اسامہ ستی قتل کیس، سی ٹی ڈی کے پانچوں اہلکار نوکری سے برطرف، تفتیشی آفیسر تبدیل 

اسامہ ستی قتل کیس، سی ٹی ڈی کے پانچوں اہلکار نوکری سے برطرف، تفتیشی آفیسر ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی)اسلام آباد نے 21سالہ اسامہ ستی قتل کیس میں ملوث محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)کے پانچوں اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کردیا۔ایس ایس پی آپریشن اسلام آباد کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکاروں کو قصوروار ثابت ہونے پر انہیں نوکری سے برطرف کیا گیا۔برطرف ہونے والوں میں سب انسپکٹر افتخار، کانسٹبل مصطفی، شکیل، مدثر اور سعید شامل ہیں۔جاری تمام پانچ نوٹی فکیشن میں اہلکاروں کی غیر پیشہ ورانہ قابلیت کا تذکرہ کیا گیا جس کے باعث اسامہ ستی کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ پولیس فورس کا حصہ ہونے کے ناطے مشتبہ کار کو روکنے کیلئے پیشہ ورانہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے تھی۔ اہلکار صورتحال میں پیشہ ورانہ قابلیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے اور مذکورہ واقعہ پیش آیا۔ دوسری جانب  ترجمان پنجاب حکومت عامر مغل کی قیادت میں اسامہ ستی کے لواحقین نے ڈی آئی جی سے ملاقات کی۔جہاں اسامہ کے ورثاء نے قاتل اہلکاروں کو فوری طور پر نوکری سے برطرف کرنے اورتفتیشی افسر فورا تبدیل کرنے اورہائیکورٹ کے جج کی زیر نگرانی جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس نے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے موقع پر ہی تفتیشی افسر تبدیل کرنے اور اہلکاروں کی برطرفی کے احکامات جاری کئے اور کہا کہ اس واقعہ پر پوری قوم افسردہ ہے۔جوڈیشل کمیشن اور جے آئی ٹی کی سفارشات کی روشنی میں بھر پورقانونی کارروائی کی جائے گی اورملوث ملزمان کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے گا۔اس موقع پر اسامہ ستی کے ورثاء نے کہا کہ جب تک چیف کمشنر ہائیکورٹ جج کی زیر نگرانی تحقیقات کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کرتے احتجاج جاری رہے گا۔

اہلکار برطرف

مزید :

صفحہ اول -