سانحہ مچھ کا ذمہ دار بھارت، ماضی کی حکومتوں نے کم ووٹوں کی وجہ سے بلوچستان پر توجہ نہیں دی، وزیر اعظم

سانحہ مچھ کا ذمہ دار بھارت، ماضی کی حکومتوں نے کم ووٹوں کی وجہ سے بلوچستان پر ...
سانحہ مچھ کا ذمہ دار بھارت، ماضی کی حکومتوں نے کم ووٹوں کی وجہ سے بلوچستان پر توجہ نہیں دی، وزیر اعظم

  

اسلام آباد (دعا مرزا) وزیراعظم عمران خان نےمچھ واقعہ کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیتےہوئےکہاہےکہ اُنہوں نےمارچ میں ہی کابینہ کو بھارت کی پاکستان میں شیعہ سنی فساد کرانے کی کوششوں سے آگاہ کردیا تھا،سیکیورٹی اداروں نےمسلکی تصادم کو روکنے کے لیے بہترین کام کیا، ہزارہ برادری کی سیکیورٹی کےلیےبھرپوراقدامات کررہےہیں،بلوچستان کی تباہی میں وہاں کےسرداری سسٹم کا بھی کردار ہے، فوج مخالف بیانات دینے والے تمام لوگوں کا علاج ہوگا، اداروں پر حملے کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نےکہاکہ ہزارہ کمیونٹی کےافراد کا قتل افسوسناک ہے،مجھے ہزارہ برادری کےساتھ ہونےوالےظلم پربہت دکھ اورافسوس ہے،ہم ہزارہ برادری کی سیکیورٹی کےلیےبھرپور اقدامات کررہے ہیں،ہزارہ کمیونٹی کی نسل کشی کی جارہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت ہے، کچھ دہشتگرد گروہوں اور داعش کا اتحاد ہوچکا ہے،داعش کو بھارت کی سپورٹ حاصل ہے، افغان جہاد ختم ہونے کے بعد عسکری گروہ باقی رہ گئے جنہوں نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا، میں نے مارچ میں ہی کابینہ کو بھارت کی پاکستان میں فرقہ وارانہ تصادم کی کوششوں سے آگاہ کردیا تھا، بھارت نے پاکستان میں شعیہ سنی فسادات کرانے کی کوشش کی، کراچی میں مولانا عادل کا قتل بھی فرقہ وارانہ تصادم کو ہوا دینے کی کوشش تھی، ہمارے اداروں نے مسلکی تصادم کو روکنے کے لیے بہترین کام کیا، ہماری ایجنسیز نے بھارتی عزائم کو ناکام بنایا، ہمارے خفیہ ادارے اور فوج بہترین ادارے ہیں جنہوں نے کئی گروہوں کو دہشتگردی سے پہلے ہی کارروائیاں کرتے ہوئے گرفتار کیا، ہماری سیکیورٹی فورسز مسلسل اقدامات کررہی ہیں لیکن بلوچستان کے ایک ریمورٹ ایریا میں یہ افسوسناک واقعہ ہوا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کی آبادی پنجاب کے فیصل آباد ڈویژن جتنی ہے، کم آبادی اور ووٹوں کی وجہ سے ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان پر توجہ نہیں دی،ہماری حکومت بلوچستان کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے،جس طرح پیپلزپارٹی نےکراچی کو نظر انداز کیا،اِسی طرح ماضی کی وفاقی حکومتوں نے بلوچستان کو نظر انداز کیا،بلوچستان کی تباہی میں وہاں کےسرداری سسٹم کابھی کردار ہے،ماضی میں ترقیاتی فنڈز سرداروں کے ذریعے جاتے تھے،سردار امیر ہوگئے جبکہ بلوچستان کے عوام غریب رہ گئے،جام کمال اچھے وزیراعلیٰ ہیں، ہم اُن کے ساتھ مل کر بھرپور کام کررہے ہیں، تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آچکی ہے، چور جیلوں کے اندر باہر آجا رہے ہیں،ہمارے دو وزراء کو بھی گرفتار کیا گیا جن پر الزام پچھلے دور میں کرپشن کا تھا۔

 وزیراعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید کی اور مفتی کفایت اللہ سمیت فوج مخالف بیانات دینے والوں کے حوالے سے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے،  1992 کے بعد یہ پہلی اسمبلی ہے جس میں مولانا فضل الرحمان نہیں ہیں،حکومتیں بدلتی رہیں لیکن مولانا فضل الرحمان ہر ایک کے ساتھ رہے،یقین رکھیں کہ فوج مخالف بیانات دینے والے تمام لوگوں کا علاج ہوگا، اداروں پر حملے کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، مفتی کفایت اللہ بھاگ کر چھپا پھر رہا ہے اس کو ہر صورت پکڑیں گے۔

وزیر اعظم کاکہناتھاکہ یہ فوج سے کہہ رہےہیں کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دو، نوازشریف باہر بیٹھ کر فوج میں بغاوت کرانا چاہتا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی جمہوری دور میں اداروں کو اس طرح بدنام کیا جارہا ہے،پہلےہمیشہ مارشل لا میں فوجی قیادت پر تنقید ہوتی تھی، مشرف پر تنقید بنتی تھی لیکن موجودہ جمہوری دور میں فوجی قیادت کو کیوں نشانہ بنارہے ہیں؟ اپنی کرپشن اور لوٹ مار کو بچانے کے لیے اداروں پردباؤ بڑھایا جارہا ہے، جنرل باجوہ سے کہہ رہےہیں کہ حکومت کو گرادو، فوج سے کہہ رہے ہیں کہ جنرل باجوہ حکومت نہیں گراتے تو جنرل باجوہ کو گرادو، یہ چاہتے ہیں کہ فوج پر اتنا دباؤ بڑھائیں کہ وہ حکومت گرادیں، اپوزیشن نےہماری حکومت بنتےہی کہہ دیا کہ ملک تباہ ہو چکا کیونکہ یہ جانتےتھےکہ ہم ملکی معیشت اور ادارے تباہ کر کے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نے شریف خاندان اور زرداری فیملی کو ٹوٹ  بٹوٹ قرار دے دیا اور کہا یہ ٹوٹ بٹوٹ سمجھتے ہیں کہ مجھے بلیک میل کر لیں گے۔

سی سی پی او لاہور کی تبدیلی اور اسامہ کے قتل پر سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کارکردگی نہ دکھانے والوں کو تبدیل کیا جاتا رہے گا، نئے سی سی پی او کو دیکھیں گے کہ وہ کیا کرتے ہیں؟ ہم صرف کارکردگی چاہتے ہیں،جو کام نہیں کرے گا وہ تبدیل ہوگا، پنجاب میں پولیس اور بیوروکریسی سیاست زدہ تھی، پولیس کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں، نوازشریف نے ہزاروں مجرموں کو پولیس میں بھرتی کیا، لاہور ہائی کورٹ میں آئی جی عباس خان نے مکمل رپورٹ جمع کرائی تھی، شریف خاندان 30 سال پنجاب پر مسلط رہا، کئی بیوروکریٹس کی ان سے سیاسی وابستگی ہوچکی تھی، نیا ادارہ بنانا آسان ہے،پہلے ادارے کو ٹھیک کرنا مشکل ہوتا ہے، پولیس کو ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا، یہ نہ سمجھیں کہ کئی دہائیوں کی خرابی ایک دم ٹھیک ہوجائے گی،موٹروے پولیس بعد میں بنی لیکن ان کی کارکردگی پنجاب پولیس سے مختلف ہے ۔

مہنگائی کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ عام آدمی کی مشکلات سے آگاہ ہوں، ملک ایک گھر کی طرح ہے، گھر پر مشکل وقت آئے تو سب گھر والے مشکل سے گزرتے ہیں، ن لیگ اور پیپلزپارٹی ملکی معیشت کو دیوالیہ کرکے گئے، ہم نے دو برسوں میں 20 ارب ڈالر قرضہ واپس کیا،اپوزیشن کو ایک ہی خوف ہے کہ یہ حکومت پانچ سال پورے کرگئی تو ہمارا کھیل ختم ہوجائے گا، کے پی کے میں ہم نے 5 برس مکمل کیے تو سب کی چھٹی ہوگئی، ہم نے 5 سال مکمل کیے تو ان کی سیاست ختم ہوجائے گی، ایک ایسا منصوبہ لا رہا ہوں کہ ملک میں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا، یہ ایسا منصوبہ ہوگا جس کو دنیا کے کئی ملک فالو کریں گے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -