2روز میں 20روپے اضافہ ،ایل پی جی کے نرخ 120سے 125روپے کلو ہو گئے

2روز میں 20روپے اضافہ ،ایل پی جی کے نرخ 120سے 125روپے کلو ہو گئے

                                   لاہور(خبر نگار)مارکیٹینگ کمپنیوں کی جانب سے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد ایل پی جی 20 روپے اضافہ کے بعد 120 روپے سے 125 روپے فی کلو اور ایل پی جی کا استعمال عام صارفین کی پہنچ سے دور ہو کر رہ گیا ہے، جس کو گھریلو صارفین، ایل پی جی ڈسٹری بیوشن ، رکشہ، پک اپ و ٹیکسی مالکان سمیت دیگر صارفین نے مسترد کر دیااور اسے ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کیلئے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے بعد جہاں عام صارف متاثر ہو گا وہاں ایل پی جی مہنگی ہونے کے باوجود نایاب ہو کر رہ گئی ہے اور اس کی بلیک میں فروخت عروج پر پہنچ گئی ہے، دوسری جانب ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کیخلاف رکشہ یونین کے صدر مجید غوری نے کہا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ظالمانہ اقدام اور غریب کش عمل ہے ، ایل پی جی کی قیمتوں میں فی الفور کمی کی جائے کیونکہ اس سے مہنگائی زور پکڑے گی اور ایک عام شہری کیلئے رکشہ ، پک اپ اور ٹیکسی جیسی سستی سواری اس کی پہنچ میں نہیں رہے گی، اس کے ساتھ ساتھ رکشہ، پک اپ، ٹیکسی ڈرائیور اور گھریلو صارفین ندیم احمد، فرید بابر، مرزا کامران، اسد علی خان، عبدالستار، چودھری نعمت علی، نصیر احمد اور ارشد محمود نے ”پاکستان سروے “ میں کہا ہے حکومت نے ایک جانب سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے تو دوسری جانب گھروں میںگیس نہیں آرہی ہے ،سحری اور افطاری کے اوقات کے دوران ایل پی جی متبال ایندھن کے طور پر استعمال کررہے ہیں اب ایل پی جی کی قیمتوں میں گزشتہ 3دنوں کے دوران 3مرتبہ اضافہ کردیا گیا ہے ایل پی جی پہلے بلیک میں 105روپے سے 110روپے تک مل رہی تھی اور اب قیمتوں میں اضافہ کے بعد 125سے 130تک مل رہی ہے حکومت نے ایل پی جی کی قیمتوں میں ماہ رمضان کے دوران اضافہ کرکے عوامی دشمنی کا ایک ثبوت دیا ہے ،وزیراعظم فو ری طور پر نوٹس لے کر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کو واپس لینے کا حکم دیں اور اس کے ساتھ ایل پی جی کی بلیک میں فروخت کے دھندے کیلئے بھی اوگرا اور ضلعی حکومتوں کی ٹیموں کو الرٹ کیا جائے۔

ایل پی جی

مزید : صفحہ آخر