تحریک آزادی میںجسٹس بہاﺅاالدین مرحوم کا رول انتہائی اہم

تحریک آزادی میںجسٹس بہاﺅاالدین مرحوم کا رول انتہائی اہم

  



سرینگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمےر کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حال ہی میں وفات پائے سابق چیف جسٹس جسٹس(ر) بہاﺅالدین فاروقی کے حق میں خراج پیش کرنے کیلئے بلائی گئی تقریب سے بائیکاٹ کرتے ہوئے بار صدر کی تقریر کیلئے عدالت عالیہ کی منظوری کو ناقابل قبول قرار دیا ۔بار ایسوسی ایشن نے کہاکہ ایسا کبھی نہیں ہوا ہے لہذا بار اس تقریب کا بائیکاٹ کررہی ہی۔اس دوران بار ایسوسی ایشن نے جسٹس بہاﺅالدین مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک تقریب منعقد کی جس میں مرحوم کو کشمیر کی تحریک آزادی کا اہم رکن اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے ایک نمایاں شخصیت قرار دیا گیا ۔سوموار کو ریاستی عدالت عالیہ کی جانب سے مرحوم چیف جسٹس جسٹس بہاﺅلدین فاروقی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے فل کورٹ ریفرنس کا انفعقاد کیا گیا تاہم اس میں بار ایسوسی ایشن نے شرکت نہیں کی ۔بار ایسوسی ایشن نے ریفرنس بائیکاٹ کی وجہ بتاتے ہوئے کہاکہ چونکہ بار صدر میاں عبدالقیوم کواپنے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ محمد اشرف کے ذریعے یہ اطلاع دی گئی کہ وہ ریفرنس میں پڑھی جانے والی تقریر ضبط تحریر میں لاکر موجودہ چیف جسٹس سے اسکی منظوری حاصل کریں ۔

بار ایسوسی ایشن نے اس حکمنامے کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایسا ہائی کورٹ کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہے لہذا بار نے اس ریفرنس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس دوران بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم ایڈوکیٹ نے مرحوم جسٹس بہاﺅالدین فاروقی کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مفتی بہاﺅالدین فاروقی مرحوم کی زندگی اور ان کے پیشہ وارانہ سفر کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم چیف جسٹس چونکہ آئینی قوانین کے ماہر تھے ،لہذا انہوں نے حکومت ہندکے اس اختیار کو چیلینج کرتے ہوئے استعفی دیا تھا کہ حکومت دفعہ 370کے تحت ان کا تبادلہ عمل میں نہیں لاسکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ بنیادی انسانی حقوق تحفظ کمیٹی کی تشکیل کے بعد انہوں نے ریاست کے ہر خطے کا سفر کیا اور فورسز کے ہاتھوں ہورہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا ۔اس موقعے پر سید منظور احمد ایڈوکیٹ نے یمرحوم جسٹس فاروقی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم نے تحریک آزادی میں اہم رول ادا کیا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔اس موقعے پر بشیر احمد بشیر ایڈوکیٹ نے کہاکہ وہ جسٹس فاروقی کے ساتھ ذاتی مراسم رکھتے تھے اور ان کی ہمہ جہت شخصیت سے وہ بہت متاثر رہے ۔انہوں نے کہاکہ 70کی دہائی میں وکالت کے پیشے سے منسلک وکلا کو جسٹس فاروقی کا مرہون منت رہنا چاہئے کیونکہ انہوں نے نوجوان وکلا کی بہت حوصلہ افزائی کی۔تقریب میں ایڈوکیٹ ظفر احمد شاہ نے کہاکہ وہ جسٹس فاروقی کے بہت مداح تھے ۔انہوں نے کہاکہ جسٹس فاروقی کو اپنی بے باکی اور ایماندارانہ شخصیت کی بنا پر سابق وزیر اعلی شیخ محمد عبداللہ کی منشا پر الہ آباد تبادلہ عمل میں لایا اور دوسری بار انہیں سکمز تبادلہ بھی این سی کے دور حکومت میں ہی کیا گیا ۔تقریب میں ایڈوکیٹ مفتی معراج الدین ،ایڈوکیٹ جی این شاہین،ایڈوکیٹ نذیر احمد رونگا ،ایڈوکیٹ آر اے جان ،الطاف احمد حقانی نے بھی شاندار الفاظ میں جسٹس مرحوم بہاﺅالدین فاروقی کو خراج عقیدت پیش کیا۔اس موقعے پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی جبکہ وکلا نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے عدالتوں میںحاضری نہیں دی ۔

مزید : عالمی منظر


loading...