گورنر پنجاب کے جوہر

گورنر پنجاب کے جوہر
گورنر پنجاب کے جوہر

  



پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور سے بالمشافہ ملاقات کا اتفاق تو نہیں ہوا، البتہ ان سے ملنے والے بتاتے ہیں کہ موصوف اس قدر بے تکلف اور کھلے ڈلے انداز سے ملتے ہیں کہ ملاقاتی کو احساس ہی نہیں ہوتاکہ وہ صوبے کے لاٹ صاحب سے مل رہا ہے۔اللہ بخشے برسوں پہلے یہ خوبی مخدوم سجاد حسین قریشی میں بھی تھی۔ وہ جب گورنر پنجاب تھے تو ان کے سیکرٹری معروف افسانہ و ناول نگار طارق محمود تھے۔وہ بتاتے کہ مخدوم صاحب نے گورنر ہاﺅس کا کلچر ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔وہ آنے والوں سے ایسے ملتے ،جیسے اپنی ملتان والی رہائش گاہ باب القریش میں لوگوں سے مل رہے ہوں۔یہ بڑی اہم بات ہوتی ہے کہ انسان ماحول کو اپنے مزاج کے مطابق ڈھال لے، وگرنہ تو اقتدار کی غلام گردشیں بڑے بڑوں کو اپنے رنگ میں رنگ کے گھر کا چھوڑتی ہیں نہ گھاٹ کا۔

چودھری محمد سرور کو جب پنجاب کا گورنر بنایا گیا تھا تو بڑی لے دے ہوئی تھی۔ان کے غیر ملکی ہونے اور پاکستان کی سیاست و کلچر سے عدم واقفیت کے الزام کی بنیاد پر ان کے تقرر کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی، مگر یہ بات تو طے ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف ایک بار کسی کا انتخاب کر لیتے ہیں، تو پھر پیچھے نہیں ہٹتے، سو یہ تمام اعتراضات رد کر دیئے گئے، چودھری محمد سرور بھی اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کرلاہور آ گئے۔شروع شروع میں گورنر صاحب نے خود کو گورنر ہاﺅس تک ہی محدود رکھا۔مجھے جو بات سب سے اچھی لگی، وہ ان کا یہ عزم تھا کہ وہ پنجاب میں تعلیمی نظام کو عالمی سطح پر لانا چاہتے ہیں۔ویسے تو اس قسم کے دعوے اور جملے ہمارے لئے نئے نہیں، پہلے بھی سننے اور دیکھنے کو ملتے رہے، تاہم چودھری صاحب برطانیہ سے پاکستان آئے تھے، اس لئے یہ توقع پیدا ہوئی کہ وہ دنیا کے بہترین تعلیمی نظام کا چونکہ براہ راست علم رکھتے ہیں، اس کے اسرارو رموز کو سمجھتے ہیں، یوں کچھ نہ کچھ ضرور کر گزریں گے۔

پارلیمانی نظام میں گورنر کا کردار بہت محدود ہوتا ہے، وہ صوبے میں وفاق کی نمائندگی کرتا ہے،18ویں ترمیم کے بعد تو اس کے پاس انتظامی اختیارات کا ایک ذرہ بھی نہیں رہنے دیا گیا، سب کچھ وزیراعلیٰ کے پاس ہوتا ہے۔وہ زمانے گئے جب گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کے درمیان اختیارات کی جنگ رہتی تھی اور گورنر ہاﺅس جانے والی فائلیں واپس ہی نہیں آتی تھیں، مگر اس کے باوجود گورنرشپ کا ایک سحر اور دبدبہ اب بھی موجود ہے۔اس عہدے کا وقار اور اہمیت بڑھانے میں شخصیت کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے۔اس کی مثال سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد ہیں کہ جنہوں نے طویل عرصے تک گورنر رہنے کا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔پھر ہر آڑے وقت میں وہ اپنا کلیدی کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اپنے دو بااعتماد ساتھیوں چودھری محمد سرور اور سردار مہتاب احمد خان کو گورنر مقرر کیا ہے۔سردار مہتاب کو صوبے میں ایک مخالف حکومت کا سامناہے، جبکہ پنجاب میں چودھری محمد سرور کو ایسی کسی صورت حال کا سامنا نہیں۔ چودھری محمد سرور اگر اپنا سارا وقت ملاقاتوں ، دستخطوں، معمول کے اجلاسوں اور گورنر ہاﺅس میں چہل قدمی کرتے ہوئے گزاریں تو ان پر کوئی قدغن نہیں، کیونکہ صوبے میں ان کے بھائیوں جیسے وزیراعلیٰ شہبازشریف کی حکومت ہے، جسے وہ بڑی جاں فشانی سے چلا رہے ہیں۔

چودھری محمد سرور کے گورنر بننے سے پہلے ایک عام تاثر تھا بھی یہی کہ وہ صوبے کے ایک ڈمی گورنر ہوں گے اور روبوٹ کی طرح کام کریں گے، مگر گورنر بننے کے بعد انہوں نے پنجاب کا ایک سافٹ اور تہذیبی و ثقافتی چہرہ سنوارنے میں اپنا ایک خاموش کردار شروع کیا۔وہ صوبے کی مختلف یونیورسٹیوں میں گئے اور وائس چانسلروں کو یہ ٹاسک دیا کہ وہ صوبے میں تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لئے لائحہ عمل مرتب کریں، فنڈز اور وسائل کی فراہمی ان پر چھوڑ دیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلرڈاکٹر محمد مختار نے کچھ عرصہ پہلے مجھے بتایا کہ انہوں نے گورنر پنجاب جیسا تعلیم کے لئے مضطرب چانسلر اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔بقو ل ان کے گورنر صاحب ایک جملہ بار بار دھراتے ہیں.... ”تعلیم کے بغیر ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتی“۔ اور یہی جملہ ان کی زندگی کا مشن نظر آتا ہے۔

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو شاید سیاست سے زیادہ دلچسپی نہ ہو، تاہم ان کے اندر بالغ نظر سیاست دان ضرور موجود ہے۔ان کے سیاسی جوہر اس وقت کھل کر سامنے آئے، جب ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور ائرپورٹ پر طیارے سے باہر آنے کے لئے چودھری صاحب کے آنے کی شرط رکھی۔اس موقع پر گورنر پنجاب اس معاملے سے کنارہ کشی اختیار کر سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور فوراً وزیراعظم سے رابطہ قائم کرکے گھنٹوں سے جاری ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کی کامیاب کوشش کی۔اس موقع پر چودھری محمد سرور کا ایک جاندار اور مدبرانہ کردار سامنے آیا۔وہ نہ صرف ڈاکٹر طاہر القادری کو طیارے سے باہر لانے میں کامیاب رہے ، بلکہ موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وہ سب کچھ کیا، جس کی ڈاکٹر طاہرالقادری خواہش کرتے رہے۔اپنی گاڑی چھوڑ کر اس گاڑی میں بیٹھے،جسے چودھری پرویز الٰہی نے ڈاکٹر طاہرالقادری کے لئے بھیجا تھا۔ اپنی موجودگی میں حکومت اور شریف برادران کے خلاف ڈاکٹر طاہرالقادری کے سخت جملے بھی برداشت کئے۔ان کے ساتھ جناح ہسپتال بھی گئے اور منہاج القرآن بھی پہنچے۔یہ سب کچھ آسان نہیں تھا، مگر گورنر پنجاب نے بہت احسن طریقے سے اس سارے معاملے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ مَیں سمجھتا ہوں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ان کے اس کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

اب ان کا ایک اور جوہر سامنے آیا ہے۔ایک جرا¿ت مندانہ کام، جس کی عام حالات میں کسی عام گورنر سے توقع نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے امراءکے سب سے پسندیدہ تعلیمی ادارے ایچی سن کالج میں میرٹ نافذ کردیا ہے۔کوٹہ سسٹم سے نجات دلا کر میرٹ کی بنیاد پر داخلے دینے کی پالیسی رائج کی ہے۔اس حوالے سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق اس پالیسی کی وجہ سے نامی گرامی امراء، سیاستدانوں ، بیورو کریٹس اور سرمایہ داروں کے بچے داخلے سے محروم رہ گئے ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایچی سن کالج میں داخلہ ڈونیشن کی بنیاد پر دیا جاتا تھا۔ جو جتنی زیادہ ڈونیشن کی پیشکش کرتا، وہ اتنا ہی داخلے کا حقدار ٹھہرتا، اس کے علاوہ نسل در نسل استحقاق رکھنے والے بھی اپنے نام و نسب کی وجہ سے بچوں کو داخل کرانے میں کامیاب رہتے۔ گویا مستقبل کے حکمران پیدا کرنے والا یہ ادارہ عملاً مخصوص طبقات کے نرغے میں تھا۔گورنر صاحب نے اسے اس ناجائز قبضے سے چھڑا کر ایک تاریخی کام کیا ہے۔شہباز شریف بھی یہی چاہتے ہوں گے، مگر وہ اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گورنر صاحب کے اس اقدام کی بھرپور حمایت کی ہے۔

البتہ مجھے اس سارے عمل میں ایک تشنگی محسوس ہو رہی ہے۔گورنر پنجاب نے میرٹ تو نافذ کردیا ہے، مگر ایک عام پاکستانی بچہ تو پھر بھی اس ادارے میں داخل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کے پاس اس کی بھاری فیس ادا کرنے کے لئے پیسے ہی نہیں۔ کیا اس ادارے پر ان غریب، مگر ذہین بچوں کا حق نہیں جو صوبے کے پسماندہ علاقوں میں رہتے ہیں؟کیا ہی اچھا ہو کہ ایسے بچوں کے لئے کم از کم ایک سو داخلے مختص کر دیئے جائیں۔اس کے لئے بھی ایک اوپن ٹیسٹ ہو، جو معیار پر پورا اتریں، انہیں حکومتی اخراجات پر داخلہ دیا جائے۔یہ عمل طبقاتی نظام میں دراڑ ڈال دے گاا ور ان طبقات کے بچے بھی حاکموں کی اولادوں کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں گے جو اب تک محکوم چلے آ رہے ہیں۔   ٭

مزید : کالم


loading...