جنگ کے امکانات ختم ؟ایران نےعسکری تنظیموں کو امریکی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کی ہدایات کردی،امریکی نائب صدر کا دعویٰ

جنگ کے امکانات ختم ؟ایران نےعسکری تنظیموں کو امریکی تنصیبات کو نشانہ نہ ...
جنگ کے امکانات ختم ؟ایران نےعسکری تنظیموں کو امریکی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کی ہدایات کردی،امریکی نائب صدر کا دعویٰ

  



واشنگٹن/بغداد/دبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے امکانات ختم ہونے لگے۔امریکا کے نائب صدر مائیک پینس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ  ایران نے عراق میں موجود اپنی عسکری تنظیموں کو ہدایات دی ہیں کہ وہ امریکی تنصیبات کو نشانہ نہ بنائیں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے فوجی اڈے پر میزائل حملوں کا جواب دینے کاارادہ نہیں رکھتا۔انہوں نے بتایا کہ واقعے میں کوئی امریکی ہلاک یا زخمی بھی نہیں ہوا۔ٹرمپ نے کہا ایسا نہیں ہے کہ ہمارے پاس بھاری ہتھیار ہیں تو ہم انہیں ہر صورت استعمال بھی کریں۔

دوسری جانب ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف کی ٹویٹ سے بھی یہی تاثر ابھرتا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا۔ جوادظریف نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ امریکی اڈوں پر حملہ سلیمانی کے قتل کا جواب تھا،’ہم جنگ یا کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے،تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں اپنابھرپوردفاع کریں گے۔

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے سی بی ایس کو انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا کو ایسی خفیہ اطلاعات ملی ہیں کہ ’ایران اپنی ملیشیاوں کو پیغامات بھجوا رہا ہے کہ وہ امریکی تنصیبات اور مفادات پرحملہ نہ کریں‘۔

مائیک پینس

امریکی چیئرمین جوائنٹس چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی کہتے ہیں کہ انہیں اور کچھ دیگر اعلیٰ عسکری عہدیداروں کو یقین ہے کہ عراق کی کوئی شیعہ ملیشیاامریکی اتحادی فوج کو شام یا عراق میں نشانہ بن سکتی ہیں۔

مزید : اہم خبریں /بین الاقوامی /عرب دنیا


loading...