دہشتگردوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنے اور ان کے مواد کی تشہیر پر پابندی ہو گی

دہشتگردوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنے اور ان کے مواد کی تشہیر پر پابندی ہو گی ...

  



                                                   اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) ریاست پاکستان کیخلاف اعلان جنگ کرنے والوں کے مواد کی تشہیر پر پابندی ہو گی۔ الیکٹرانک میڈیا کا سرکاری ضابطہ اخلاق تیار کر لیاگیا، ضابطہ اخلاق کے مسودے کے مطابق الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈیکٹ 2014 ءپیمرا آرڈیننس 2002 ءکے تحت تیار کیا گیا ہے۔ مجوزہ ضابطہ اخلاق میں ریاست پاکستان کیخلاف اعلان جنگ کرنے والوں کے مواد کی تشہیر، فرقہ وارانہ یا قومیت کے خلاف نفرت انگیز ریمارکس پر پابندی ہو گی۔ منشیات کی تشہیر، مذہبی ہم آہنگی کے منافی پروگرام اور دہشت گردی کے واقعات میں لوگوں کے جاں بحق ہونے کی براہ راست کوریج نہیں کی جائے گی۔ چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز کی جانب سے حذف کئے جانیوالے ریمارکس کی تشہیر نہیں کی جا سکے گی۔ دہشت گردوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنے اور جن مطلوب افراد کے سر کی قیمت مقرر ہو ان کے انٹرویوز دکھانے پر پابندی ہو گی۔ پروگراموں میں سیاسی جماعتوں کو یکطرفہ طور پر تنقید کا نشانہ بنانے پر پابندی عائد ہو گی۔ ضابطہ اخلاق کے مسودے میں عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے والے ٹاک شوز پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ کوئی چینل دس فیصد سے زیادہ غیر ملکی مواد نشر نہیں کر سکے گا۔ ضابطہ اخلاق کی تیاری کیلئے وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جبکہ ضابطہ اخلاق پی بی اے، اے پی این ایس اور سی پی این ای کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے ۔

مزید : صفحہ اول


loading...