تحریک انصاف کی حلیف جماعت اسلامی کا اپنا ایجنڈا، لانگ مارچ سے لاتعلقی!

تحریک انصاف کی حلیف جماعت اسلامی کا اپنا ایجنڈا، لانگ مارچ سے لاتعلقی!
تحریک انصاف کی حلیف جماعت اسلامی کا اپنا ایجنڈا، لانگ مارچ سے لاتعلقی!

  

 تجزیہ: چودھری خادم حسین

ہمارے ملک کی سیاست کا باوا آدم ہی نرالا ہے، انتخابات ہوئے تو حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی جگہ شکایات اور تحفظات کا اظہار کیا تاہم مجموعی طور پر سبھی نے انتخابی نتائج کے مطابق اسمبلیوں میں حلف اٹھائے اور جمہوریت کی گاڑی کو چلاتے رہنے کا اعلان کرکے بات آگے بڑھائی، برسر اقتدار آنے والی جماعت نے اپنے جماعتی پروگرام اور انداز سے امور مملکت سرانجام دینا شروع کردئیے تاہم کل تک جن مسائل کی بنیاد پر یہ حضرات سابقہ حکومت پر گرجتے برستے تھے انہی نے ان کو بھی گھیر لیا، اس حکومت کے مخالفین نے ان عوامی مسائل کا ذکر تو کیا اور معترض بھی ہوئے لیکن مسلم لیگ (ن) کی طرح مینار پاکستان پر کیمپ نہیں لگائے اور سبھی جمہوریت جمہوریت کھیلنے لگے، لیکن حکمران جماعت کے انداز و اطوار میں تھوڑے عرصہ میں جو تبدیلی آئی وہ یہ تھی کہ عوامی مسائل تو حل نہ ہوئے بڑے بڑے منصوبے شروع اور بنانے کے اعلان ہونے لگے۔

انہی حالات میں تحریک انصاف نے انتخابی دھاندلی کو ایشو بنالیا اور پھر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کے پیچھے لگ گئی، محترم عمران خان نے اس سلسلے میں عدلیہ پر بھی اعتراض کیا اور نگران حکومتوں کو بھی موردِ الزام ٹھہرایا، ان کا خصوصی ہدف پنجاب رہا۔ ان کے اراکین کی طرف سے انتخابی عذرداریاں بھی دائر کی گئیں۔ ضمنی انتخابات میں بھی حصہ لیا گیا اس کے باوجود یہ مطالبہ سامنے آگیا کہ موجودہ الیکشن کمشن کو ختم کرکے وفاقی اور صوبائی سطح پر نیا خود مختار، غیر جانبدار الیکشن کمشن بنایا جائے تاکہ آئندہ شفاف الیکشن ہوسکیں، اس سلسلے میں چار حلقوں کا مطالبہ ہوا جو شدت اختیار کرچکا اور اب بات مڈٹرم تک ہے۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

بہرحال پاکستان تحریک انصاف نے 14 اگست کے لئے لانگ مارچ کا اعلان کیاہوا ہے، دوسری طرف ڈاکٹر طاہرالقادری کینیڈا سے انقلاب طے کرا چکے ہیں اور بدانتظامی نے ان کو سیاست کرنے کے لئے نعشیں بھی مہیا کردی ہیں۔ اب وہ ہر روز گرج برس رہے اور دھمکی پر دھمکی دیتے چلے جاتے ہیں ان کے الفاظ میں کاٹ ہوتی ہے، وہ نہ تو عدالتی کمشن اور نہ ہی تحقیقاتی ٹیم سے تعاون کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ان کی سنی نہیں گئی وہ کیوں تعاون کریں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کو چودھری برادران کی تائید و حمایت حاصل ہے جو دوسری حکومت مخالف جماعتوں سے بھی رابطوں کی کوشش میں ہیں، یوں حکومت مخالف دو بڑے محاذ کھل چکے ہیں۔

جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو وہ ابھی تک اپنے لانگ مارچ میں اکیلی کھڑی نظر آرہی ہے حد تو یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں حلیف جماعت، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی ٹکا سا جواب دے دیا اور کہا ’’ہم لانگ مارچ کے ساتھ نہیں، جمہوریت کو ڈی ریل کرنے والی کسی تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے‘‘ جماعت اسلامی ایک نظریاتی جماعت ہے اور یہ اپنے نظریاتی مقاصد کے حصول ہی کے لئے سیاسی سرگرمی دکھاتی اور اس میں حصہ لیتی ہے، اب امیر جماعت سراج الحق کہتے ہیں کہ وہ عید کے بعد جماعت کا اپنا پیغام لے کر نکلیں گے اور عوام کو قائل کریں گے لیکن یہ سب جمہوریت کے اندر ہرتے ہوئے ہوگا۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس وقت جب فوج شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں سے نبردآزما ہے، لاکھوں لوگ بے گھر ہوکر مسائل کا شکار ہیں ہر کوئی ادھر توجہ مبذول کئے ہوئے ہے، متحدہ نے اظہار یکجہتی کے لئے بڑا جلسہ کیا تو اس سے پہلے الطاف حسین نے تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک سے اپنے اپنے پروگرام ملتوی کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔

اب صورت حال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی، اے این پی، جمیعت علماء اسلام (ف) اور دوسری اہم جماعتوں نے تو لانگ مارچ اور ’’یوم انقلاب‘‘ سے اغماض برتا ہی تھا کہ اب جماعت اسلامی نے بھی واضح کردیا ہے کہ وہ بھی خود اپنے پروگرام پر عمل پیرا ہوگی کسی کی کاسہ لیسی نہیں کرے گی۔ ایسے میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ یا طاہر القادری کے یوم انقلاب سے کوئی بڑی امید تو وابستہ نہیں کی جاسکتی البتہ یہ خدشہ یقینی طور پر موجود ہے کہ اس سے خلفشار بڑھے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ملک کے اندر تصادم کی صورت پیدا ہو جو موجودہ داخلی اور خارجی حالات سے مطابقت نہیں رکھتی، بہتر عمل وہ ہے جو تحریک انصاف نے پارلیمانی سطح پر اختیار کیا ہے، گزشتہ روز ہی شاہ محمود قریشی اور شیریں مزاری پر مشتمل وفد نے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ سے تفصیلی ملاقات کی انتخابی اصلاحات اور چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر مذاکرات ہوئے، مزید بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا۔

مزید : تجزیہ