ کو پاکستانی سرزمین (یا فضائی حدود) کی ضرورت ہی کیا ہے۔ وہ کابل، بگرام اور شیندند وغیرہ سے وہی کام لے سکتا ہے جو اس نے 2001ء میں پاکستان کی شمسی بیس یا جیکب آباد وغیرہ سے لیا تھا۔

اور دوسری طرف قطر اور بحرین میں امریکی فوجی موجودگی ایران کو سینڈوچ کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس لئے ہماری نظر میں ایران نے انتقامی کارروائی کا جو نعرہ لگایا ہے وہ فی الفور قابلِ عمل نہیں ہوگا۔ شائد ایرانی حکومت جنرل سلیمانی کے سانحے پر اپنے عوام کی ہنگامی اور جذباتی تشفی کے لئے یہ بیان دے رہی ہے۔ ہمارے خیال میں ایران کو انتقام کے لئے ایک طویل انتظار کی ضرورت ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ ایرانی، جذبات میں آکر کوئی ایسا اقدام نہ کردیں جو آنے والے ایام میں اس کے لئے ناقابلِ برداشت بن جائے۔

کسی بھی پاکستانی کو اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ نے جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ خود ایک عالمی دہشت گرد ہے۔ دہشت گردی کے اسی عفریت نے اسامہ بن لادن کو جنم دیا تھا۔ لیکن طالبان کے امریکی سرزمین پر حملے کا نتیجہ کیا نکلا تھا؟…… ساری دنیا نے دیکھا کہ امریکہ نے دو جڑواں ٹاوروں پر حملے کے جواب میں پورے مشرقِ وسطیٰ کو روند ڈالا۔ اگر آج ایران اور سعودی عرب آپس میں شیر و شکر بھی ہو جائیں اور شیعہ سنی تفرقہ مٹ بھی جائے تو پورے 57اسلامی ممالک مل کر بھی امریکہ کا بال تک بیکا نہیں کر سکتے۔

امریکہ فوجی اور اقتصادی لحاظ سے اکیلا اتنا طاقتور ہے کہ اسے کسی اتحادی کی ضرورت نہیں۔ جو حضرات میری اس بات کو مایوسی یا قنوطیت وغیرہ سے تعبیر کریں ان کو ورلڈ ملٹری ہسٹری کا معروضی مطالعہ کرنا چاہیے۔لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ آج اگر کوئی بھی ملک امریکی مفاد کے خلاف کوئی چھوٹا سا بیان بھی داغتا ہے تو مغربی یورپ کے ممالک (برطانیہ، فرانس اور جرمنی بالخصوص) فوراً سے پیشتر امریکہ کے حق میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اتحاد کا یہ کلچر کسی دوسرے عالمی بلاک میں نظر نہیں آتا۔

ہمارا خیال نہیں کہ ایران، امریکہ کے خلاف کوئی ایسا جوابی اقدام کرے گا کہ اس سے خود اس کے وجود اور امنِ عالم کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکی وزیر خارجہ نے جنرل سلیمانی کے مارے جانے کے بعد پاکستانی آرمی چیف سے بات کی تو ہمارے آرمی چیف نے دونوں فریقوں کو تحمل اور برداشت پر عمل پیرا ہونے کو کہا۔ ایسا ہی بیان روس، چین اور انڈیا کی طرف سے بھی آیا ہے اور کسی نے بھی کھل کر امریکی اقدام کی مخالفت نہیں کی۔لیکن ایران بھی اس عالمی ردعمل کو بڑی گہری نظر سے دیکھ رہا ہوگا۔ پاکستان کو یاد ہوگا کہ جب امریکہ نے ایبٹ آباد میں نیوی سیل (SEAL)اور اپنے ہیلی کاپٹر بھیج کر حملہ کر دیا تھا تو اس پر عالمی ردعمل کیا آیا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا گزشتہ صدی میں دوسری عالمی جنگ والی دنیا سے بہت مختلف ہے۔ جوہری ٹیکنالوجی نے دنیا کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔روائتی جنگ و جدال کا موسم گزر چکا ہے اور ففتھ جنریشن وار میں کائی نیٹک وار کا حصہ بہت ہی کم ہو چکا ہے۔ آج کا امریکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کے امریکہ سے آگے نکل کر زیادہ طاقتور بن چکا ہے اور آج کی مسلم ورلڈ دوسری عالمی جنگ کے زمانے کی مسلم ورلڈ سے پیچھے جا کر کمزور ہو چکی ہے۔ اس تلخ حقیقت کا ادراک مسلم ورلڈ نے پہلے بھی نہیں کیا تھا اور اب بھی نہیں کر رہی…… اس حقیقت کی وہ جھلک جو راقم السطور کے ذہن میں ہے اس کی کچھ تفصیل انشاء اللہ کسی اگلے کالم میں!

مزید : بین الاقوامی /علاقائی /پنجاب /لاہور