مُحافظِ جاں !

مُحافظِ جاں !
مُحافظِ جاں !

  


”گوروں اور ہم میں یہی فرق ہے کہ گورافوراََ سے پہلے اپنی غلطی تسلیم کرلیتاہے اور ہم غلطی ماننے کی بجائے اپنی صفائی اور راہ ِ فراراختیارکرنے کے بہانے ڈھونڈنے لگتے ہیں“۔ عقل مند کے لئے اشارہ ہی کافی ہوتاہے۔ وہ کسی آفیسرکو سمجھاتے ہوئے کسی فائل میں کھوگئے۔ موٹی موٹی آنکھوں ، کُشادہ پیشانی ، بولتے ہوئے ہونٹ، وجیہہ چہرہ، بھرے بھرے گال، ملائم ہاتھ، دوراندیش نگاہیں اورنرم پوروں میں قلم کو گھماتے ہوئے اُس انسان میں مجھے بلاکی کشش محسوس ہوئی۔ پہلی ملاقات میں مجھے ڈاکٹررضوان نصیرکسی رومانوی ناول کے مرکزی کردارمحسوس ہوئے ، اُن کی پُرکشش نگاہیں دیکھ کرمجھے کسی شاعرکایہ شعریاد آگیا:

وہ آنکھ بھر کرجسے ایک بار بھی دیکھے

یقیں کرو اُسے مشکل میں ڈال دیتاہے

اللہ تعالیٰ کے فرمان کامفہوم ہے کہ ”جب وہ میرے محبوب بندوں کو دیکھتے ہیں تو اُن کے چہروں کی وجاہت کو دیکھ کراُن کے دلوں میں رعب بیٹھ جاتاہے“.... ڈاکٹررضوان نصیر کی شخصیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی صورت میں وجاہت رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کی کیاتعریف کی جائے جو نہ کسی کی محتاج ہے اورنہ اُس کاکوئی ہمسرہے، کُن اور فیکون کے درمیان کائنات کی پیدائش ، کہکشاﺅں کاوجود، سمندروں کی آب و تاب ، سورج کی روشنی، چاند کی چاندنی ، موت وحیات کا سارا نظامِ کائنات انہی دولفظوں کے درمیان بساہواہے۔ جب حالات دگرگوں ہونے لگیں اور عقلِ انسانی جواب دے جائے تو حکمتِ خداوندی کاکرشمہ سامنے آتاہے اور انہونی ہونی میں بدل چکی ہوتی ہے ، جسے انسان معجزہ تصورکرتاہے۔ دراصل ذاتِ باری تعالیٰ ہرمشکل کام کی انجام دہی کے لئے اپنے محبوب بندوں کو بھیجتی ہے جو ناممکن کو ممکن میں بدل دیتے ہیں ۔میراجی چاہ رہاہے کہ میں ریسکیو 1122کے موجد ڈاکٹررضوان نصیرکی زندگی کے وہ درخشاں پہلو جن کی بدولت آج پنجاب ، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزادجموں وکشمیراور اب بلوچستان میں بھی پاکستانی شہریوں کو ایمرجنسی کی صورت میں ایمرجنسی کیئرکابنیادی حق ملنے جارہاہے ، وہ آپ سے شیئرکروں۔

ایچی سن کالج اورپھرکنگ ایڈورڈمیڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کاآغاز بطوراسسٹنٹ پروفیسرکیا، ذاتی نجی ہسپتال تھا۔ دوسرے لفظوں میں ایک ڈاکٹرکے لئے اس سے زیادہ تابناک مستقبل اور ہوہی نہیں سکتاکہ ضروریات اورسہولیاتِ زندگی سب موجود ہوں اورآپ استعفا دے دیں۔ اپنے استعفے میں انہوں نے لکھاکہ ” مَیں پاکستان میں ایمرجنسی ریفارمز لانے کی خاطراستعفا دے رہاہوں“۔ آفس، سٹاف، شعبہ، تنخواہ وغیرہ کچھ بھی نہیں تھاسوائے ایک سوچ اور اُمید کے۔زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے انہوں نے پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو 1122)کی صورت میں پنجاب کے شہریوں کو ایمرجنسی کیئرکابنیادی حق فراہم کیااور آج ریسکیو 1122کی ایمرجنسی سروسز کی فراہمی کے سبب 26لاکھ سے زائد ایمرجنسی متاثرین کو ریسکیو کیاجاچکاہے۔ اسی دوران انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور حکومتِ پنجاب کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ریسکیو 1122کے اجراءکو پاکستان کے دیگرصوبوں میں یقینی بنایااور انہیں بھرپورتکنیکی معاونت فراہم کی۔

