افغانستان کے صدارتی انتخابات متنازع کیوں بن گئے؟

افغانستان کے صدارتی انتخابات متنازع کیوں بن گئے؟


افغانستان کے الیکشن کمیشن کی طرف سے اعلان کردہ صدارتی انتخابات 2014ء کے ابتدائی اور غیر حتمی نتائج کے مطابق عالمی بینک کے سابق اکانومسٹ اشرف غنی احمد زئی50فیصد سے زائد ووٹ لے کر پہلے نمبر پر آئے ہیں۔ افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن کے سربراہ احمد یوسف نورستانی نے ابتدائی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اشرف غنی نے56.4 فیصد ووٹ حاصل کئے، جبکہ اُن کے مدمقابل عبداللہ عبداللہ کو 43.6 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ پریس کانفرنس میں اُ نہوں نے ووٹوں کی تعداد بتاتے ہوئے کہا کہ اشرف غنی نے48 لاکھ 85 ہزار888اور عبداللہ عبداللہ نے 34 لاکھ 61 ہزار 639 ووٹ حاصل کئے۔ صدارتی انتخاب کے دوران تقریباً 80 لاکھ افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جن میں38 فیصد خواتین بھی شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن حتمی نتائج کا اعلان 22جولائی کو کرے گا۔

صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ اپریل میں منعقد ہوا تھا جس میں آٹھ امیدواروں نے حصہ لیا تھا۔ اِن آٹھ امیدواروں میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ ، ڈاکٹر اشرف غنی، زلمے رسول، پروفیسر عبدالرب رسول، انجینئر قطب الدین ہلال، محمد شفیق گل، آغا شیر زئی، محمد داؤد سلطان زئی اور ہدایت امین ارسلا شامل تھے۔ پہلے مرحلے میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو برتری حاصل ہوئی اور اُنہوں نے 45فیصد ووٹ حاصل کئے تھے، جبکہ ڈاکٹر اشرف غنی کو 31.6 فیصد ووٹ ملے تھے، صدارتی انتخابات جیتنے کے لئے 50 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے، جو ان میں سے کوئی امیدوار حاصل نہ کر سکا تھا، اس لئے الیکشن کے دوسرے مرحلے میں 14جون کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ انتخابات کے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد عبداللہ عبداللہ نے اُنہیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عبداللہ عبداللہ نے دو ہفتے قبل مطالبہ کیا تھا کہ گنتی فوراً روک دی جائے، وہ بڑے پیمانے پر ہونے والے دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات تک کسی نتیجے کو قبول نہیں کریں گے۔ عبداللہ عبداللہ نے الزام لگایا ہے کہ حامد کرزئی نے اشرف غنی کو کامیاب کرانے کے لئے اثرو رسوخ استعمال کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دھاندلی میں الیکشن کمیشن بھی ملوث ہے۔ تاہم اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتخابات میں شفافیت کو ثابت کر دیا جائے، تو وہ نتائج تسلیم کر لیں گے۔ عبداللہ عبداللہ کے حامیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دوسرے مرحلے کے انتخابات فراڈ تھے اور اشرف غنی کو قریباً 20 لاکھ جعلی ووٹ ڈالے گئے ہیں، جبکہ اشرف غنی کا کہنا ہے کہ وہ 10 لاکھ سے زائد ووٹوں سے جیتے ہیں اور اُن کی برتری جائز ہے۔افغان میڈیا کے مطابق دونوں صدارتی امیدوار 7ہزار پولنگ سٹیشنوں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق افغان الیکشن کمیشن کے سربراہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ بہتر انتخابات کرانے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود انتخابی عمل میں بعض کوتاہیاں اور تکنیکی غلطیاں ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اِس عمل میں فراڈ اور خلاف ورزیوں کی تردید نہیں کریں گے۔ کسی جگہ سیکیورٹی اہلکار تو کہیں گورنرتک دھاندلی میں ملوث رہے ہیں۔ امریکہ نے بھی افغان صدارتی الیکشن میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا مکمل جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ افغان صدارتی انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جائے تاکہ افغان عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد ہو۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ 2009ء کے انتخابات میں دوسرے، جبکہ ڈاکٹر اشرف غنی چوتھے نمبر پر رہے تھے۔ دونوں امیدوارہی نامور اور قابل شخصیات ہیں۔ اشرف غنی افغانستان کے وزیرخزانہ رہے ہیں۔ انہوں نے کئی عالمی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تدریسی فرائض بھی انجام دیئے۔ اشرف غنی نے کولمبیا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ اِسی دوران وہ بی بی سی ریڈیو کی پشتو اور فارسی سروس سے منسلک رہے اور تواتر سے حالاتِ حاضرہ پرتبصرہ کرتے رہے ، کئی دیگر اشاعتی و نشریاتی اداروں کے لئے بھی کام کیا۔ امریکہ یورپ کے ساتھ ساتھ مشرقی و جنوبی ایشیاء کے معاشی و سیاسی معاملات پر خاص دسترس رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی مدرسوں کے نظام پر تحقیق بھی کی۔ دنیا کے سو بڑے دانشوروں میں دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔ انہوں نے افغان شہریوں کی ترقی کے کئی ایک طویل مدتی منصوبے و پروگرام بھی پیش کئے اور 2009ء کے صدارتی الیکشن میں بھی حصہ لیا، لیکن ناکام رہے۔ دوسری طرف ڈاکٹر عبداللہ کی بھی افغانستان کی سیاست میں اپنی حیثیت ہے، وہ حامد کرزئی کی حکو مت میں وزیرخارجہ رہ چکے ہیں،لیکن 2006ء میں انہوں نے آزاد حیثیت میں صدارتی انتخاب لڑنے کے لئے وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ مسعود فاؤنڈیشن کے بھی جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔ 2009ء کے انتخابات میں وہ دوسرے نمبر پر آئے۔ دوسرے مرحلے میں حامد کرزئی اور اُن ہی کے درمیان مقابلہ ہونا تھا، لیکن انہوں نے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔

صدارتی انتخابات 2014ء افغانستان اوراِس پورے خطے کے استحکام کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ پوری دنیا کی نظریں اِن انتخابات پر ٹکی ہوئی ہیں، کیونکہ انٹرنیشنل سیکیورٹی فورسز افغانستان سے نکلنے کی تیاری کر رہی ہیں، ان انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہو گا کہ امریکہ اور دوسری بیرونی طاقتوں نے افغانستان میں جمہوری نظام قائم کرنے میں کتنا موثر کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں افغانستان میں بہت سی انتخابی اصلاحات بھی کی گئی تھیں اور آزاد الیکشن کمیشن بھی بنایا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود بدقسمتی سے انتخابات کو شفاف نہیں بنایا جا سکا اور انتخابات ہونے کے بعد ہر طرف دھاندلی کا شور مچ گیا اور ان حالات میں جب الیکشن کمیشن نے بھی اس بات کو تسلیم کر لیا ہے تو معاملات زیادہ الجھتے نظر آتے ہیں۔ ایک طرح سے دیکھا جائے، تو افغانستان کے انتخابی عمل میں بھی جھول موجود ہے کہ صدارتی انتخاب جیتنے کے لئے 50فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہیں ورنہ کوئی بھی امیدوار برتری ہونے کے باوجود کامیاب قرار نہیں پاتا۔ اس وجہ سے ہارنے والے امیدوار کو گٹھ جوڑ کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ دوسرے ہارے ہوئے امیدواروں کو اپنے ساتھ ملا سکتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ پہلے مرحلے میں حصہ لینے والے امیدواروں نے دوسرے مرحلے میں ڈاکٹر عبداللہ کے خلاف متحدہ محاذ بنا لیا ہو اور ڈاکٹر اشرف غنی کی حمایت کا فیصلہ کر لیا ہو جو ان کی شکست کا سبب بنا۔

ہم دُعا گو ہیں کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹ جائے اور دونوں امیدواروں کا انتخابی نتائج پر اتفاق ہو جائے، اگر ایسا نہ ہو سکا تو افغانستان عدم استحکام کا شکار رہے گا اور جو امیدیں صدارتی انتخابات سے لگائی گئی تھیں وہ پوری نہیں ہو سکیں گی۔ بے شک نئے آنے والے صدر کو افغانستان سے امریکی فوج کے جانے کے بعد سیکیورٹی کی مشکل صورت حال سمیت الجھی ہوئی ملکی سیاست اوربے جان اقتصادی ڈھانچے کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ افغانستان میں جمہوریت کا قیام ہی خطے میں امن و امان اور استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

مزید : اداریہ