تیل و گیس کی بڑی مقدار سسٹم میں شامل کردی، ایم ڈی او جی ڈی سی ایل 

  تیل و گیس کی بڑی مقدار سسٹم میں شامل کردی، ایم ڈی او جی ڈی سی ایل 

  

اسلام آباد(پ ر)آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ(او جی ڈی سی ایل) جوپاکستان کی صف او ل کی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور لندن اسٹاک ایکسچینج پر لسٹڈ ہے۔کمپنی نے گزشتہ ایک برس کے دوران تیل و گیس کی مجموعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے کو ممکن بنایا ہے جس سے نہ صرف توانائی کے میدان میں دوررس نتائج برآمد ہونگے بلکہ اس سے قومی خزانے پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت پاکستان میں حاصل ہونے والی تیل و گیس کی کل پیداوار میں سے او جی ڈی سی ایل کل حصے کا 48فیصد خام تیل،27فیصد گیس اور37فیصد ایل پی جی کے ساتھ تیل و گیس کی پیداوار میں سب سے آگے ہے۔31دسمبر 2020کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران او جی ڈی سی ایل نے تیل و گیس کی موجودہ پیداوار میں ریکارڈ اضافے کا سنگ میل عبور کیا ہے اور اس عرصے کے دوران اضافی 2666بیرل یومیہ تیل،82.0 ملین سٹینڈرڈ مکعب فٹ گیس جبکہ 77میٹرک ٹن یومیہ ایل پی جی کو مین نیٹ ورک میں شامل کیا ہے۔اس قلیل عرصے کے دوران او جی ڈی سی ایل نے نہ صرف نئے کنویں سے پیداوار حاصل کی بلکہ پہلے سے پیداواری کنویں کی استعداد کو بھی بہتر بنا کرپیداوارمیں اضافہ کیا گیا۔ حاصل اعداد و شمار کے مطابق او جی ڈی سی ایل نے نئے کنویں سے 1566بیرل اضافی تیل جبکہ 71 ملین مکعب  سٹینڈرڈ کیوبک فٹ اضافی گیس حاصل کی جبکہ 1100بیرل تیل اور 11ملین مکعب سٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس دیگر کاوشوں سے حاصل کی گئی۔اوجی ڈی سی ایل نے سردیوں میں گیس کی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایل پی جی کی پیداوار میں بھی اضافے کو ممکن بناتے ہوئے 77میٹرک ٹن یومیہ اضافی ایل پی جی کو سسٹم میں داخل کیا ہے۔

پاکستان بھر میں 14نئے کنویں کھود کر مختصر  قلیل مدت میں تیل و گیس کی پیداوار میں کیا جانے والا یہ خاطر خواہ اضافہ او جی ڈی سی ایل کی قیادت منیجنگ ڈائریکٹر/سی ای او او جی ڈی سی ایل اور ان کی ٹیم کی شبانہ روز محنت کا ثمرہے۔

مزید تفصیل اور دستیاب ڈیٹا کے مطابق او جی ڈی سی ایل انتظامیہ اور انجینئرز نے اس عرصے کے دوران سانڈ کنواں نمبر1، سانڈ کنواں نمبر2، ٹنڈو الہ یار ساؤتھ ویسٹ ویل نمبر1، توغ بالا ویل نمبر1، نشپا ویل نمبر10، منجیریو ویل نمبر1، قادر پور ویل نمبر10، عمیر ویل نمبر1، قادر پور ویل نمبر53، قادر پور ویل نمبر16، قادر پور ویل نمبر17، دارو ویل نمبر1، پساکھی ڈیپ ویل نمبر6 اورپساکھی ویسٹ ڈیپ ویل نمبر2 کھود کر جبکہ نشپا کمپریشن پروجیکٹ کی کمشننگ کی بدولت تیل و گیس میں اس قدر اضافے کو ممکن بنایا ہے۔

واضح رہے نئے کھودے جانے والے یہ کنویں اور تیل و گیس میں یہ اضافہ نا صرف کمپنی اور ملکی پیداوار کے نیٹ ورک میں ہائیڈرو کاربن میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ اس سے درآمدات کے متبادل کی صورت میں قومی خزانے کو بھی خاطر خواہ بچت حاصل ہو گی۔علاوہ ازیں تیل وگیس کی پیداوار میں اس اضافے سے گھریلو صارفین اور صنعت کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

مزید :

کامرس -