نیو دہلی، 50 سال بعد ہاتھی کو زنجیروں سے آزادی مل گئی

نیو دہلی، 50 سال بعد ہاتھی کو زنجیروں سے آزادی مل گئی
نیو دہلی، 50 سال بعد ہاتھی کو زنجیروں سے آزادی مل گئی

  

نیو دہلی (نیوز ڈیسک) 50 برس بعد قید اور ظلم و ستم سے رہائی پانے کے بعد راجو نامی ہاتھی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق شمالی لندن سے تعلق رکھنے والے مخیر حضرات کی قائم کردہ تنظیم ”وائلڈ لائف ایس او ایس“ کو اطلاعات موصول ہوئیں کہ بھارت کی ریاست اترپردیش میں راجو نام کا ایک ہاتھی پچھلے پچاس برس سے زنجیروں اور آنکڑوں میں جکڑا ہوا ہے اور بیماری، کمزوری اور زخموں کی وجہ سے قریب المرگ ہے۔ راجو کو اس کا مالک بلاناغہ مارتا اور ظلم و ستم کے ذریعے اسے اپنی سونڈ کو راہگیروں کے سامنے پھیلا کر چند سکے مانگنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ بھی پتا چلا کہ راجو کے مالک کے پاس اسے رکھنے کے لیے کوئی قانونی دستاویزات بھی موجود نہیں ہیں۔ گزشتہ ہفتے کی رات 36 افراد کی ٹیم نے رات کے اندھیرے میں کارروائی کرتے ہوئے راجو کو زنجیروں اور اس کے ظالم مالک سے نجات دلائی۔ یہ ٹیم 10 ایس او ایس عہدیداران، 20 محکمہ جنگلات کے افسران اور 6 پولیس اہلکاروں پر مشتمل تھی۔ ٹیم کے لیے یہ ایک انتہائی جذباتی کارروائی تھی۔ ٹیم کے ممبر یہ دیکھ کر دلگیر ہو گئے کہ جب راجو کو آزادی دلائی جا رہی تھی تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ٹیم کے ایک ممبر کے مطابق ”ہاتھی عظیم الشان بلکہ انتہائی عقلمند جانور ہے جو خوشی و غم کے جذبات سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ نصف صدی کی قید اور ظلم و ستم نے اسے کتنے اندوہ سے گزارا ہوگا۔ یہ حقیقی طور پر ایک قابل رحم کیس ہے مگر آج اسے معلوم ہے کہ آزادی کیا ہے“۔ زنجیروں اور ظلم و ستم کے بغیر زندگی کیسی ہوتی ہے، رحم اور محبت کے کیا معانی ہیں۔ آزادی دلانے کے بعد راجو کو ایک کھلے ٹرک میں لاد کر 350 میل دور محفوظ پناہ گاہ میں بھیج دیا گیا جہاں اس کی دیکھ بھال اور نگہداشت جاری ہے۔ ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ راجو کی آزادی امریکہ کے یوم آزادی کے دن وقوع پذیر ہوئی۔ راجو کو آزادی دلانے والی ٹیم کو راجو کے مالک نے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی جبکہ راجو کو بھی خوفزدہ کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ غصے میں آکر ٹیم پر ہی پل پڑے مگر ٹیم ممبران ثابت قدم رہے اور راجو کو آزادی دلا کر ہی دم لیا۔

مزید : صفحہ آخر