’میزائل حملوں کا مقصد امریکی فوجیوں کو مارنے کی بجائے جنگی مشینری کو نقصان پہنچانا تھا، ابھی مزید حملے بھی ہوں گے‘ ایران نے اعلان کردیا

’میزائل حملوں کا مقصد امریکی فوجیوں کو مارنے کی بجائے جنگی مشینری کو نقصان ...
’میزائل حملوں کا مقصد امریکی فوجیوں کو مارنے کی بجائے جنگی مشینری کو نقصان پہنچانا تھا، ابھی مزید حملے بھی ہوں گے‘ ایران نے اعلان کردیا

  



تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے فضائی شعبے کے سربراہ عامر علی حاجی زادے نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی بیسز پر حملے کا مقصد کسی فوجی اہلکار کو مارنے سے زیادہ امریکہ کی فوجی مشینری کو نقصان پہنچانا تھا، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں ایسے مزید حملے بھی کیے جائیں گے۔

جمعرات کے روز ایران کے سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں عامر علی حاجی زادے نے کہا کہ خطے سے امریکی افواج کا انخلا ہی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا حقیقی بدلہ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عراق میں امریکی ایئر بیسز پر کیا جانے والا حملہ تو صرف ابتدا ہے،خطے میں اس طرح کے مزید حملے بھی کیے جائیں گے۔

قبل ازیں جمعرات کو ہی پاسداران انقلاب کے سربراہ عبداللہ اراغی نے بھی کہا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا سخت بدلہ لیا جائے گا۔ ایران کے صدر حسن روحانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کا مشن خطے سے امریکی افواج کا انخلا ہے۔

عامر علی حاجی زادے نے بتایا کہ وہ ایک سے 2 گھنٹے کے وقت میں سینکڑوں میزائل برسانا چاہتے تھے لیکن عین الاسد پر 13 میزائل داغے گئے۔ ہم نے سوچا تھا کہ اس کے نتیجے میں 3 سے 7 روز کی جنگ شروع ہوگی اور ہم نے اس جنگ کے دوران ہزاروں میزائل داغنے کی تیاری مکمل کرلی تھی۔

پاسداران انقلاب کے فضائی شعبے کے سربراہ نے نقشوں کی مدد سے ساری صورتحال واضح کرتے ہوئے بتایا کہ تمام میزائل اپنے نشانے پر لگے او ر سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام تر سہولیات ہونے کے باوجود دوسری جانب سے ہمارے میزائلوں پر ایک گولی بھی نہیں چلائی گئی ، وہ ہمارا سامنا ہی نہیں کرپائے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل حملے میں زخمی ہونے والے فوجیوں کو اردن، اسرائیل اور بغداد منتقل کیا گیا ہے، اگر امریکی صدر کا کوئی ہلاکت نہ ہونے کا دعویٰ درست ہے تو وہ عین الاسد ایئر بیس میں کسی صحافی کو جانے کی اجازت کیوں نہیں دے رہے۔

خیال رہے کہ ایران نے بدھ کے روز عراق میں 2 امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ ایران کی جانب سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں میں 80 فوجی ہلاک ہوئے ہیں لیکن بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ میزائل حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اعلان کیا تھا کہ ایران نے ان میزائل حملوں کے ذریعے اپنا بدلہ مکمل کرلیا ہے ، اب وہ مزید کوئی کشیدگی نہیں چاہتے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی میڈیا بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ وہ جوابی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا تاہم اگلے ہفتے امریکہ پر سخت معاشی پابندیاں عائد کرے گا۔

مزید : بین الاقوامی