سانحہ مچھ، عمران خان کو متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے، جاوید ہاشمی

  سانحہ مچھ، عمران خان کو متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے، جاوید ہاشمی

  

  ملتان (نیوز  رپو رٹر) سینئر سیاستدان اورمسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما مخدوم سید جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ سانحہ مچھ پر پوری قوم سوگوار ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو سانحہ کے متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہئے ماضی میں اگر وہ ہزارہ برادری سے اظہار یکجہتی کیلئے جا سکتے ہیں تو پھر آج انہیں کیا سکیورٹی معاملہ درپیش آگیا ہے۔ ہزارہ برادری پر قیامت ٹوٹی ہے ہمیں ان کیلئے کھڑا ہونا چاہئے آج بلوچستان کو انٹرنیشنل سازشی قوتیں پاکستان (بقیہ نمبر24صفحہ6پر)

سے دور کرنے کی کوششوں میں لگی ہیں تابوت کو تالے لگانے والے عوامی طاقت سے گھبراتے ہیں نواز شریف جمہوریت کا مقدمہ لڑ رہے ہیں انہیں سلام کرتا ہوں عوامی استحصال سے مسائل ختم نہیں ہوں گے عوامی مسائل کے حل کیلئے ہمیں عوام کے پاس ہی جانا ہو گا عمران خان آئین سے بالاتر نہیں ہے آئین انہیں این آر او دینے کا اختیار نہیں دیتا ہے بلوچستان سونے کی کان ہے اس کے وسائل پر قبضہ کیلئے کئی قوتیں برسرپیکار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقعہ پر انہوں نے مزید کہا کہ میں دل کی گہرائیوں سے آج بے حد دکھی ہوں ہزارہ برادری کے ساتھ سخت ظلم ہوا ہے۔ مچھ میں کان کنی کرنے والے مزدور ویسے ہی روزانہ ایک اذیت ناک اور تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ان کے ساتھ بھی ظلم کیا گیا آج ان کے گھروں والے سڑکوں پر بیٹھے ہیں وزیراعظم عمران خان کو انکے زخموں پر مرہم رکھنا ہو گا انہیں وہاں خود جانا چاہئے ان کے جانے سے لواحقین کو حوصلہ ملے گا ماضی میں عمران خان اگر ان کے ساتھ جاکر کھڑے ہو سکتے ہیں تو پھر آج انہیں کیا سکیورٹی معاملہ درپیش آگیا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں عوامی حکومت کبھی نہیں آئی وہاں عوامی مسائل موجود ہیں عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے ہمیں عوام کے درمیان خود جانا ہو گا عوامی استحصال صرف اسی طرح ختم کیا جا سکتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران کے سانحہ مچھ کے تناظر میں دئیے گئے حالیہ بیانات سے سانحہ میں جاں بحق ہونے والے لواحقین کی دل آزاری ہوئی ہے انہیں ایسے بیانات نہیں دینے چاہئے انہوں نے مزید کہا کہ تابوت کو تالے لگانے والے عوامی طاقت سے خوفزدہ ہیں ایسے مسائل سے اب آنکھیں چرانے کا وقت گزر گیا ہے بلوچستان سونے کی کان اور چڑیا ہے اس پر بین الاقوامی قوتوں کی نگاہیں گڑی ہیں ہمیں سازشی عناصر کا ملکر مقابلہ کرنا ہو گا محض بندوش کے استعمال سے معاملات نہیں سنبھالے جا سکتے بلوچستان کو پاکستان سے دور کرنے کی اس سازش کو ررکنے کیلئے عوام کے درمیان جانا ہو گا انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے لڑنے والوں کو ہمیں اب غدار کہنا بھی بند کرنا ہو گا بلوچستان کے لیڈروں سے بات چیت کے بند دروازے کھولنا ہونگے انہوں نے کہا کہ 2014 کے دھرنوں کے سازشی کرداروں سے بخوبی واقف ہوں اسلئے تحریک انصاف سے خود الگ ہو گیا تھا آج نواز شریف جس جرات سے جمہوریت کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اس پر میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں جبکہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے پریس کانفرنس سے قبل اور بعد میں اپنی پرانی یادیں تازہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا انہوں نے کہا کہ وہ بیرسٹر بننے کے خواہاں تھے اور لندن میں اس مقصد کے لئے داخلہ بھی لے لیا تھا تاہم ان کے بھائی حادثاتی موت کا شکار ہو گئے جس کی وجہ سے وہ پروگرام مکمل نہ ہو سکا آج بھی موقعہ ملے تو بیرسٹر بننے کو ترجیع دوں گا انہوں نے کہا کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بلوچستان کو بطور مضمون پڑھا ہے۔ مچھ کے علاقہ میں انگریز کی سکیورٹی اتنی مضبوط تھی کہ برصغیر کی سب سے بڑی جیل مچھ جیل میں دیوار تک نہیں بنائی گئی تھی انہوں نے مزید بتایا کہ مچھ جیل میں انگریز دور میں ہندو چندربوس سمیت دیگر اہم رہنماؤں کو بھی مچھ جیل میں قید رکھا گیا تھا۔

جاوید ہاشمی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -