رمضان کریم

رمضان کریم
رمضان کریم

  

اذان مغرب میں کچھ وقت باقی تھا۔ راہ چلتے ”افطرمعنا“ کے الفاظ سماعت سے ٹکرائے۔ نگاہ اٹھائی تو ایک نوعمر لڑکا چہرے پر معصومیت سجائے، سفید بے داغ عبا میں ملبوس ”ہمارے ساتھ افطار کیجئے“ کے مفہوم کو عربی میں ادا کر رہا تھا۔ الفاظ ،لہجہ اور چہرے کے تاثرات سے واضح تھا کہ وہ صدق دل سے دعوت دے رہا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو، وہ اس بستی کا باسی تھا، جس کے با وفا افراد کو رحمت اللعالمین کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ مہمان نوازی کی دلنواز ادا اور پُرخلوص صدا کو ٹھکرانا ممکن نہ تھا۔ مَیں نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کی رہنمائی میں چل دیا۔ وہ مجھے ایک ”سفر“(دسترخوان) پر لے آیا اوربیٹھنے کو کہا۔ اس کے ساتھی میزبان نے محبت سے خوش آمدید کہا۔ تھرماس سے ”فنجان“ (پیالی) میں قہوہ انڈیل کر میرے سامنے رکھ دیا۔ کم عمر میزبان مزید مہمانوں کی تلاش میں چل دیا۔ دیدہ زیب پیکنگ میں ”زبادی“ (دہی) کا کپ سامنے تھا، ساتھ ”خبز“ (روٹی) دھری تھی اور آب زم زم بھی۔ ”رطب“ (تازہ کھجور) کی موجودگی تو افطار دستر خوان کا لازمی جزو متصور ہوتی ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ ہے، مدینہ کی بستی اور مسجد نبوی کا اندرونی حصہ ہے۔ بے حساب دستر خوان بچھے ہیں۔ بے شمارمیزبان مہمانوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں، دعوت ہے، بلاوا ہے.... جواب میں کہیں پس و پیش، تذبذب اور جھجھک ، کہیں اقرار، والہانہ پن اور آمادگی ہے۔

ماہ رمضان میں بلا مبالغہ لاکھوں افراد روزانہ مسجد نبوی میں بطور مہمان افطارکرتے ہیں ، یہی منظر مسجد الحرام میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ منظر ان دو مقامات کے لئے خاص نہیں۔ مدینہ، مکہ اور سعودی عرب کی بیشتر مساجد میں لاتعداد افراد کے افطار کا انتظام کیا جاتا ہے، بلکہ عالم اسلام کی اکثر مساجد میں بے شمار افراد کی مہمان نوازی کی جاتی ہے۔ وہ کون سا جذبہ ہے جو مادیت پرستی کے عفریت کے سامنے ان اصحاب خیر کو کھڑا کر دیتا ہے؟ یہ دولت لٹا کررضا الٰہی کو پانے کے متمنی افراد۔ انفاق فی سبیل اللہ کی دوڑ یہیں اختتام پذیر نہیں ہوتی،بلکہ زکوٰة کی ادائیگی کے لئے مسلمان عموماً ماہ رمضان کا انتخاب کرتے ہیں، حالانکہ یہ ادائیگی ہر اسلامی ماہ میں روا ہے۔ جمال دیکھئے، کہ مسلمان کا پاک مال بھی اس وقت پاکیزہ ٹھہرتا ہے ،جب وہ لاچار،مجبور، بے کس بھائیوں کے لئے اڑھائی فیصد عطا کرتا ہے۔ معاشی تفاوت کے ازالے کے لئے اسلام عملی حل تجویز کرتا ہے۔ مالدار پر لازم کر دیا گیا: ”انفق“ (خرچ کر).... بلکہ ماہ رمضان کے اختتام پر ہر مسلمان کو صدقہ فطر (فطرانہ) کی ادائیگی کا پابند کر دیا اور اس کی فرضیت کا ایک سبب مسکین کے لئے طعام کی فراہمی ہے۔

صام کے معنی ”رکنا“ ہیں۔ اسی سے ”صوم“ ہے، جس کو ہم اردو میں ”روزہ“ سے تعبیر کرتے ہیں۔ روزہ میں حلال سے روکا جاتا ہے۔ یوں تربیت ہوتی ہے تاکہ حرام سے رکنے کا جذبہ جنم لے۔ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی رگ و پے میں سرور کی کیفیت سی دوڑ جاتی ہے، نجانے کیوں؟ ہم سے خطاکار بھی اس ماہ کی رحمتوں اور رفعتوں سے فیض یاب ہونے کے لئے بے تاب ہو جاتے ہیں۔ خطا کے دھلنے اورعطا سے بھرنے کی امید شاد کر دیتی ہے۔ رمضان کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ وہ قرآن مجید جو حق و ہدایت کی لازوال و لاریب کتاب ہے۔ قیام اللیل (تراویح) کی حسین عبادت اس کتاب سے تعلق کا ذریعہ ٹھہرتی ہے۔ طالب نصیحت کے لئے زریں لمحات۔ رب العالمین نے بیان کیا: ”یقیناہم نے قرآن کونصیحت کے لئے آسان کردیا ہے، پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا“ ....(سورہ¿ القمر)۔

اسی ماہ کو لیلة القدر(شب قدر) کو اپنے دامن میں سمیٹنے کا اعزاز حاصل ہے۔ نزول قرآن کی رات یہی ہے۔ ایک ہزار ماہ سے بہتر، سلامتی کی رات، آشتی کی رات۔ فرشتے رب کے حکم سے نازل ہوتے ہیں۔ اجر کے متلاشی فرمان حبیب کی روشنی میں اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ڈھونڈنے کی سعی کرتے ہیں۔ آخری عشرے کی قیمتی عبادت اعتکاف بھی ہے۔ اعتکاف میں رب کی جستجو کرنا۔ رب سے قربت کے لئے اس کے گھر (مسجد) کا پابند ہو جانا۔ دن رات اس کے در پر، اس کے گھر پر، تجدید تعلق کی تگ و دو۔ سرگوشیاں، مناجات، التجائیں اور دعائیں۔ ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کو جن لوگوں کے لئے بیت اللہ پاک رکھنے کی ربانی تاکید کی گئی، ان میں عاکفین (اعتکاف کرنے والے) بھی شامل ہیں۔

رمضان کا خوبصورت موسم دعا کے لئے نہایت موزوں ہے۔ زکریا علیہ السلام کے الفاظ پرغور کیجئے: ”مَیں کبھی بھی تجھ سے دُعا کر کے محروم نہیں رہا“ ۔ ہاتھ اٹھائیے، طلب کیجئے۔ دین بھی، دنیا بھی۔ اے رب ! سیدھی راہ دکھا، گناہ دھو ڈال، جیسے سفید کپڑا دھل جاتا ہے اور داغ باقی نہیں رہتے۔ اے رب! حق کی پہچان عطاءفرما اور اس پر عمل کی توفیق دے۔ باطل کی پہچان عنایت کر اور اس سے اجتناب کی توفیق دے۔ دعا ہے کہ رمضان کریم میرے اور آپ کے لئے کرم ، رحمت اور برکت کا ذریعہ بنے.... قرآن مجید میں مذکور ایک سوال ، جو اہل ایمان سے ہے۔ اس رمضان اگر مثبت جواب پا سکے تو ”کامران رمضان“ کی مبارک: ”کیا اب تک ایمان والوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی سے اور جو حق نازل ہو چکا ہے، اس سے نرم ہو جائیں“....(سورہ¿ الحدید)۔٭

مزید : کالم