گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے حقیقی مالک کی حاضری لازمی قرار ، دفاتر میں اینجٹوں کا داخلہ بند

گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے حقیقی مالک کی حاضری لازمی قرار ، دفاتر میں اینجٹوں ...

                                    لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کی انتظامیہ نے محکمے کی تاریخ میں پہلی بار موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965پر عمل درآمد رکرتے ہوئے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے لیے حقیقی مالک کی حاضری کو لازمی قرا ر دیتے ہوئے اپنے دفاتر میں ایجنٹوں کا داخلہ بند کردیا ہے۔جس کے بعد آئندہ فوجی افسر ہو یا جج، وزیر ہویا بیوروکریٹ ،گاڑی کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے لیے سبھی کوقطار میں لگنا ہوگا۔معلوم ہواہے کہ ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب نسیم صادق کے حکم پر صوبے بھر میں ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے تمام دفاتر میں ایجنٹو ں کے داخلے پر پابندی عائد کرتےہوئے گاڑی کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے لیے اصل مالک کی حاضری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کی انتظامیہ کا یہ فیصلہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965کے سیکشن 24و 25کے تحت گاڑی کا خریدار ہی رجسٹریشن کے لیے محکمے سے رجوع کرسکتا ہے۔ اسی طرح مذکورہ قانون کے سیکشن 32کے تحت گاڑی کی ٹرانسفر کے لیے بھی گاڑی کے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کی حاضری لازمی ہے۔ اور گاڑی کی رجسٹریشن سے لیکر گاڑی کی ٹرانسفر تک کہیں بھی ایجنٹ اور مختار عام یا اٹارنی کا ذکر موجود نہیں ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ محکمے کی 38سالہ تاریخ میں پہلی بار ایجنٹوں کا داخلہ بند کیا گیا ہے۔ اور ایجنٹوں پر پابندی کے باعث اگرچہ محکمے کو ریونیو میں کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ لیکن عوام الناس اس فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ کیونکہ ایجنٹوں نے محکمے میں اجارہ داری قائم کررکھی تھی۔ جس پر سائل ان کے ھاتھوں بلیک میل ہوتے تھے۔ اور ان کا وقت بھی ضائع ہوتا تھا۔ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ میں آنے والے بعض سائلوں نے نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ایجنٹوں پر پابندی کو خو ش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی برقرار رہنی چاہیے۔ اس سے محمود و ایاز کا فرق ختم ہوتا ہے۔یہ بھی معلوم ہواہے کہ اپنے سربراہ کے اس فیصلے پر محکمے کے ای ٹی او ز اور ڈائریکٹروں نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔اور کہا ہے کہ وہ کرپشن نہیں کرنا چاہتے لیکن ایجنٹ انہیں کرپشن پر مجبور کرتے ہیں۔ اور ایجنٹوں پر پابندی کے بعد ان کی عزت نفس بحال ہوگی۔

 ایجنٹوں کا داخلہ بند

مزید : صفحہ آخر