سود کا غیر اسلامی کاروبار؟

سود کا غیر اسلامی کاروبار؟

  



شہر میں سود کا کاروبار بہت وسعت اختیار کر گیا ہے، جو اب براہ راست کی بجائے بالواسطہ کیا جا رہا ہے۔ شہر میں مختلف اشیاء اقساط پر دینے کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب سود کی جدید قسم کا کاروبار ہے۔ فریج، ایئرکنڈیشنر اور ٹیلی ویژن سے لے کر موٹر سائیکل تک اقساط پر دی جاتی ہیں۔ یہ کاروبار وہ سود خور کر رہے ہیں جو پہلے غریب افراد کو نقد رقم دے کر پھنسا لیتے اور پھر ان کو لوٹتے رہتے تھے اب ان لوگوں نے یہ جدید طریقہ اختیار کر لیا ہے۔

یہ لوگ کسی بھی قیمتی شے کے بدلے اس کی قیمت اصل قیمت سے کہیں زیادہ مقرر کر کے اس کی اقساط کرتے ہیں، دو اقساط پیشگی لے لی جاتی ہیں اور پھر ضرورت مند سے اشٹام لکھوائے جاتے ہیں جن کی شرائط سنائے بغیر دستخط اور انگوٹھا لگوا لیا جاتا ہے۔ پھر یہ قسط پھندہ بن جاتی ہے۔ کوئی ایک قسط رک جائے تو جرمانے کے طور پر مقررہ قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اگر کوئی ضرورت مند دو سے زیادہ اقساط ادا نہ کر سکے، تو غنڈہ نما عناصر اس سے وہ شے زبردستی چھین کر لے جاتے ہیں اور پھر اس وقت تک واپس نہیں کرتے جب تک اقساط معہ جرمانہ (سود) وصول کر کے نئے ضامن کی ضمانت نہ لے لیں۔

یہ دھندا کھلے بندوں اشتہارات کے ذریعے تشہیر کر کے ہو رہا ہے۔ مقامی پولیس پوری طرح باخبر ہے، لیکن بوجوہ کارروائی سے گریز کرتی ہے۔ یوں شہری اس لعنت کی وجہ سے لوٹے جا رہے ہیں، حکومت بھی خاموش ہے۔ اسلام میں سود کی ہر قسم حرام ہے اور یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جس میں یہ مکروہ دھندا ہو رہا ہے۔ حکومت کب اس طرف توجہ کرے گی۔

مزید : اداریہ


loading...