وائٹ ہاؤس سے رخصتی،بصد حسرت و یاس

وائٹ ہاؤس سے رخصتی،بصد حسرت و یاس

  

عالمی طاقتوں کے معتبر رہنماؤں نے کیپٹل ہل میں تشدد کا ذمے دار صدر ٹرمپ کو قرار دیا ہے ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ واقعہ ذِلت آمیز ہے اور اس سے جمہوریت کی توہین ہوئی ہے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ اقتدار کی منتقلی منظم اور پُرامن طریقے سے ہونی چاہئے،دُنیا بھر میں امریکہ جمہوری موقف کے لئے جانا جاتا ہے۔جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا کہ جمہوریت توڑ پھوڑ کرنے اور بدامنی پھیلانے والوں سے کمزور نہیں،بلکہ زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے کہا کہ کیپٹل ہل میں جو کچھ ہوا وہ امریکی سیاسی کلچر کے مطابق نہیں، کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈیو نے کہا کہ امریکی دارالحکومت کے مناظر جمہوریت پر حملہ ہیں، آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ سوریسن نے کہا کہ ہم ان مجرمانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ عظیم امریکی جمہوری روایت کے مطابق نومنتخب انتظامیہ کو اقتدار منتقل کر دیا جائے گا۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا جمہوریت میں لوگوں کو ووٹ دینے کا حق ہے، ان کی آواز  سننی ہو گی اس فیصلے کو ہجوم کے ذریعے غیر موثر نہیں کرنا چاہئے۔امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش اور ان کی اہلیہ لارا بش نے کیپٹل ہل کے مناظر پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  اس سے ان کا دِل ٹوٹ گیا ہے، اُن کا کہنا تھا  کہ جن لوگوں نے یہ حرکتیں کیں ان کے جذبات کو باطل اور جھوٹی امیدوں سے اشتعال دلایا گیا۔ سابق صدر بل کلنٹن کا کہنا تھا کہ اس حملے کو ٹرمپ کی زہریلی سیاست نے ہوا دی۔ سابق صدر باراک اوباما نے تشدد بھڑکانے کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم کے لئے یہ بے عزتی اور بے شرمی کا لمحہ ہے۔

اوپر صرف چند عالمی رہنماؤں کے مختصر بیانات نقل کئے گئے ہیں،لیکن مذمت کا سلسلہ بہت  وسیع ہے تاہم امریکی سیاسی نظام نے اپنی مضبوطی ثابت کر دی ہے اور حملے کے باوجود کانگرس کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا،جس میں امریکی صدارتی انتخاب کی توثیق کر دی گئی جو الیکشن کے بعد شروع ہونے والے مختلف مراحل کا آخری مرحلہ تھا،اب اقتدار کی منتقلی میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہ گئی اور امید کی جا سکتی ہے کہ روایت کے مطابق یہ مرحلہ بھی بخیرو خوبی طے پا جائے گا، جب سے صدارتی انتخابات مکمل ہوئے ہیں امریکی صدر ٹرمپ ان میں دھاندلی کا الزام لگاتے چلے آ رہے ہیں۔اُن کی قانونی ٹیموں نے جو پہلے ہی سے تیار بیٹھی تھیں اس ضمن میں عدالتوں سے رجوع کیا، سپریم کورٹ تک بھی گئے،لیکن کسی ایک عدالت میں بھی دھاندلی کے کوئی ثبوت سامنے نہ لا سکے، تقریباً ہر عدالت نے یہی فیصلہ دیا کہ دعوے کے حق میں کوئی دلیل اور کوئی ثبوت نہیں دیئے گئے، جمعرات کو امریکی کانگرس انتخابی نتائج کی توثیق کرنے والی تھی، جب اس کی عمارت پر دھاوا بول دیا گیا۔ بل کلنٹن نے اس واقعے کی ذمے داری ٹرمپ کی زہریلی سیاست پر ڈالی ہے۔ امریکہ سے باہر بھی ہر بڑے عالمی رہنما نے اس کی مذمت کی اور ٹرمپ کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا،لیکن لگتا ہے کہ ترپ کا یہ آخری پتہ تھا، جو صدر ٹرمپ نے کھیل دیا اور اسی پتے نے اُن کی سیاسی ناکامی پر مہر تصدیق بھی ثبت کر دی، اب اُن کے ترکش میں کوئی تیر نہیں بچا اور بالآخر انہوں نے ہتھیار ڈال کر شکست تسلیم کر لی ہے۔اہل ِ دانش نے ٹھیک ہی کہہ رکھا ہے،نادان لوگ بھی وہی کچھ کرتے ہیں جو  دانا کرتے ہیں، لیکن کافی خرابی کے بعد۔ ایسے محسوس ہوتا ہے اب صدر ٹرمپ نے تسلیم کرلیا ہے کہ ان کے پاس مزید خرابی پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔

