سانحہ مچھ ، لواحقین کے تمام مطالبات منظور کر لیےگئے، علی زیدی کا اعلان

سانحہ مچھ ، لواحقین کے تمام مطالبات منظور کر لیےگئے، علی زیدی کا اعلان
سانحہ مچھ ، لواحقین کے تمام مطالبات منظور کر لیےگئے، علی زیدی کا اعلان

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیرعلی زیدی نے کہا ہے کہ ہزارہ برادری کے قتل ہونے والے کان کنوں کے لواحقین کے تمام مطالبات منظور کر لیے ہیں، جن پر عملدرآمد بھی ہوچکا ہے۔ 

ہزارہ برادری کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے علی زیدی کا کہنا تھا کہ  مظاہرین کا افسران کو ہٹانے کا مطالبہ بھی پورا کر لیا گیا ہے ،افسران کی معطلی کا نوٹیفکیشن شہداء کمیٹی کو دے دیا گیا ہے۔  اعلیٰ سطح پر تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ بھی پورا کر کے صوبائی وزیرداخلہ ضیا اللہ لانگو کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو جلد سے جلد واقعہ کے ذمہ داران کا تعین کرے گی،کمیٹی میں دو اراکین بلوچستان اسمبلی ،2سینئر افسران کمیشن کا حصہ ہوں گے،ڈی آئی جی رینک کا پولیس آفیسر کمیشن کا حصہ ہو گا جبکہ کمیٹی میں متاثرین میں سے دو افراد کو شامل کیا جائے گا جن کے نام دھرنا کمیٹی دے گی ،اعلیٰ سطح کی کمیٹی میں مکمل مشاورت کے ساتھ فیصلے ہوں گے جبکہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کمیٹی قائم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے تمام وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سکیورٹی کی فراہمی کا حکم دے دیا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات ہونے سے بچا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ بیرونی طاقتیں ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کراناچاہتی ہیں،گزشتہ کئی سالوں سےہزارہ برادری کےساتھ جاری ظلم کو اختتام پرپہنچنا ہوگا،ملک بھر میں جس کے ساتھ ظلم ہورہا ہے اب ختم ہونا چاہیے،وفاقی اور صوبائی ادارے بلوچستان کے سیکیورٹی پلان کا ازسر نو جائزہ لیں گے، 

علی زیدی نے کہا ہے کہ کسی بھی حکومت نے آج تک ہزارہ برادری کے ساتھ تحریری معاہدہ نہیں کیا لیکن ہم نے لکھ کر دیا ہے کہ شہداء کے لواحقین کے خاندان میں سے ایک فرد کو بلوچستان حکومت کی جانب سے سرکاری نوکری دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدے میں نہیں لکھا ہوا لیکن میں اپنی وزارت کی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ شہید ہونے والوں کے بچوں کو وزارت پورٹس اینڈ شپنگ سکالرشپ دے گی،وزارت بحری امور شہدا کے بچوں کی تعلیم کا خرچ ادا کرے گی۔سید علی زیدی کا کہنا تھا کہ ملک کو اللہ نے سب کچھ دیا ہے،اس ملک کو بہتر گورننس نہیں ملی،اگر ملک میں گورننس ٹھیک ہوتی تو کوئی غریب نہیں ہوتا،مل کر چلیں گے تو اس ظلم کا مقابلہ ضرور کریں گے،مسائل ضرور ہیں ،چیزیں ٹھیک کرنے کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں لیکن ہم نا امید نہیں ہیں ،72سال کی چیزیں ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں،حالات اب بہتری کی طرف جائیں گے،پاکستان معاشی مسائل بلوچستان حل کرسکتاہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -