اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا!

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا!
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا!

  

سینیئر صحافی اور معروف کالم نگار میرے عزیز دوست روف طاہر پیر کی صبح حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال کر گئے۔ ان کی عمر68 برس تھی۔وہ یونیورسٹی جانے کے لیے صبح تیار ہو رہے تھے کہ اچانک انہیں دل کا دورہ پڑا۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا۔ جہاں وہ چل بسے۔کالج کے زمانے میں روف طاہر اسلامی جمعیت طلباء کے سرگرم رکن رہے۔ ان کا قیام ملتان میں بھی رہا جہاں میری ان سے ملاقات رہی۔ ان کا آبائی شہر ہارون آباد تھا۔ میں ان سے برادرانہ شفقت رکھتا تھا کہ وہ میرے علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ کسی ہنستے بستے دوست کے ساتھ اچانک ہی مرحوم لکھنا کتنا مشکل ہوتا ہے یہ کوئی مجھ سے پوچھے۔ روف طاہر رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ کالم نگاری میں بھی کمال رکھتے تھے۔ ان کا صحافتی سفرعشروں پر پھیلا ہوا ہے۔ ہفت روزہ زندگی، روزنامہ نوائے وقت سمیت دیگر کئی صحافتی اداروں سے طویل عرصہ تک وابستہ رہے۔روزنامہ دنیا میں ’جمہورنامہ‘ کے عنوان سے کالم تحریر کرتے تھے۔ ظفرعلی خان ٹرسٹ کے سیکریٹری بھی تھے جبکہ ایک یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کے طورپر پڑھا بھی رہے تھے۔حکومت پاکستان کی طرف سے صحافت میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔

 بھائی روف طاہراسلام اور جمہوریت کے سچے شیدائی اور مظلوم کے ہمدرد اور دوست نواز انسان  تھے۔ رؤف طاہر کی یاد داشت بہت اچھی تھی، اپنے کالموں میں وہ ماضی کے حوالوں کی صحت کا خیال رکھتے۔ ان کی دلچسپی کا اصل میدان سیاست تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کیلئے صحافت روز گار کا زریعہ نہیں بلکہ ایک مشن تھا جس کیلئے وہ انتہائی مخلص تھے۔ انہوں نے اپنی تمام عمر اسلام، نظریہ پاکستان، آئین و جمہوری اقدار کی سربلندی کے لئے مسلسل کام کیا اور اپنے اصولوں اور نظریات پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ اپنے نظریاتی محاذ پر ایک نڈر اور بے خوف مجاہد کی طرح ڈٹے رہے۔

سعودی عرب میں اردو نیوز نے میگزین کا اجرا کیا تو ایک دہائی سے زیادہ عرصے بطور میگزین ایڈیٹر خدمات انجام دیں۔میگزین بند ہونے کے بعد پاکستان واپس آ گئے۔سعودی عرب میں قیام کے دوران میاں نواز شریف کے ساتھ بہت زیادہ تعلق رہا۔ میاں نواز شریف کا بیانیہ ان کی نظر میں جمہوریت کی واحد تعبیر بن گیا تھا۔ صدق دل کے ساتھ وہ میاں نوا ز شریف کے وکیل بن چکے تھے۔  میاں نواز شریف نے وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کے بعد اپنی جلا وطنی کے دوستوں کو خوب یاد رکھا۔ جناب روف طاہر کی ریلوے کے اطلاعات و عوامی رابطے کی نشست پر تقرری ہوئی۔ یہاں بھی وہ ٹھاٹھ باٹھ کی بجائے اپنے کام سے کام رکھے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعد رفیق ریلوے کی بہتری کیلئے بہت کچھ کر رہے ہیں جو عوام تک پہنچانا میرا کام ہے اور انہوں نے وہ کام بخوبی سر انجام دیا۔

سعودی عرب میں قیام کے زمانے میں روف طاہر اور شاہد ندیم خان نے میرے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا جس میں صحافیوں اورشاعروں اورتجزیہ نگاروں نے شرکت کی۔یہ 2007ء کی بات ہے جب میاں نواز شریف سعودی مہمان تھے۔  روف بھائی نے میاں نواز شریف کو میرے جدہ قیام کے بارے میں بتایا جس پر انہوں نے سرور پیلس میں رات کے کھانے پر بھرپور ملاقات کی۔ 

 روف طاہراپنی تمام زندگی شعبہ صحافت سے وابستہ رہے اور صف اول کے صحافیوں کے استادوں کے استاد تھے۔ ملک بھرکی صحافتی برادری کے لئے ان کی وفات ایک بہت بڑاسانحہ ہے۔ صحافتی برادری آج ایک بہت بڑی علمی و ادبی اور فکری شخصیت سے محروم ہوگئی ہے۔ان کی وفات سے صحافتی برادری میں جو خلاء پیدا ہوامدتوں پرنہیں ہوسکے گا۔ ان کی صحافتی اور پیشہ ورانہ خدمات کوہمیشہ یادرکھاجائے گا۔دعاہے کہ اللہ تعالی روف طاہرکی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ غم و مشکل کی اس گھڑی میں، میں مرحوم روف طاہر کے اہلخانہ غم میں برابر کا شریک ہوں۔اللہ تعالی ان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

مزید :

رائے -کالم -