24گھنٹے بجلی اور گیس سپلائی نہ ملی تو فیکٹری ورکرز کو فارغ کر دیا جائیگا ، آپٹما

24گھنٹے بجلی اور گیس سپلائی نہ ملی تو فیکٹری ورکرز کو فارغ کر دیا جائیگا ، ...

                                      لاہور(کامرس رپورٹر) آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے 24گھنٹے بجلی اور گیس کی سپلائی نہ دی تو آئندہ ایک دو روز میں مزدوروں اور فیکٹری ورکرز کو فارغ کر دیا جائے گا۔ گزشتہ روز ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ سے پنجاب کی ٹیکسٹائل ملوں کو گیس اور بجلی کی سپلائی نہیں دی جا رہی جس کی وجہ سے پنجاب کی ملیں10گھنٹے جب کہ55ملیں 24گھنٹے بند رہتی ہیں جس سے10لاکھ مزدور اور فیکٹری ورکر بے روز گار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ7جولائی کو ہونے والی جنرل باڈیز میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیاہے کہ ایک بار وفاقی حکومت سے مل کر مسائل کو دوبارہ ان کے سامنے رکھا جائے گا اور اگر وفاقی حکومت نے مسائل حل نہ کیے تو پھر آئندہ چند روز میںپنجاب کی تمام ملیں مکمل طورپر بند کر دی جائیں گی جس کی وجہ سے عید سے قبل 1کروڑ مزدور اور فیکٹری ورکر ز کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدت میںگزشتہ چار ماہ کے دوران2ارب8کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی آ چکی ہے اور اگر حالات یہی رہے تو پھر رواں مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کی برامدات میں 6ارب24کروڑ سے زائد کی کمی ہو گی ۔ ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ وہ اپنے عہدیداروں کے ہمراہ آج اسلام آباد میں وزیر ٹیکسٹائل اور ارباب اختیار سے ملیں گے اور ان کے سامنے اپنے مسائل رکھیں گے اور اگر پھر بھی کسی نے مسائل حل نہ کیے تو جنرل باڈیز کا ہنگامی اجلاس بلا کرپنجاب کی تمام ملیں بند کرنے کے آپشن پر غور کیا جائے گا۔ انہوںنے کہا ہے کہ بجلی کے خود مختار فیڈر پر چلنے والی 55 ملوں کو100میگاواٹ جب کہ پنجاب کی ٹیکسٹائل کی صنعت کو 250 سے 350ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی ضرورت ہے ۔

آپٹما

مزید : صفحہ آخر