پاکستان کی خبر پر کاروائی ایکسائز حکام نے گاڑیوں کی غیر قانونی رجسٹریشن کا نوٹس لے لیا

پاکستان کی خبر پر کاروائی ایکسائز حکام نے گاڑیوں کی غیر قانونی رجسٹریشن کا ...

  



              لاہور(انویسٹی گیشن سیل )صوبائی سیکرٹری ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب اورڈائریکٹر جنرل نے روزنامہ پاکستان میں خبر کی اشاعت کے بعد ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ میں غیر قانونی طورپر گاڑیاں رجسٹرڈ کئے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی چھان بین کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی ہے تفصیلات کے مطابق روزنامہ پاکستان کی چھ جولائی کی اشاعت میں خبر شائع ہوئی تھی کہ جون کے مہینے میں بہترین پرفارمر کا اعزاز پانے والا ایکسائز اینڈٹیکسیشن انسپکٹر جعلسازی میں بھی نمبر ون نکلاانسپکٹر میاں افتخار نے ماتحت سٹاف اورموٹررجسٹریشن اتھارٹی کے ہمراہ جعلسازوں کی ملی بھگت سے نیلامی کی آڑ میں جعلی دستاویزات پر ٹرک رجسٹرڈ کراڈالے راز فاش ہونے پر متعلقہ موٹر رجسٹریشن اتھارٹی نے فی الفور گاڑیوں کی رجسٹریشن کینسل کردی لیکن ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے جعلسازی کرنے والے مبینہ شخص کو تھانے سے رجوع کرنے کی خفیہ ہدایات کیں جس پر ملزم نے مدعی بنتے ہوئے تھانے میں انجانے جعلساز کے خلاف مقدمہ بھی درج کروا دیاخبر میں بتایا گیا تھا کہ ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ میں ان دنوں نیلامی کی گاڑیوں کی آڑ میں غیر قانونی رجسٹریشن کا مکروہ عمل اپنے عروج پر ہے ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے ماہ جون میں صوبے بھر میں انسپکٹر میاں افتخار کو سب سے اچھی کارکردگی کا حامل قرار دیا ہے لیکن یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسپکٹر مذکور کا تعلق مبینہ طورپر جعلسازوں سے ہے جو مختلف اداروں سے نیلامی کی آڑ میں جعلی دستاویزات خود ہی تیار کرتے ہیں اور پھر انہی جعلی دستاویز ات کے تحت 10پہیوں کے ٹرک اور بڑی بسیں رجسٹرڈ کرواتے ہیں اس ضمن میں معلوم ہواہے کہ انسپکٹر میاں افتخار نے حال ہی میں اوکاڑہ میں غلام نبی ، راﺅ کاشف ، عرفان قصوری اور ڈی ای او مشتاق احمد کی ملی بھگت سے بڑے کمرشل ٹرکوں کے نیلامی کے حوالے سے جعلی کاغذات تیار کیئے اور کئی دنوں کی تگ ودو کے بعد ای ٹی او عبداللہ سے گاڑیاں رجسٹرڈ کروالیں۔ غلام نبی کے نام رجسٹرڈ ہونے والی ان گاڑیوں کو OKS-13-871۔ OKS-13-872۔ OKS-13-873اور OKS-13-874جیسے نمبر الاٹ کیئے گئے۔چھ پہیوں کے ان ٹرکوں کا رجسٹریشن کے وقت کسی قسم کا وجود نہیں تھا رجسٹریشن کے بعد انہیں فوری طورپر 10پہیوں میں کنورٹ کروایا گیا اور پھر 10سے 22پہیوںکے ٹرالوں میں بدل کر بیچ دیا گیا جس کے بعد ان گاڑیوں کی قیمت کروڑوں روپے ہوگئی گاڑیوں کی رجسٹریشن کے کچھ ہی عرصے بعد اس بات کا انکشاف ہوا کہ مذکورہ گاڑیوں کی نیلامی کا وجود نہیں اور گاڑیوں کی دستاویزات جعلی ہیںاس دوران موٹر رجسٹریشن اتھارٹی عبداللہ کا آن ہز پے اینڈ سکیل کے تحت سرگودھا میں ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کردیا گیااور ان کی جگہ اے ای ٹی او رانا عاشق کو ای ٹی او کے عہدے پر اوپی ایس افسر تعینات کردیا گیاجعلسازی سامنے آنے پر رانا عاشق نے گاڑیوں کی دستاویزات کی تصدیق کے لیے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کیاتو اتھارٹی نے دستاویزات کی تصدیق نہ کی اور دستاویزات کو بوگس قرار دیا جس پر رانا عاشق نے گاڑیوں کی رجسٹریشن لگ بھگ ایک سال بعد کینسل کردی لیکن محکمے سے جعلسازی کرنے والے غلام نبی، راﺅ کاشف اور عرفان قصوری اور محکمے کے انسپکٹر میاں افتخار اور ڈیٹا انٹری آپریٹر مشتاق احمد کے خلاف مقدمہ درج کروانے کی بجائے غلام نبی کو تھانے سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جس پر محکمے کو مبینہ طورپر دھوکا دینے والے غلام نبی نے بطور مدعی اشتیاق نعیم نامی شخص کے خلاف مقدمہ درج کروا دیاذرائع کا کہنا ہے کہ انسپکٹر میاں افتخار نے مذکورہ گاڑیوںکی غیر قانونی رجسٹریشن کے عوض 12سے 14لاکھ روپے وصول کئے اور ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے بوگس دستاویزات پر گاڑیاں رجسٹرڈ کیںخبر کی اشاعت کے فوری بعد صوبائی سیکرٹری ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب خالد مسعود چوہدری اور ڈائریکٹر جنرل نسیم صادق نے معاملے کی چھان بین کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی ہے ذرائع کے مطابق ڈی جی ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب نسیم صادق نے اوکاڑہ میں ہونے والی اس جعلسازی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمے کی بدنامی اور قومی خزانے کو نقصان کا باعث بننے والے کسی بھی چھوٹے بڑے ملازم کو بخشا نہیں جائیگا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...