عراق میں فوجی وردیوں کی فروخت بڑھ گئی

عراق میں فوجی وردیوں کی فروخت بڑھ گئی
عراق میں فوجی وردیوں کی فروخت بڑھ گئی

  

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میں ایک طرف ISISکے جنگجوﺅں کی پیش قدمی جاری ہے تو دوسری طرف خانہ جنگی کی صورتحال کے دوران فوجی وردیوں کی خریداری کے عمل میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا اور درزیوں کی چاندی ہوگئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق فوجی یونیفارم میں یہ اضافہ اس وقت اپنے عروج کو پہنچا جب اہل تشیع کے رہ نما آیت اللہ علی العظمیٰ علی السیستانی نے ملک بھر کے نوجوانوں سے ISISکے خلاف جنگ میں حصہ لینے کی تیاری کا حکم دیا۔ ان کی اپیل پر ہزاروں کی تعداد میں نوجوان فوج میں رضاکارانہ خدمات پر آمادہ ہوئے لیکن حکومت کیلئے بڑی تعداد میں وردیاں تیار نہیں تھیں جس پر لڑنے کے خواہشمند افراد نے خود ہی وردیاں تیار کراناشروع کردیں ۔

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ بدامنی کی لپیٹ میں آئے عراق میں درجنوں عسکریت پسند گروپ مصروف عمل ہیں۔ یہ عسکری گروپ مارکیٹ سے فوج اور پولیس کی وردیاں خرید کرتے ہیں اور فوج کی آڑ میں شہریوں کے گھروں پر رات کے اوقات میں چھاپے مارتے، فوجی چھاو¿نیوں پر حملے کرتے اور لوٹ مار کرتے ہیں۔

عرب میڈیاکے مطابق مارکیٹ سے لوگ محض فیشن کے لیے بھی فوجی وردیاں خریدنے لگے ہیں۔ خریداروں میں وزراء، سیاست دان، دانشور، صحافی، ٹیلی ویژن چینلوں کے نامہ نگار اور دوسرے لوگ بھی پیش پیش ہیں۔

مزید : بین الاقوامی