’سلیکٹر پاکستان کی ٹیم سمجھ کر منتخب کریں گے تو ہی حالات بہتر ہوں گے‘

’سلیکٹر پاکستان کی ٹیم سمجھ کر منتخب کریں گے تو ہی حالات بہتر ہوں گے‘
’سلیکٹر پاکستان کی ٹیم سمجھ کر منتخب کریں گے تو ہی حالات بہتر ہوں گے‘
سورس: Twitter

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹیسٹ کرکٹر کامران اکمل قومی ٹیم میں مسلسل نظر انداز کئے جانے پر پھٹ پڑے ہیں جن کا کہنا ہے کہ جو بھی سلیکٹر آئے پاکستان کی ٹیم سمجھ کر منتخب کرے تب ہی حالات بہتر ہوں گے ورنہ ایسے ہی نتائج آئیں گے۔ 

تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے بعد پاکستان کپ ون ڈے ٹورنامنٹ سے بھی ڈراپ ہونے والے کامران اکمل نے کہا کہ سینٹرل پنجاب کے کوچ نے وجہ بتائے بغیر منتخب نہیں کیا، بطور سینئر کھلاڑی میرے ساتھ کیا جانے والا سلوک مناسب نہیں ہے، ہرفارمیٹ کی کرکٹ کھیل چکا، مجھ سے کوئی غلطی ہوئی تو بتائیں اور سخت سزا دیں، میرے جیسے کھلاڑی کیساتھ ایسے سلوک پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو سوچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کے کرتا دھرتا جو بہتر سمجھتے تھے کیا،صاحب اختیار اپنی ایگو ایک طرف پر رکھیں اور طریقہ کار کو بہتر بنائیں۔ پی سی بی کو ٹیم کے کوچ سے بھی پوچھنا چاہیے کہ ایسا کیوں کیا،پرفارمنس کی بنیاد پر ٹیمیں بنیں گی تو نتائج بہتر ہوں گے۔ سینئر کو سائیڈ لائن کرنے کی حکمت عملی پہلے کی جاتی تو فواد عالم ٹیم میں نظر نہ آتے، میں سروسز دینا چاہتا ہوں میرے ساتھ کوئی جونیئر کھیلے گا تو وہ سیکھے گا۔

ان کاکہنا تھا کہ عمران فرحت، سلمان بٹ، عمر گل کے ٹیم میں ہونے سے جونیئر کھلاڑیوں کو فائدہ ہوا، ایک دم سے سینئر کو سائیڈ لائن کرنے سے کرکٹ کا نقصان ہو گا۔ چیف ایگزیکٹو وسیم خان اور ڈائریکٹر ندیم خان کو تحقیقات کرنی چاہئیں، میں غلط ہوں یا کوچ؟ میں غلط ہوں تو مجھے اس سے بھی زیادہ سخت سزا دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مصباح الحق کو قومی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ برقرار رکھنا چاہیے،ٹی 20 کرکٹ کی پرفارمنس پر ٹیموں کو تیار کیا جا رہا ہے، پرانے سیٹ اپ نے پاکستان کو عظیم کرکٹرز دئیے، قومی ٹیم میں واپسی پر صرف امید اللہ اور فیملی کی دعاﺅں سے ہے، چیف سلیکٹر کوئی بھی ہو محنت پر یقین ہے جسے جاری رکھوں گا۔

مزید :

کھیل -