آپریشن کے بعد دہشتگردی روکنے کےلئے باقاعدہ انتظامات ہونے چاہیں،سیاسی ماہرین

آپریشن کے بعد دہشتگردی روکنے کےلئے باقاعدہ انتظامات ہونے چاہیں،سیاسی ماہرین

لاہور(محمد نواز سنگرا//انویسٹی گیشن سیل) وزیرستان میں آپریشن کے بعد دہشتگردی کا راستہ روکنے کےلئے باقاعدہ انتظامات ہونے چاہیں۔وفاقی حکومت ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے فاٹا میں کی ترقی کےلئے جدید تعلیم،صحت اور سرکاری نظام بحال کرے۔ضرورت کیمطابق آئین میں ترامیم لا کر قبائلی علاقوں کے لوگوں میں پاکستانیت کا شعور پیدا کرنا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار ملک کے سیاسی اور عسکری ماہرین نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔سابق وفاقی وزیر نذرمحمد گوندل نے کہا کہ فاٹا کی ترقی کےلئے ٹریبل ایکٹ اور پیپلز پارٹی دور میں لائی گئی ترمیم موجود ہے جبکہ ترقی کےلئے مزید ترامیم لانے میں بھی حرج نہیں ۔وفاقی حکومت وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے وزیرستان کے لوگوں کو سہولیات سے مزین کرے ورنہ حالات بہتر نہیں ہوں گے۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رانا افضل خان نے کہا کہ حکومت وزیرستان میں ترقی کا باقاعدہ پلان رکھتی ہے جس کو ابھی عوا م کے سامنے نہیں لایا جا رہا۔فوج کا عمل دخل بر قرار رکھنے اور حکومت ایک سے دوسال میں وزیرستان کی ترقی اور دہشتگردی کا باقاعدہ راستہ روکنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔برگیڈئیر (ر)محمد یوسف نے کہا کہ اقتدار کی نیچے منتقلی اور اضلاع کی جگہ صوبے ہونے چاہیں۔فاٹا کے لوگوں کو بنیادی سہولیات سے مزین اور حکومت وہاں کے لوگوں کو پاکستانی سمجھے اور وزیرستان کے لوگوں کی تعلیم صحت اور شعور و آگاہی پر توجہ دینی چاہیے ۔فاٹا کے مقامی لوگ محب وطن ہیں صرف حکومت کی توجہ کے متقاضی ہیں۔آئی جی (ر)الطاف قمر نے کہا کہ آپریشن کے بعد حکومت فاٹا کے لوگوں میں پاکستانیت کا جذبہ پیدا کرے تاکہ مقامی لوگ آئندہ کےلئے دہشتگردوں کیخلاف لڑ کر وہاں دہشتگردی کو پنپنے نہ دیں اور حکومت بھی اپنی جڑیں مضبوط بنا کر دہشتگردوں کاراستہ روکے۔

ماہرین

مزید : صفحہ آخر