لاہور کی 1کروڑ سے زائد کی آبادی کا تحفظ کر نے والی ایلیٹ فورس پر ایلیٹ کلاس نے قبضہ جما لیا

لاہور کی 1کروڑ سے زائد کی آبادی کا تحفظ کر نے والی ایلیٹ فورس پر ایلیٹ کلاس نے ...

  



                                      لاہور(شعیب بھٹی )شہر لاہور کی 1کروڑ سے زائد کی آبادی کا تحفظ کرنے والی ایلیٹ فورس پر "ایلیٹ کلاس "نے قبضہ جما لیا۔ مذکورہ فورس عوام الناس کی حفاظت کرنے کی بجائے وزیراعظم پاکستان سمیت دیگر اہم سیاسی شخصیات و دیگر حکام بالا کے پروٹوکول کی ڈیوٹیاں دینے پر مجبور ہیں ۔واضح رہے کہ عوام الناس کے تحفظ اور دہشت گردی کی روک تھام کے لئے بنائی جانے فورس کے 4ہزار جوانوں کووزیر اعظم ہاﺅس ،وزیراعلی سکیورٹی فورس ،گورنر ہاﺅس ،سی سی پی او ،وزراء،مشیروں سابقہ صدر سمیت اہم سرکاری افسران کی حفاظت پر مامورکردیا گیاہے جبکہ غریب عوام کے لئے تقریبا300 کے قر ےب ایلیٹ فورس کے جوان مختص کئے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں جرائم کے خاتمہ کے لئے بنائی جانے والی ایلیٹ فورس کے 4ہزار جوانوں کو عوام الناس کی حفاظت سے دور کر دیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ مذکورہ فورس بنانے سے قبل بلندو بانگ دعوے کئے گئے تھے کہ عوام کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک خاص تربیت یافتہ فورس کی تشکیل دی جا رہی ہے جس کو صرف عوام کی خدمت کے لئے وقف کیا جائے گا جس کو ایلیٹ فورس کا نام دیا گیا تھا جس کی تشکیل کے لئے بڑی تیزی بھی دکھائی گئی اس فورس کو ماڈرن طریقہ سے تربیت دی گئی اور ٹرینڈ کرنے کے بعد اس فورس کا عوام میں تو کوئی وجود دکھائی نہیں دیا البتہ حکام بالا کے ساتھ مکمل یکجہتی دکھائی دی اس ایلیٹ فورس کا کام ایلیٹ کلاس کی حفاظت کرنا ہی رکھا جا رہاہے جس میں سب سے زیادہ نفری وزیر اعظم میاں نواز شریف کے رائیونڈ پیلس پر تعینات کی گئی ہے جس کی تعداد تقریبا 1200اہلکار ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر ایلیٹ فورس کے 150سے زائد جوان وزیر اعلی کے سکیورٹی قافلے میں متعین ہیں اس کے بعد گورنر ہاﺅس کا نمبر آتا ہے جہاں سکیورٹی کے لئے بڑی تعداد میں ایلیٹ فورس کے جوان تعینات ہیں اس کے بعد اعلی پولیس حکام جن میں آئی جی، ایڈشنل آئی جی،ڈی آئی جیز سمیت وزارات داخلہ کے افسران ،اس کے ساتھ ساتھ منسٹرز شامل ہیں اس کے بعد سب سے زیادہ سکیورٹی سابق صدر آ صف علی زرداری کے گھر بلاول ہاﺅس کے گردو نواح میں ایلیٹ فورس کے جوان تعینات کئے گئے ہیں باقی جو بچ گئے ہی ان کی تعداد تقریبا 300کے قریب ہے جن کو عوام کی سہولت کے پیش نظر عوام کے لئے رکھا گیا ہے مگر جب کبھی کوئی وی آئی پی مومنٹ ہو یا بیرون ملک سے کوئی صدر یا اعلی شخصیت ملکی دورے پر تشریف لائے تو عوام سے یہ سہولت واپس لے لی جاتی ہے ،اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام کے لئے کسی خاص تربیت یافتہ فورس جو کہ تیزی سے ایکشن کر سکے کی ضرورت ہے مگر افسوس کے غئیر تسلی بخش تربیتی مراحل سے گزری پولیس فورس کو عوام کی حفاظت پر معمور کیا گیا ہے جن کے پا س نہ تو کام کا اسلحہ ہے اور نہ ہی چلانے کی وہ صلاحیت جس کی عوام کو ضرورت ہے ،اسی بنا پر شہر بھر میں حکومت جرائم کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے اگر اس فورس کا بڑا حصہ تھانوں میں تعینات کر کے ان کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشنوں پر لگایا جائے تو شائد اس کے نتائج بہت بہتر ہوں اورپولیس کو ماورائے عدالت قتلوں اور جعلی پولیس مقابلوں کی بھی ضرورت پیش نہ آئے۔

ایلیٹ فورس

مزید : صفحہ آخر


loading...