ماہ رمضان :خوشیوں بھرا مہینہ

ماہ رمضان :خوشیوں بھرا مہینہ
 ماہ رمضان :خوشیوں بھرا مہینہ

  



ہیلو۔۔۔ پیارے پیارے دوستو! سنائیں کیسے ہیں؟ امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے دوستو! آپ کو پتہ ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کا آغاز ہو چکا ہے۔ اسی لئے تو ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں مومنوخوشیاں مناؤ کہ ماہ رمضان آیا ہے ۔ رمضان کے بابرکت مہینے کا آغاز ہو ہی گیا، آ پ تو جانتے ہی ہیں جب بھی ماہ رمضان آتا ہے تو مسلمانوں پر رحمت کے تمام دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ماہ رمضان میں محض اپنے رب کی خوشنودی کے لئے کی جانے والی نیکیوں کا انعام بھی ہمارے رب کی طرف سے کئی گنا کر دیا جاتا ہے۔یقین کریں جو اللہ کے نیک اور پیارے بندے ہوتے ہیں ان پر فرشتے مقرر کر دیئے جاتے ہیں جو ہر دم ان کی حفاظت و سلامتی کے لئے رب سے دعائیں کرتے ہیں ، جب بھی ماہ رمضان آتا ہے تو شیاطین کو بھی زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے ۔ماہ رمضان تو مسلمانوں کے لئے قدرت کا انعام ہے، رب کا خاص تحفہ ہے ۔روزے مسلمانوں سے پہلی امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے ،لیکن اتنی آسانی صرف اور صرف مسلمانوں کو ہی دی گئی ہے، وہ بھی اس لئے کہ ہم مسلمان اللہ کے پیارے نبیﷺ کے امتی ہیں ۔دنیا جانتی ہے کہ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کی اصلاح اور اپنا پیغام عام کرنے کے لئے ہمارے پیارے نبی ﷺ کو منتخب کیا ۔ہم اس بات پر جتنا بھی شکر ادا کریں، وہ کم ہے ۔

جی ہاں یہ رب کی مہر بانی ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا ،اپنے نبی ﷺ کا امتی بنایا ،یہ بات بھی جان لیں کہ قرآن مجید بھی ماہ رمضان میں مکمل ہوا ، یہ بات بھی دنیا کے سامنے ہے کہ ماہ رمضا ن کی بابرکت طاق راتوں میں حضوراکرمﷺ نے آسمانوں کی سیر کی، ہر سال کی طرح اس سال بھی ہم مسلمان ماہ رمضان کے روزے رکھ رہے ہیں اور سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ ملک بھر کی مساجد جو سارا سال نمازیوں کی کم تعداد سے مایوس رہتی ہیں ،ان بے رونق مساجد کی خوشی بھی ماہ رمضان میں اس وقت قابل دید ہوتی ہے جب وہ نمازیوں سے کھچا کھچ بھری نظر آتی ہیں،کیونکہ ماہ رمضان میں سب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ مسجد میں ہی جا کر نماز ادا کریں تاکہ اپنے رب کے مزید قریب ہو سکیں۔

ضرور پڑھیں: ایک اورکاوش!!!

بہر حال دوستو! آپ سب بھی ماہ رمضان کے روزے رکھ رہے ہیں ، تو بتاتے چلیں کہ صوم عربی زبان کا لفظ ہے جسکے لغوی معنی صبر کے ہیں ۔ جی ہاں صبر اور حالت صوم میں رب اپنے بندوں کو صبر کی تلقین کر رہا ہے ۔روزے کی حالت میں،بھوکا رہنا ہی روزہ نہیں ، بلکہ روزے کے باقاعدہ لوازمات بھی ہیں ۔مطلب اہتمام یا تیاری۔بالکل ویسے ہی تیاری جیسے گھروں میں پکوان پکانے کا اہتمام کرتے ہوئے کی جاتی ہے ہمیں اسی طرح روزے کے لئے بھی اہتمام کرنا پڑتا ہے تیاری کرنی پڑتی ہے ۔ اسی لئے تو ہمیں محض بھوکا رہ کر روزہ نہیں رکھنا بلکہ روزے کے تقاضے بھی پورے کرنے ہیں ۔ روزے کے تقاضے کیا ہیں یہ نہیں کہ روزہ رکھا، اے سی چلایا ،سارا دن گانے سنتے رہے یا سوکر وقت گزار لیا ۔روزہ تو درس دیتا ہے ، ہمیں برائی سے بچنے کا ، گناہوں سے بچنے کا ، نگاہیں نیچی رکھنے کا روزہ تو نظر شرم حیاء ، کا بھی ہے ، زبان کا روزہ بھی رکھنا پڑتا ہے ، اگر ہم نے روزہ رکھنا ہے تو ہمیں روزے کے فرائض بھی ملحوظ خاطر رکھنے ہوں گے، صرف بھوکا پیاسا رہنے سے بات بات پر زبان درازی ، لڑائی جھگڑا کرنے سے روزہ روزہ نہیں رہتا ۔اس کے علاوہ نماز ، تسبیح ،زکوٰۃ بھی روزے کے اہم فرائض ہیں ۔

بہرحال ہماری آپ سے بھی التجا ہے کہ ماہ رمضان کے روزے رکھتے ہوئے روزے کے تقدس کومجروح ہونے سے بچائیں، کیونکہ ماہ رمضان تو اللہ کے نیک بندوں کے لئے اپنے رب کی طرف سے انعامات کی بارش ہے اور قسمت والے ہی اس بابرکت مہینے سے فیض یاب ہو سکتے ہیں ۔ہو سکتا ہے کہ اس سال وہ خوش قسمت آپ ہو ں جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم نازل ہوتا ہے ، بہر حال یہ چند باتیں تھیں دل کی جو آپ سب کے ساتھ شئیر کیں۔ دوستو! فی الحال آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے بہر حال اجازت چاہتے ہیں، آپ سے دوستو! ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد اللہ نگہبان رب راکھا ۔

مزید : کالم


loading...