 انہی کی شبانہ رو ز کاوشوں کی بدولت گورنرپنجاب چودھری محمد سرورنے گزشتہ دنوں گورنرہاﺅس میں ایک تقریب کے دوران کہاکہ جب وہ برطانیہ میں تھے اور ریسکیو 1122کے قیام ، فائرفائٹرز کی تربیت اور دیگرفلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے تو بلوچستان، سندھ ، اور دیگرصوبوں کے دوست اُن سے شکایت کرتے کہ چودھری صاحب یہ سب پنجاب میں ہی کیوں؟ اُن کے اس معصوم شکوے پرمَیں اُن سے کہتاکہ ”آپ مجھے اپنے صوبوں میں ایک ڈاکٹررضوان نصیرجیساانتھک اور محنتی انسان دے دیں مَیں یہ سروس آپ کے صوبوں میں بھی جاری کردوں گا“.... بلکہ انہوں نے مزید کہاکہ جہاں اُنہیں ریسکیو 1122کی کارکردگی دیکھ کرخوشی ہوتی ہے، وہاں اُنہیں یہ دکھ بھی ہوتاہے کہ دوسرے محکمے ایساپرفارم کیوں نہیںکررہے؟ گورنرپنجاب جیسی بڑی شخصیت کی جانب سے کسی سرکاری محکمے اور خاص طورپرمحکمے کے سربراہ کے لئے اس سے اچھے ریمارکس ہوہی نہیں سکتے۔ جولوگ ڈاکٹررضوان نصیر کو قریب سے جانتے ہیں ،اُنہیں اس بات کاادراک ہے کہ وہ کام اور صرف کام پریقین رکھتے ہیں ، وہ innovativeدماغ رکھتے ہیں ، سسٹم بناناجانتے ہیں ، ایک بارسسٹم بن جائے تو اپنی ساری توانائیاں اس سسٹم کی روانی میں لگادیتے ہیں۔

 ریسکیو 1122کاقیام ان کاایک خواب تھا، جب یہ خواب پایہءتکمیل کو پہنچاتو انہوں نے اپنی توانائیاں جدید خطوط پراستورایمرجنسی سروسز اکیڈمی کے قیام کے لئے مختص کردیں ۔ آج اُن کی کاوشوں کے نتیجے میں ٹھوکرنیاز بیگ پرمین جی ٹی روڈ کے پہلو میں ایک عظیم الشان ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کاقیام عمل میں لایاجاچکاہے، جہاں نہ صرف پاکستان بھرسے کیڈٹس تربیت حاصل کریں گے، بلکہ دنیابھرسے ریسکیوز کو تربیت فراہم کی جائے گی۔ کیایہ سب خود بہ خود ہوگیا؟ کیا اُن کے پاس الہٰ دین کاچراغ تھاکہ سب کچھ خود بخود وجودمیں آگیا© ؟ نہیں، ہرگز نہیں ! بلکہ اپنے خواب کی تکمیل میں انہوں نے اپنی راتوں کی نیندوں کو قربان کیا، اپنی فیملی سے دوری، گھربار،حتیٰ کہ اپنی صحت تک کی پراہ نہ کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں کی صحت کاخیال رکھا۔اپنی ذات، فیملی اور اپنے ذاتی مستقبل کی قربانی کے بدلے شہریوں کی جانوں کے محافظ بنے اور یہ سوداکسی بھی حوالے سے گھاٹے کانہیں ،کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ ”جس کسی نے ایک جان بچائی ،گویااُس نے پوری کائنات کوبچایا“۔ آج اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اس دنیامیں بھی عزت کا مقام عطا کیاہے اور آخرت میں بھی وہ اعلیٰ مقام پرفائز ہوں گے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کاوعدہ ہے کہ وہ اپنے محبوب بندوں کوکبھی رسوا نہیں کرتا۔

مزید : کالم


loading...