ایرانی خاتون صحافی کوحکومت کیخلاف پراپیگنڈہ مہنگاپڑگیا

ایرانی خاتون صحافی کوحکومت کیخلاف پراپیگنڈہ مہنگاپڑگیا
ایرانی خاتون صحافی کوحکومت کیخلاف پراپیگنڈہ مہنگاپڑگیا

  

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت مخالف پراپیگنڈہ مہم کے الزام میں ایرانی صحافی اور بلاگر خاتون مرزیہ سولی کو دو سال قید اور 50 کوڑوں کی سزا سنادی گئی۔

 سزا پانے والی صحافی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ جنوری 2012ءسے شروع ہونیوالے مقدمے میں اسے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پراپیگنڈہ پر مبنی مواد شائع کرنے اور نقص امن کا باعث بننے کی بنیاد پر سزا سنائی گئی ہے۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق مقدمے کے اندراج کے کچھ ہی عرصے بعد ملزمہ کوگرفتار کر لیا گیا تھا تاہم مقدمے کا فیصلہ تقریباً اڑھائی سال بعد سامنے آیا ہے جبکہ سرکاری ٹی کی ایک رپورٹ میںدعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتون صحافی کے غیر ملکیوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔

خاتون صحافی کو سزا سنائے جانے پر بعض صحافتی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان صحافیوں کو توقع تھی کہ ڈاکٹر حسن روحانی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سیاسی، ثقافتی اور صحافتی آزادیوں کی صورت حال بہتر ہو جائے گی لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا۔

رسولی اس سے پہلے اصلاح پسند روزناموں سے وابستہ رہ چکی ہیں اوران میں شارغ اور اعتماد نام کے اخبارات بھی شامل ہیں۔ وہ موسیقی اور آرٹ کے موضوعات پر لکھنے کے ساتھ ساتھ کتب پر تبصرے کرنے کی شہرت رکھتی ہے۔

مزید : انسانی حقوق