سیاسی جماعتوں کے الیکشن

سیاسی جماعتوں کے الیکشن
سیاسی جماعتوں کے الیکشن

  

خبر نظر سے گذری کہ پیپلزپارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے اور مرکزی تنظیم میں معمولی تبدیلی بھی۔ پارٹی کا سربراہ تو بلاول بھٹو ہی کو ہونا تھا اور وہ ہو گئے، سیکرٹری جنرل بھی پہلے والے نیر بخاری ہیں،البتہ سیکرٹری اطلاعات اور سیکرٹری فنانس تبدیل ہو گئے۔ نفیسہ شاہ کی جگہ فیصل کریم کنڈی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے اور سابق صدر آصف علی زرداری کی سیکرٹری رخسانہ بنگش کو خزانے کا مالک بنا دیا گیا ہے۔خبر کے مطابق اس مقصد کے لئے فوزیہ حبیب کو الیکشن کمشنر بنایا گیا تھا، الیکشن شیڈول کے دوران کسی طرف سے کاغذات نامزدگی آئے ہی نہیں اور یہ سب بلا مقابلہ ہی منتخب ہو گئے ہیں۔ یہ درحقیقت الیکشن کمشن کے قواعد کی ضرورت پوری کی گئی ہے، ورنہ پارٹی الیکشن تو عرصہ دراز ہی سے نہیں ہوئے اور اگر کبھی ایسا کیا بھی گیا تو وہ خانہ پری سے زیادہ نہیں،اس سلسلے میں قارئین کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ یہ پیپلزپارٹی اصل پارٹی ہے اور جس جماعت کی نمائندگی پارلیمینٹ اور اسمبلیوں میں ہے وہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین ہے۔یوں جس جماعت کا انتخاب کرایا گیا یہ پی پی پی ہے اور جو پارلیمینٹ والی ہے، وہ پی پی پی اور پی ہے، اس کے سربراہ خود آصف علی زرداری ہیں۔یہ معمولی تبدیلی اُس وقت کرنا پڑی جب ایک دور میں ملک سے باہر والوں کی  سربراہی منع کی گئی، تب محترمہ بے نظیر بھٹو ملک سے باہر تھیں، چنانچہ جلدی میں راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں پیپلز پارٹی (پارلیمنٹیرین) رجسٹر کرائی گئی اور اس کے تحت الیکشن میں حصہ لیا گیا۔اگرچہ ٹکٹوں کی تقسیم خود محترمہ ہی نے کی تھی، البتہ جاری ٹکٹ پر دستخط ان کے نہیں تھے۔

سب ہی جماعتوں کے اندر جمہوریت کی بات کی جاتی ہے،لیکن حقیقی معنوں میں ماسوا جماعت اسلامی کے کوئی بھی جماعت باقاعدہ الیکشن نہیں کرواتی،اگرچہ جماعت کا نظام اپنا ہے، جسے اسلامی طرز کہا جاتا ہے کہ ممبرز جن کی اہلیت مسلمہ ہوتی ہے، امیر کا انتخاب کرتے ہیں،اس کے لئے شوریٰ تین نام منتخب کر کے ممبران کو روانہ کرتی ہے،ان کی رائے کے بعد فیصلہ ہوتا ہے اور پھر امیر ہی کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ باقی عہدیدار نامزد کرے ایسا ہر چار سال بعد ہوتا ہے۔دوسری جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں،وہ پارلیمانی طرز انتخاب کی قائل ہیں،تاہم ان کے انتخابات قریباً مصنوعی ہوتے ہیں اور جو جماعتیں ہمت کر کے درست طریق کار اختیار کرتی ہیں وہ اختلافات کا شکار بھی ہو جاتی ہیں۔حالیہ ادوار میں تحریک انصاف اس کی مثال ہے کہ یہاں بھی انتخابات ہوئے نئے اختلافات سامنے آئے اور آج متعدد تاسیسی ارکان نظر نہیں آ رہے، جہاں تک جمعیت علماء اسلام کا تعلق ہے تو یہ مولانا مفتی محمود کی وفات کے بعد ہی سے انتخابات کی وجہ سے ایک سے دو ہوتی رہی، اس کا نظام بھی  شورائی ہے اور الحمد للہ اب تو مولانا فضل الرحمن ہر بار امیر منتخب ہو جاتے ہیں۔

