لالہ صحرائی .... ایک عاشق رسول

لالہ صحرائی .... ایک عاشق رسول
لالہ صحرائی .... ایک عاشق رسول

  



محب محترم جناب لالہ صحرائی پر اپنے تاثرات لکھنے بیٹھا تو پہروں سوچتا رہا، بات کہاں سے شروع کروں ،پھر سوچا میری تو ان سے کبھی ملاقات ہی نہیں ہوئی، تب میرے دل نے مجھ سے کہا کہ وہ حفیظ تائب اور احمد ندیم قاسمی کے قریبی دوستوں میں سے تھے اور اس قول کی صداقت سے کس کو انکار ہے کہ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔ لالہ صحرائی ان دونوں عظیم ہستیوں سے مختلف کیسے ہوسکتے ہیں؟ پھر میرے دل نے مجھے راز کی ایک اور بات بتائی کہ عاشقانِ رسول شعرا اپنی تخلیقات کے راستے حضوراکرم کے چاہنے والوں پر ہمیشہ آشکار ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی نعتوں کی روشنی ہمارے دلوں میں اپنے پکے گھر بناتی ہے اور مَیں اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ لالہ صحرائی اپنی جذب و کیف میں ڈوبی ہوئی نعتوں سمیت ہمیشہ ہمیشہ میرے دل میں اتر چلے ہیں اور بقول احمد ندیم قاسمی :

تو میرے دل میں جو اترا تو یہ مہلت بھی نہ دی

مَیں تیرے عشق کے اعزاز میں اترا سکتا

لالہ صحرائی ان خوش نصیبوں میں سے ہیں، جن کو حضوراکرم کا عشق نصیب ہوا تو پھر وہ حضوراکرم کے ہوکر رہ گئے جن کی نشست و برخاست، محبتیں ،زندگی ،دین اور دنیا ،غرض زندگی کا ہر پہلو ،ہر زاویہ ،ہر راستہ ،ہر تعلق عشق نبی کے حوالے سے ترتیب پانے لگا۔ حضوراکرم کی محبت کا چشمہ جس دل میں پھوٹتا ہے، اس کی ساری نسلیں سیراب ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ دریائے رحمت ہے جس میں ڈوبنے والوں کوفنا نہیں بقا ملتی ہے، جن کے دل آپ کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں وہ لوگوں میں محبتیں بانٹنے کا فن جان لیتے ہیں۔ حضوراکرم کی محبت ایسے ایسے در کھولتی ہے ،جہاں حیرت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو راز زندگی کا سراغ بھی ملتا ہے اور دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کا شرف بھی حاصل ہوتا ہے، مگر اس کے لئے لالہ صحرائی کی طرح خون عشق کی آمیزش سے اشک پیازی کرنا پڑتی ہے، تبھی تو وہ کہتے ہیں :

جن کی رحمت صورت دریا رواں ہے دھر میں

میری آنکھوں کو بھی ان کے ذکر نے تر کر دیا

محمدمصطفی سے محبت ہو جائے تو وہ محبت نہیں رہتی، جنون بن جاتی ہے۔ دھیرے دھیرے عاشقانِ نبی یقین کی اس منزل پر پہنچ جاتے ہیں کہ اس کائنات کے سارے خوبصورت رنگ حضوراکرم کی ذاتِ اقدس کی وجہ سے ہمیں خوبصورت لگتے ہیں۔ ہماری خوشیاں، ہماری راحتیں، حضوراکرم کی محبت کا معجزہ ہیں، وگرنہ یہ دنیا کیا ہے اور اس کے نظارے کیا ہیں۔ اگر آنکھوں میں روضہ¿ رسول کی جھلک نہ ہو تو سب کچھ بے معنی ہوجاتا ہے۔ حضرتِ اقبالؒ سے لے کر مولانا ظفر علی خان تک اور ان سے لے کر لالہ صحرائی تک سب عاشقانِ نبی نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے اور اپنے اشعار میں اس حقیقت کا اظہار بھی کیا ہے۔ اقبال نے کہا تھا :

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہےں

اور مولانا ظفرعلی خاں نے اسی مضمون کو اس طرح موزوں کیا ہے :

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو

اور لالہ صحرائی نے اسی خیال کو اپنے عہد کی زبان میں سپردنعت کرتے ہوئے کیا خوبصورت بات کہی :

تمہی ہو غائت عالم، تمہی ہو روح زماں

سجی تمہاری ہی خاطر ہے بزمِ کون و مکاں

حضوراکرم کی نعت گوئی ایک ایسا دریا ہے، جس کا کوئی کنارا نہیں۔ یہ وہ قصیدہ ہے جو قیامت تک مکمل نہیں ہوسکتا۔ یہ وہ وراثت ہے جو سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہتی ہے۔ یہ وہ سمندر ہے ،جو عشاق کے سینوں میں بہتا ہے۔ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ ان کی حضوراکرم سے محبت ان کے بیٹوں ڈاکٹر جاوید اور ڈاکٹر نوید کے دلوں میں بھی اپنے پکے گھر بنا چکی ہے، اسی لئے تو وہ دونوں اپنے عظیم باپ لالہ صحرائی کی تصانیف، کو نئے سے نئے رنگ میں دنیا کے سامنے لاتے رہتے ہیں، تاکہ ہر عہد ایک مکمل عاشق رسول سے آگاہی حاصل کر سکے۔ مَیں لالہ صحرائی کے بیٹوں کو ان پر لکھے گئے تحقیقی تھیسس کو کتابی شکل میں شائع کرنے کے ارادے پر مبارکباد پیش کرتا ہے۔

مَیں جب بھی ان کی نعتوں کو پڑھتا ہوں تو مجھے نعتوں کے شعروں سے عقیدت کی خوشبو بھی آتی ہے اور ایسی روشنی بھی ملتی ہے ،جو میری تخلیقی کیفیتوں کو تروتازہ کر دیتی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں بڑی راحت حاصل ہوگی ،اگر مَیں یہ کہوں کہ مَیں لالہ صحرائی جیسے تخلیق کار کی نعتوں میں ہجر اور روحانیت کے مضامین، دوری اور حاضری کی کیفیتیں کچھ اس طرح محسوس کرتا ہوں کہ جیسے مَیں ہر سفر میں ان کے ساتھ ہوں۔ یہی بڑے شاعر کا کمال ہے کہ وہ ماضی، حال اور مستقبل کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔مجھے ان کی نعتیں پڑھتے ہوئے ہمیشہ یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے میری ان سے برسوں سے ملاقات ہے۔ مَیں ان کو شاعروں کے اس قبیلے کا فرد سمجھتا ہوں ،جس کے سردار حفیظ تائب ہیں۔ جہاں نعت ازل سے ہے اور ابد کے بعد بھی حضوراکرم کی مدحت کا چراغ جلتا رہے گا ۔یہی ہمارا عقیدہ ہے اور یہی ہمارا ایمان ....اپنی رحلت سے چند روز قبل کہی گئی اپنی زندگی کی آخری نعت میں لالہ صحرائی نے اس مضمون کو یوں بیان کیا ہے:

شمع مدحت رہے گی تا بہ قیامت روشن

ہوگی مدھم نہ کبھی اس کی ضیا میرے بعد

مزید : کالم