بھکارنوں کے پاس موجود بچوں کے ڈی این اے ہوں گے

 بھکارنوں کے پاس موجود بچوں کے ڈی این اے ہوں گے

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں گداگری کے مکروہ دھندے سے منسلک گروہوں کے خلاف پولیس سمیت 10 اداروں کی جانب سے مشترکہ اور بھرپور کریک ڈاؤن کی تیاری کی جارہی ہے، پکڑے گئے گداگروں اور ان کے پاس موجود بچوں کے ڈی این اے بھی کرائے جائیں گے۔اس ضمن میں کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے بتایا کہ شہر میں گداگری کے خاتمے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں، اس مہم میں سندھ حکومت کا سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ، چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی، روشنی ہیلپ لائن، سیلانی ویلفیئر، اینٹی وائلنٹ کرائم سیل، ٹریفک پولیس اور دیگر ادارے بھی پولیس کے ساتھ ہیں۔غلام نبی میمن کے مطابق کراچی میں گداگروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے مختلف دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں، ان بھکاریوں میں سب سے زیادہ تعداد غیرمقامی افراد کی ہے جن میں سرائیکی کے نسل در نسل خاندان شامل ہیں جو کئی دہائیوں سے اس دھندے میں ملوث ہیں۔ اس دھندے میں غیرملکی افغانی، برمی اور بنگالیوں کی بڑی تعداد ملوث ہے۔ ایسے گروہ اسٹریٹ کرائم اور منشیات فروشی کے دھندے میں بھی بڑی حد تک ملوث ہیں، اس مہم کے سلسلے میں کیے گئے اداروں کے اجلاس میں گداگروں کے خاندان میں شامل بچوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کی مدد سے بچوں کے اغوا اور گداگری کے کاروبار سے منسلک کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے گا۔ پولیس ذرائع کے مطابق گداگروں کے پاس موجود بچوں میں سے بیشتر کے مغوی ہونے کا شبہ ہے، ان بچوں کو بیشتر گروہ معذور بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ کراچی پولیس چیف کے مطابق کراچی میں سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کی نگرانی میں ضلع کورنگی اور ملیر میں بچوں کیلئے فیسیلٹی سینٹرز یا شیلٹر ہومز بنائے گئے ہیں جہاں گداگروں اور ان کے بچوں کو رہائش اور خوراک کی مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ پولیس کے اینٹی بیگری یونٹ کے بھی شہر بھر میں فعال کیا جارہا ہے جس کے تحت کراچی کو نو بیگر زون بنانے کے پہلے مرحلے میں پائلٹ پروجیکٹ کے آغاز جلد کیا جارہا ہے۔ غلام نبی میمن کے مطابق گداگری ایک لعنت ہے اور کراچی کو اس لعنت سے پاک کرنے کے لیے کراچی پولیس اور متعلقہ ادارے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -