آئی ایل او کنونشن جبری مشقت کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں،فرحان عزیز خواجہ

آئی ایل او کنونشن جبری مشقت کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں،فرحان عزیز خواجہ

لاہور(کامرس رپورٹر)سیکرٹری لیبر و انسانی وسائل فرحان عزیز خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین اور آئی ایل او کنونشن چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کی تمام اشکال کی سختی سے ممانعت کرتے ہیںپاکستان کو جی ایس پی پلس سٹیٹس ملنے کے بعد اقوام عالم میں پاکستان کا تشخص بہتر بنانے کے لئے جبری مشقت کا مکمل خاتمہ ازحد ضروری ہو گیا ہے ان خیالا ت کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز سول سیکرٹریٹ دربار ہال میں وزیر اعلی کی طرف سے اس حوالے سے میں تشکیل دی گئی اعلی سطحی صوبائی کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ایم پی اے محمد رفیق ، سیکرٹری ہیومن ریسورس جاوید اقبال چوہدری ، آئی ایل او کے کنٹری ڈائریکٹر فرانسسکوڈی او ویڈیو ، ایڈیشنل سیکرٹری لٹریسی ، ڈی جی لیبر سلیم حسین ، ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر سید حسنات جاوید ، جنرل سیکرٹری پاکستان ورکرز کنفیڈریشن خورشید احمد خان ، بانڈڈ لیبر لبریشن پاکستان کی سیدہ غلام فاطمہ ، بیت المال ، لاہور چیمبر آف کامرس اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی اجلاس میں صوبہ بھر میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے حکومت پنجاب کی طرف سے 500ملین روپے کی خطیر رقم سے قائم کئے جانے والے فنڈ کے اقدام کو سراہا گیا اجلاس میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے پہلے سے موجود قوانین میں ترامیم اور سزاہوں کو مزید سخت بنانے کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں اجلاس کو بتایا گیا کہ جبری مشقت کے شکار ورکرز کو قانونی خدمات مفت پہنچانے ، بانڈڈ لیبر ویلفیئر فنڈ کے قیام بھٹوں اور مزدوروں کی رجسٹریشن ، ان کے شناختی کے اجرا اور کم از کم اجرت یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو سوشل سکیورٹی کی سہولیات اور مفت رہائشوں گاہوں کی فراہمی کے لیے اقدامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے لیبر یونین و تنظیموں کے نمائندوں نے صوبہ بھر میں بھٹوں اور دیگر تجارتی و صنعتی اداروں میں جبری مشقت کے حوالے سے مسائل کی نشاندہی کی اور ان کے حل کے لئے اپنی سفارشات کمیٹی کو پیش کیں کمیٹی ممبران نے جبری مشقت کو غلامی کی بدترین شکل قرار دیتے ہوئے بھٹوں پر پیشگی کی وصولی اور مزدوروں کو طے شدہ اجرت کی ادائیگی پر عملدرآمد نہ کرنے کو مسائل کی جڑ قرار دیا

جبکہ اس کے خاتمے کے لئے مزدور، مالکان اور حکومتی اداروں پر مشتمل سہ فریقی مشاورت کے ذریعے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا- سیکرٹری لیبر فرحان عزیز خواجہ نے اجلا س کو بتایا کہ حکومت پنجاب جبری مشقت کے خاتمے اور قوانین کے نفاذ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے - سیکرٹری لیبر فرحان عزیز خواجہ نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے جبری مشقت کا سخت نوٹس لیا ہے اور اس کے تدارک کے لئے سنجیدگی سے ضروری اقدامات کر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کا نقطہ نظر جاننے کے بعد متفقہ لائحہ اپنایا جائے گا - مزدروں کے استحصال کے خاتمے اور ان کی بحالی کے لئے حکومت پنجاب خطیر رقم سے بحالی فنڈبھی قائم کرنے جا رہی ہے - تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹیوں کو مزید فعال بنانے کے لئے پرفارمرز کارڈ بنائے گئے ہیں تا کہ بھٹہ اور دیگر مزدروں کا ڈیٹا اکٹھا کر کے پیشگی اور جبری مشقت کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے

مزید : میٹروپولیٹن 1