یہ جماعت پہلے شوریٰ منتخب کرتی اور شوریٰ امیر کا چناؤ کرتی ہے، حالیہ انتخابات میں حضرت مولانا شیرانی نے مقابلہ کیا اور ہار گئے تھے،اب یہ بھی متحارب جماعت بنانے جا رہے ہیں۔ اگرچہ کہتے یہ ہیں کہ وہ جمعیت علماء اسلام پاکستان میں تھے اور ہمیشہ رہیں گے،ان کا تعلق جے یو آئی(ف) سے نہیں رہا، اللہ بھلا کرے ان بزرگوں کا کوئی پوچھے کہ یا حضرت! آپ کی شخصیت تو وہ بھاری بھر کم شخصیت ہے،جس نے صاحبزادگان کی جنگ اقتدار میں مولانا فضل الرحمن کا دھڑلے سے ساتھ  دیا اور ان کو امیر بنوایا، پھر اسی جماعت کے بینر تلے ٹکٹ لے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے،اور اسلامی نظریاتی کونسل کے بھی چیئرمین رہے۔ پی ڈی ایم کی تشکیل اور اس کے کچھ عرصہ بعد تک بھی آپ کو کوئی اعتراض نہ ہوا،تاہم پھر یکایک آپ نے ”اصولی موقف“ اختیار کر لیا۔

بات کہاں سے شروع کی اور کدھر چلی گئی، عرض تو یہ تھی کہ پیپلزپارٹی کے مرکزی انتخابات ہوئے ہیں۔ یہ جماعت بھی اکثر ادوار میں انتخابات کا ڈول ڈالتی رہی ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ بھٹو دور میں جب ڈاکٹر مبشر حسن(مرحوم) لاہور تنظیم کے جنرل سیکرٹری تھے تو پہلے انتخابات ہوئے۔ڈاکٹر مبشر تکنیکی قسم کی شخصیت بھی تھے کہ بنیادی طور پر سول انجینئر تھے،اِس لئے ان کو نقشے اور خاکے بنانے کا بہت شوق تھا۔ انہوں نے بڑے اہتمام سے ووٹرز کی فہرستیں مرتب کرائیں اور پھر پرائمری سطح پر وارڈ تشکیل دے کر انتخابات کرائے،ان انتخابات میں میں ”رولا“ پڑا تھا۔ تاہم تنظیم مکمل ہو گئی تھی، اس کے بعد پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی، والا معاملہ ہو گیا اور خود ڈاکٹر صاحب پارٹی کے سیکرٹری جنرل بھی ہو گئے، پہلے سیکرٹری جنرل جے اے رحیم تھے اور یہ بھی نامزدگی ہی تھی، بعد میں جب بھی انتخابات کا ذکر ہوا، ایسا ہی ہوتا رہا، چنانچہ اب اگر یہ ہو گیا تو کیا فکر بلاول بھٹو زرداری مبارکباد کے مستحق ہیں۔

اگر مسلم لیگ کا ذکر نہ کیا جائے تو بات مکمل نہ ہو گی،سر آغا خان کی تشکیل آل انڈیا مسلم لیگ کے آخری متحد صدر خود قائداعظمؒ تھے۔اگرچہ قیام پاکستان سے قبل یہ جماعت بھی دو حصوں میں بٹی، لیکن اصل مسلم لیگ یہی رہی،مسلم لیگ کے دستور کے مطابق جنرل کونسل کا الیکشن ہوتا ہے اور یہ جنرل کونسل صدر منتخب کرتی ہے،پھر صدر کو باقی عہدیدار نامزد کرنے کا اختیار مل جاتا ہے،قیام پاکستان کے بعد پنجاب میں ابتدا دولتانہ،ممدوٹ کشمکش سے ہوئی اور یہ جماعت ایک سے دو ہو گئی، ایک بات یاد رہے کہ جب کبھی کوئی آمر آیا، اسے بھی جماعت کی ضرورت محسوس ہوئی تو یہ مسلم لیگ ہی ہوتی تھی۔ ایوب خان نے قبضہ کیا تو کنونشن منعقد کیا گیا، جبکہ مقابلے میں کونسل کا اجلاس ہوا جس میں میاں ممتاز دولتانہ صدر  ہوئے تھے۔ یوں یہ جماعتیں مسلم لیگ کنونشن، اور مسلم لیگ کونسل کہلاتی ہیں، آج ماشاء اللہ بہت ترقی کے بعد عوامی مسلم لیگ تک بھی ہے، جس کے ایک ہی عہدیدار ہیں اور ان کا نام شیخ رشید ہے۔

مزید :

رائے -کالم -