امریکی کانگرس نے پرتشدد مظاہروں کے باوجود جوبائیڈن کی صدارتی انتخابات میں فتح اور انہیں 46واں صدر بنانے کی توثیق کر دی ہے۔ ری پبلکن ارکان بھی ٹرمپ کے خلاف ہو گئے اور پارٹی میں اندرونی لڑائی شروع ہو گئی ہے ایک سو سے زیادہ ارکانِ کانگرس نے ٹرمپ کے مواخذے یا اُنہیں برطرف کرنے کا مطالبہ کیاہے اُنہیں صدارت کے لئے اَن فٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں موجود ترمیم کو استعمال کرتے ہوئے اُنہیں عہدے سے ہٹایا جائے، ویسے تو صدر ٹرمپ اپنے پورے عہد ِ صدارت میں متنازع بنے رہے۔ ان کے احکامات اور اقدامات کو امریکیوں کی بڑی تعداد نے ناپسند کیا انہوں نے ایسے فیصلے کئے جن پر دنیا بھر میں تنقید کی گئی۔خاص طور پر کورونا وبا پھوٹنے کے بعد انہوں نے چین کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور وائرس پھیلانے کاذمے دار بھی قرار دے ڈالا۔عالمی ادارۂ صحت کو چین کا آلہ کار قرار دیا۔ ادارے کی گرانٹ بند کر دی خود امریکہ کے اندر جب کورونا پھیلنا شروع ہوا تو اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ایسے بیانات دیئے جن سے ان لوگوں کا مضحکہ اڑایا گیا،جو دنیا کو حفاظتی اقدامات کی تلقین کرتے تھے، اسے کوئی ہلاکت خیز وائرس ماننے ہی سے انکار کر دیا اور ماسک پہننے والوں کو خندہئ استہزا کا نشانہ بنایا۔ یہ بھی کہا کہ یہ نزلے زکام کی طرح کا وائرس ہے۔ جب نیو یارک میں ہسپتال مریضوں سے بھر گئے اور مردہ خانوں میں لاشوں کے انبار لگ گئے  تو بھی وہ ریاست کے ڈیمو کریٹک گورنر کو ملامت کا نشانہ بناتے رہے۔

اُن کی قابل ِ اعتراض حرکتیں انتخابی مہم کے دوران اور زیادہ بڑھ گئیں وہ الیکشن سے پہلے ہی کہنا شروع ہو گئے کہ وہ شکست کی صورت میں اقتدار منتقل نہیں کریں گے، نتائج آنا شروع ہوئے اور جن ریاستوں میں ری پبلکن پارٹی جیتا کرتی تھی وہاں بھی ان کی شکست ہو گئی تو انہوں نے دھاندلی کا شور مچا دیا۔ جارجیا کے نتائج سے اُنہیں خاصی مایوسی ہوئی، حالانکہ اب وہاں سینیٹ کی دو نشستوں کے انتخاب میں بھی ڈیمو کریٹک امیدوار جیت گئے ہیں اب اُن کے سارے آپشن ختم ہو گئے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ شکست تسلیم کرنے کی جانب مائل ہو گئے ہیں۔ اُن کی آخری امیدیں نائب صدر مائیک پنس سے وابستہ تھیں جنہوں نے یہ اعلان کر کے کہ وہ اپنے حلف اور آئین کے پابند ہیں،اُن کی امیدوں پر پانی پھیر دیا،اب وہ حسرت و یاس کے ساتھ وائٹ ہاؤس کو خیر باد کہنے کے لئے تیار ہیں اور ان کی صدارت کے آخری دو ہفتے بھی خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -