مسلمان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فیضیاب کیوں نہیں ہو پا رہے؟

مسلمان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فیضیاب کیوں نہیں ہو پا رہے؟
 مسلمان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فیضیاب کیوں نہیں ہو پا رہے؟

  



ایک قومی اخبار نے 5 جولائی کو یہ دلچسپ خبر شائع کی ہے کہ سلطنت آف اومان کے وزیر خارجہ کی اہلیہ محترمہ نے جو شہزادی نورا کہلاتی ہیں، لندن کے ایک جوئے خانے میں 20 لاکھ پونڈ ہار کر عدالت میں جوئے خانے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے کہ اس کے کارندوں نے جان بوجھ کر شہزدی نورا کو ہرانے کی پلاننگ کی ہے۔ محترمہ نے عدالت میں اپنا کیس پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب وہ شام کے وقت جوئے خانے پہنچی تو کھیلنے کے لئے تیار نہیں تھی، مگر اس کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملازمین نے اسے کھیلنے پر آمادہ کیا اور جب وہ دھڑا دھڑ لاکھوں پونڈ ہارتی جا رہی تھی، تو جوئے خانے کے ملازمین اسے ہلا شیری دیتے رہے۔ وہ کہتے رہے کہ شہزادی نورا جیسا کوئی نہیں ہے اور یہ کہ وہ عنقریب ہاری ہوئی رقم دوبارہ جیت جائے گی۔

شہزادی نورا ایک اسلامی اور عرب ریاست کے وزیر خارجہ کی اہلیہ محترمہ ہیں، جن کے بارے میں خبر میں بتایا گیا ہے کہ وہ مسقط کے پُر تعیش علاقے میں رہتی ہیں، جوے کی رسیا ہیں، سیر و سیاحت کے لئے اکثر مغربی ممالک میں جاتی رہتی ہیں اور یہ جوا بھی انہوں نے لندن کے ایک مشہور جوئے خانے میں کھیلا ہے، جس میں 20لاکھ پونڈ ہار کر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ یہ ایک شہزادی کی بات نہیں، مغرب کے جوئے خانوں اور تعیش کے مراکز میں گزشتہ ایک صدی سے شہزادوں اور شہزادیوں کی اس طرح کی داستانیں سینکڑوں کی تعداد میں بکھری پڑی ہیں، جن میں ہر داستان اپنے اندر دلچسپ اور عبرت کا سامان رکھتی ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی ہے کہ اس ذات بابرکات نے مسلمانوں اور عربوں کو تیل اور معدنیات کی عظیم دولت سے اس وقت نوازا جب وہ اس کو سنبھالنے کے اہل نہیں تھے۔ دورِ زوال میں اچانک ملنے والی اس دولت نے ہماری حالت ان نو دولتیوں جیسی بنا دی جن کو اپنے اردگرد دولت کے انبار دیکھ کر کچھ نہیں سوجھتا کہ اس دولت کے ساتھ کرنا کیا ہے، چنانچہ وہ اس دولت کو اپنے ماضی میں محرومیوں کی نفسیاتی تلافی کی نذر کرتے ہوئے عیش و عشرت میں اجاڑ دیتے ہیں۔ خیال تھا کہ ایک یا دو نسلیں گزرنے کے بعد شاید ہمیں ہوش آجائے گی، لیکن پوری ایک صدی گزر جانے کو ہے،اتنے عرصے میں چوتھی نسل اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے، لیکن ہمارا حال آج بھی یہ ہے کہ لندن کے جوئے خانوں میں لاکھوں پونڈ ہار جانے کے بعد ہمیں ہوش آتا ہے اور احساس ہونے لگتا ہے کہ ہمیں دھوکے اور پلاننگ کے ساتھ جواء کھیلنے اور ہارنے کی نوبت تک پہنچایا گیا ہے۔

دھوکہ آج کا نہیں ہے، اسے بھی ایک صدی ہونے کو ہے اور یہ صرف مغرب کا دھوکہ نہیں، بلکہ اس میں ہماری نا اہلی کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ خلیفہ عثمانی سلطان عبد الحمید ثانی ؒ کے دور میں عراق سے پہلی بار تیل نمودار ہوا تھا۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ جرمنی کے ساتھ ان کی دوستی تھی اور انہوں نے عراق کے علاقے میں پانی کے کنویں کھودنے کے لئے ایک جرمن کمپنی کو اجازت نامہ جاری کیا تھا، لیکن کچھ عرصے کے بعد یہ معلوم ہونے پر کہ وہاں سے پانی کی بجائے تیل نکل رہا ہے اور اسے بڑی راز داری کے ساتھ باہر منتقل کیا جا رہا ہے،انہوں نے یہ کنویں بند کروا دیئے تھے اور کمپنی کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔

اتنا حصہ تو دھوکے کا تھا کہ پانی کے نام پر کھودے جانے والے کنویں سے تیل نکالا جا رہا تھا، مگر اس سے آگے ہماری نا اہلی کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ ہمارے پاس زمین سے تیل نکالنے، اسے ریفائن کرنے اور اسے دنیا تک پہنچا کر مارکیٹنگ کرنے کی صلاحیت نہیں تھی، چنانچہ ہمیں انہی مغربی کمپنیوں کا سہارا لینا پڑا، جس کا نتیجہ نہ صرف عرب، بلکہ پورا عالم اسلام بھگت رہا ہے۔ تیل کی اس عظیم ترین دولت میں سے جتنا حصہ ہمیں ملا ہے یا مل رہا ہے، وہ بھی اگر عالم اسلام یا کم از کم عرب دنیا کی سائنسی ترقی، تعلیمی ارتقاء، ٹیکنالوجی کے حصول اور عسکری قوت و اسباب کی فراہمی پر صرف ہوتا تو آج بہت سے مسلم ممالک اپنے دفاع کے لئے مغربی قوتوں کا سہارا لینے پر مجبور نہ ہوتے اور ہم خود اپنے سرمائے کے تحفظ اور استعمال کے لئے مغربی اداروں کے محتاج نہ ہوتے، لیکن بد قسمتی سے ہمیں اس دولت میں سے جتنا کچھ ملا، وہ بھی عیاشیوں اور تکلفات کی نذر ہو گیا ہے۔ ہماری اس نمود و نمائش اور تعیش پرستی کی ہزاروں کہانیاں عالمی اور علاقائی پریس کی فائلوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔

جناب نبی اکرم ؐ کے ایک ارشاد گرامی کی روشنی میں ویسے بھی یہ دولت شاید ہمارے لئے نفع بخش نہیں ہے۔ مسلم شریف کی ایک روایت کے مطابق جناب نبی اکرم ؐ نے فرمایا کہ دریائے فرات کے کنارے سے سونے کے پہاڑ نمودار ہوں گے اور زمین اپنے خزانے اگل دے گی، جس پر بے پناہ قتل عام ہو گا اور دنیا بھر سے لوگ آ کر اس کے لئے لڑیں گے۔ اس ارشاد میں آقائے نامدار ؐ نے یہ بھی فرمایا کہ۔۔۔ فمن حضرہ فلایأ خذمنہ شیءًا۔۔۔ جو وہاں موجود ہو، وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے۔

محدثین نے اس جملے سے یہ مفہوم اُخذ کیا ہے کہ یہ دولت نفع بخش اور مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہو گی۔ اگر تیل کو ’’سیال سونا‘‘ تصور کر کے عراق اور اردگرد کے عرب ممالک سے نکلنے والے تیل اور دیگر معدنیات کو زمین کے پیٹ کے خزانے سمجھ لیا جائے اور اسے جناب نبی اکرم ؐ کی اس پیش گوئی کے مصداق قرار دے دیا جائے، تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ اس دولت نے قتل عام کے سوا کچھ نہیں دیا اور یہ مسلمانوں کے کسی اجتماعی کام میں صرف نہیں ہوئی۔ آج عملی صورت حال یہ ہے کہ عرب ممالک اور دیگر مسلم ممالک کی زمینوں کے پیٹ میں موجود خزانے اور ان میں سے نکالے جانے والے خزانوں کا بیشتر حصہ خود ہمارے اپنے مصرف اور کنٹرول میں نہیں ہے۔ ہم ان کے اخراج سے لے کر مارکیٹنگ تک کے تمام مراحل میں مغرب کے محتاج ہیں اور ہمیں ہلاشیری دے کر اور ’’ہمارے جیسا کوئی نہیں ہے‘‘ کے نشے کا انجکشن لگا کر ہم سے وہ سب کچھ کروا لیا جاتا ہے، جس کی پلاننگ کی گئی ہوتی ہے اور جسے ہم بقائمی ہوش و حواس کرنے کے لئے شاید تیار نہیں ہو پاتے۔ یہ صورت حال اس وقت تک اسی طرح رہے گی، جب تک ہم زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور ’’پدرم سلطان بود‘‘ کے نشے سے نکل کر موجودہ معروضی صورت حال کی بنیاد پر اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار حاصل نہیں کر لیتے۔ اس لئے یہ صرف ’’شہزادی نورا‘‘ کی کہانی نہیں، بلکہ ہم سب ’’شہزادہ نورا‘‘ ہیں۔ ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے والے، ہلا شیری دے کر اپنا کام نکلوانے والے اور ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی ہم سے سارے کام کروا لینے والے اسی طرح ہم سے لاکھوں،بلکہ اربوں کھربوں پونڈ اینٹھتے رہیں گے، مگر سوال یہ ہے کہ اس میں ان کا قصور کیا ہے؟ *

مزید : کالم


loading...