معروف کاروباری شخصیت سیٹھ عابد کو سپرد خاک کردیا گیا

معروف کاروباری شخصیت سیٹھ عابد کو سپرد خاک کردیا گیا
معروف کاروباری شخصیت سیٹھ عابد کو سپرد خاک کردیا گیا
سورس: File Photo

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملکی تاریخ کے پراسرار کردار سیٹھ عابد کی تدفین کراچی کے ماڈل کالونی قبرستان میں کردی گئی، نماز جنازہ ڈیفنس میں ادا کی گئی،سیٹھ عابد 85 برس کی عمر میں گزشتہ روز انتقال کر گئے تھے، وہ کچھ عرصے سے علیل تھے، ان کی نماز جنازہ ڈیفنس فیز ٹو کی مسجد حافظ ایاز میں ادا کی گئی،نماز جنازہ میں اہلخانہ، عزیز اقارب اور دوست احباب نے شرکت کی، بعدازاں سیٹھ عابد کو ماڈل کالونی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

سیٹھ عابد کا تعلق پنجاب کے ضلع قصور سے تھا جبکہ ان کے والد کراچی کی صرافہ مارکیٹ کی بڑی مشہور شخصیت تھے، سیٹھ عابد پاکستان کی تاریخ کے پراسرار کرداروں میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ سیٹھ عابد کے متعلق ماضی میں یہ بھی دعوی کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا اور جب امریکہ نے پابندیاں لگائیں تو انہوں نے ایٹمی پلانٹ کیلئےضروری آلات فرانس سے پاکستان لانے میں اہم کردارادا کیا۔سیٹھ عابد پر ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات کے بعد ان کی صاحبزادی بینظیر بھٹوجو اس وقت لندن میں زیرِ تعلیم تھیں کو اغوا کرنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔

سیٹھ عابد بھٹو اور ضیا الحق کے دور میں اہم ترین کردار کے طور پر جانے جاتے تھے لیکن پھر وہ منظر عام سے غائب ہوگئے۔ اس کے بعد ان کا نام نومبر 2006 میں اس وقت منظرعام پر آیا تھا جب ان کے بیٹے حافظ ایاز کو ان کے محافظ نے لاہور میں قتل کر دیا تھا۔گذشتہ کئی برسوں میں سیٹھ عابد کا نام زیادہ نہیں سنا گیا تاہم کچھ عرصہ قبل  وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کی فنڈ ریزنگ تقریب میں سیٹھ عابد کا ذکر شارجہ میں پاکستان انڈیا کے کرکٹ میچ کے تناظر میں کیا تھا،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیٹھ عابد نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی بہت مدد کی تھی۔ سیٹھ عابد کی شخصیت آج بھی کسی راز سے کم نہیں،سیٹھ عابد پاکستان کی وہ پراسرار شخصیت تھے جن کی زندگی میں ناقابلِ یقین کہانیاں گردش کرتی رہی ہیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -