الشباب کا صومالیہ صدارتی محل پر حملہ، دفتر پر قبضہ کرلیا

الشباب کا صومالیہ صدارتی محل پر حملہ، دفتر پر قبضہ کرلیا
الشباب کا صومالیہ صدارتی محل پر حملہ، دفتر پر قبضہ کرلیا

  



موغادیشو(مانیٹرنگ ڈیسک) صومالیہ میں حکومت کے خلاف برسرپیکار جنگجو تنظیم ’الشباب‘ نے صدارتی محل پر دھاوابول دیا اور مقابلے کے بعدکچھ دیر کیلئے صدر مملکت کے دفتر پر قبضہ کیے رکھا لیکن بعد میں سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بناتے ہوئے تمام حملہ آوروں کو موت کے گھاٹ اُتاردیا۔ غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق دارلحکومت میں الشباب کے جنگجوو¿ں کے حملے کے بعد صدارتی محل سے دھماکوں کی تین آوازیں سنائی دیں۔الشباب کے ترجمان عبدالعزیز ابو مصعب نے کہا ہے کہ کمانڈوز نام نہاد صدارتی دفتر میں موجود ہیں اور کٹھ پتلی حکومت کے ہیڈ کوارٹرز پر ہمارا کنٹرول ہوچکا تھا۔

صدارتی محل میں موجود ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا ہے کہ جنگجو صدارتی محل کے احاطے میں داخل ہوگئے تھے اور اس وقت وقفے وقفے سے ان کا سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوتارہا۔

حکام کے مطابق، صومالیہ کے بین الاقوامی حمایت یافتہ صدر حسن شیخ محمد اور وزیر اعظم ابدولی شیخ احمد حملے کے وقت محل میں موجود نہیں تھے۔سیکیورٹی فورسز کے ترجمان عابدی احمد نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد تقریباً 9تھی جو سب کے سب مارے جا چکے ہیں، اور اب صورتحال مکمل طور پر سیکیورٹی اہلکاروں کی گرفت میں ہے۔پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے محل کے عقب سے دو جانب سے حملہ کیا تھا۔امریکہ کی جانب سے صومالیہ کے صدارتی محل پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں


loading...