کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی حراست غیرقانونی قرار، عدالت نے رہائی کا حکم دیدیا

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی حراست غیرقانونی قرار، عدالت نے رہائی کا حکم ...
کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی حراست غیرقانونی قرار، عدالت نے رہائی کا حکم دیدیا

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی حراست کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی حراست سے متعلق کیس کی سماعت کی۔دورانِ سماعت جسٹس مرزا وقاص رؤف نے ریمارکس دیئے کہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی حراست کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔عدالت نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا۔اس موقع پر عدالت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل الیاس ساجد بھٹی بھی موجود تھے۔

اس کیس کی 2 جنوری کو سماعت کے موقع پر وزارتِ دفاع نے کرنل انعام کو تحویل میں رکھنے کا اعتراف کیا تھا جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔3 جنوری کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کیس کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے  آج کی تاریخ مقرر کی تھی۔عدالتِ عالیہ نے وفاق اور وزارت دفاع کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

عدالت کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ پوچھا جا رہا ہے کہ انعام الرحیم ایڈووکیٹ کو کس قانون کے تحت اٹھایا گیا ہے لیکن کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ہے۔سماعت کے موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی، جیک برانچ کے ڈائریکٹر لیگل بریگیڈیئر فلک ناز اور وزارتِ داخلہ کے نمائندے شہزاد انجم عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت سے قانونی معاونت کے لیے مہلت طلب کرتے رہے۔واصف خان اور شیخ احسن الدین ایڈووکیٹس نے کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ کی طرف سے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ انعام الرحیم کی حراست غیر قانونی ہے۔

واضح رہے کہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم لاپتہ افراد اور آرمی کے حوالے سے کیسز کی پیروی کر رہے تھے، جنہیں 16 دسمبر کو راولپنڈی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا گیا تھا۔ان کے صاحبزادے حسنین انعام نے اس واقعے کی تھانہ مورگاہ میں ایف آئی آر بھی درج کرائی ہوئی ہے جبکہ محمد واصف خان، ملک وحید اختر، رانا عبدالقیوم اور ڈاکٹر شہزاد اقبال شام ایڈووکیٹ کے ذریعے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ کی بازیابی کے لیے عدالتِ عالیہ سے رجوع بھی کر رکھا ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...